اوباما کی ایران سے معذرت اور عربوں پر تنقید

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

میں نے امریکی صدر براک اوباما کے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے حالیہ انٹرویو کو نظرانداز کرنے کی بہت کوشش کی ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ یہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے فریم ورک سمجھوتے کے حق میں ان کی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے مگر اس کے باوجود اس انٹرویو کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔اوباما صاحب نے اس خطے میں رہنے والے بہت سے لوگوں کے خدشات دور کرنے کے بجائے انھیں اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے۔


خطے کےامور کے بارے میں سب سے باخبر صحافی اور نیویارک ٹائمز کے سب سے مشہور لکھاری تھامس فرائیڈمین نے صدر اوباما سے انٹرویو لیا تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی قوم کا لیڈراپنے نکات سے متعلق دلائل دیتے ہوئے پایا گیا ہے،چہ جائیکہ وہ ان کا کوئی جواز پیش کرتا۔

اس گفتگو کا سب سے حیرت انگیز پہلو صدر اوباما کی جانب سے ایرانی رجیم کی تعریف وتوصیف اور اس کے اقدامات کا جواز پیش کرنا تھا۔وہ اظہار خیال کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکا کے اقدامات پر احساس گناہ بھی محسوس کررہے تھے۔

میں نہیں جانتا کہ امریکی صدر رات کو سونے سے پہلے کون سی کتابیں پڑھتے ہیں یا وہ گذشتہ تین دہائیوں کے واقعات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔تہران کی ذہنیت اور عملی اقدامات بالکل القاعدہ ایسے ہیں۔یعنی مذہبی ،فاشسٹ اور اپنے نظریے کی مخالفت کرنے والے کسی بھی فرد کے خلاف وہ ہوجاتے ہیں۔تہران کی باقی دنیا کی تصویر کشی اور تفہیم یہ ہے کہ وہ اس کو عقیدہ رکھنے والے یا کافروں میں تقسیم کرتے ہیں۔یہ ایران ہی ہے جو مذہب کے جھنڈے تلے خطے میں تشدد کا زیادہ تر ذمے دار ہے اور اس نے یہ سب کچھ القاعدہ کے ظہور پذیر ہونے سے بھی پندرہ برس قبل کیا تھا۔

اوباما صاحب نے ایرانی رجیم کے بارے میں تو معذرت خواہانہ رویہ اپنایا ہے اوراس کو جوہری سمجھوتے کی شکل میں فراخدلانہ تحفہ دیا ہے جبکہ انھوں نے عربوں کے بارے میں سخت لب ولہجہ اختیار کیا لیکن ان کی اس سختی کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔مثال کے طور پر انھوں نے کہا کہ عربوں کو ایرانی خدشے کے بارے میں بیانات جاری کرنے کے بجائے بشارالاسد کے جرائم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔

میں نے اس پیرے کو ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہے اور اس کو اس کے سیاق وسباق کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی ہے لیکن میں اس کے تضادات کو سمجھنے سے قاصر رہا ہوں۔اسد رجیم کے جرائم، جن کے نتیجے میں قریبا ڈھائی لاکھ افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ایک کروڑ سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں،ایران کی براہ راست حمایت اور مداخلت کا نتیجہ ہے۔جی ہاں! وہی ایران جس کی اوباما صاحب تعریف فرما رہے ہیں اور اس سے معذرت خواہ ہیں۔

پھر اوباما عربوں کو ہدف تنقید بناتے ہیں کیونکہ انھوں نے اسد رجیم کے خلاف جنگ نہیں لڑی ہے جبکہ یہ ان کی حکومت ہے جس نے عربوں کو بشارالاسد کے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے جنگی طیاروں کو روزانہ شامی شہروں پر بمباری سے روکنے کے لیے جدید ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیے تھے۔

اب چار سال ہونے کو ہیں۔شامی باغی بشارالاسد کی فورسز کے مقابلے میں کلاشنکوف اور مارٹروں جیسے ہلکے ہتھیاروں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنا دفاع کررہے ہیں۔یہ اس وجہ سے ہے کہ امریکا نے انھیں کسی بھی پارٹی سے طاقتور ہتھیار خریدنے یا حاصل کرنے ہی نہیں دیے ہیں۔

پھر براک اوباما اپنے خلیجی اتحادیوں پر یہ کہتے ہوئے تنقید کرتے ہیں کہ ان کے خدشات داخلی ہیں اور یہ ان کے اپنے عوام کے عدم اطمینان کے علاوہ انتہاپسندی ،دہشت گردی اور بے روزگاری کا نتیجہ ہے۔یقیناً یہ سب کچھ درست ہے اور کوئی بھی داخلی چیلنجز کی موجودگی سے انکار نہیں کرتا ہے۔تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خلیج امریکا کے ایران کے ساتھ طے پائے ایک ایسے سمجھوتے کے بارے میں اپنی آواز ہی نہ اٹھائے جس کے نتیجے میں خلیج کو ڈرانے والے ہاتھ ہی کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس میں تضادات ہیں۔یہ ایسے ہی ہے کہ ہم امریکی صدر کو یہ کہیں کہ انھیں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اور القاعدہ کے بارے میں کوئی زیادہ پشیمان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انھیں بھی بے روزگاری اور صحت عامہ کی نامناسب سہولتوں ایسے قومی مسائل کا سامنا ہے۔یہ دونوں ایشوز باہم متناقص نہیں ہیں۔

عرب ہونے کے ناتے ہم اوباما کے ایران کے ساتھ مصالحتی سمجھوتے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس ہم اس سے متفق ہیں کیونکہ ہم ایک کمزور فریق ہیں۔ہماری امید یہ ہے کہ ہم سب امن کو پا لیں اور تنازعات کا خاتمہ ہوجائے۔تاہم اوباما ایران پر پابندیاں ختم کرکے اس ملک کے ساتھ سد راہ دیوار ہی مسمار کررہے ہیں۔اس دوران ایران اپنے جنرلوں اور فوجیوں کو شام اور عراق میں لڑنے کے لیے بھیج رہا ہے اور یمن میں حوثی باغیوں کو رقوم مہیا کررہا ہے۔

جن لوگوں نے فرائیڈمین کے ساتھ اوباما کا انٹرویو پڑھا ہے،ان کا کہنا ہے کہ شاید صدر براک اوباما اپنا نام تاریخ کی کتابوں میں درج کرانا چاہتے ہیں۔وہ سابق صدر رچرڈ نکسن کی طرح سیاست میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔انھوں نے بھی چین کے ساتھ تعلقات استوار کرتے وقت ایسے ہی کیا تھا۔تاہم ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔چین اور ایران کا موازنہ درست نہیں ہے بلکہ یہ شمالی کوریا کی طرح ہے۔چین ایک ایسا ملک ہے جو خود سے زیادہ قریب ہے اور وہ ایران کی طرح دنیا بھر میں جنگوں اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کا حصہ نہیں رہا ہے۔ایران نے تو گذشتہ تین دہائیوں سے بلا کسی تعطل کے ایسی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

حیران کن امر یہ ہے کہ جب اوباما کے بیانات شائع ہوئے تو امریکی صدر کے قومی سلامتی کے نائب مشیربن رہوڈز عربوں اور خلیج سے مخاطب ہوئے۔ان کی مدح سرائی کی اور انھیں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ امریکا ان کے ساتھ ہے لیکن ان کے بعض بیانات صدر اوباما کے فرائیڈمین کو دیے گئے انٹرویو سے بالکل برعکس اور منافی تھے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں