پاکستان کاقومی اعلامیہ

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان کا فیصلہ سامنے آ گیا۔ ہم یمن تنازعے میں غیر جانبدار رہیں گے، اس لئے کہ ایک غیر جانبدار فریق ہی ثالثی کروانے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ ہم نے سعودی عرب کویقین دلایا ہے کہ وہ ایک برادرا سلامی ملک، قریبی اتحادی اور ہمارا محسن ملک ہے، اس کی سکیورٹی پر آنچ آئی تو ہم اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ اس مدبرانہ فیصلے پر میں پوری قوم کو داد اور مبارک باد دیتا ہوں۔
دو ہفتے قبل جب عرب اتحاد کے طیاروں نے یمن پر فضائی بمباری شروع کی تو مجھے کچھ اندازہ نہیں تھا کہ اس سنگین ، حساس ، جذباتی اور حساس مسئلے پر قوم کی رائے کیا ہو گی، میںنے کاغذ قلم پکڑااور وہ کچھ لکھ دیا جسے میں سچ اور حق سمجھتا تھا اورا سے دو ہفتے تک دہراتا چلا گیا، حتیٰ کہ قوم نے یہی فیصلہ سُنا دیا۔ حکومت شاید یہ نہیں چاہتی تھی اورا س کی مجبوری سمجھ میں آتی ہے، میں حکومت کا مذاق نہیں اڑانا چاہتا، انتہائی آزمائش کی گھڑی میں سعودی عرب نے شریف برادران کی نہ صرف جان بچائی تھی بلکہ انہیں عزت و تکریم بھی دی اور اب وقت آیا ہے کہ وہ سعودی احسانات کا بدلہ چکائیں مگر قوموںکے مسئلے، ذاتیات کے تناظر میں طے نہیں کئے جاتے۔

وزیر دفاع نے باقاعدہ کوشش کی کہ پارلیمنٹ میں کوئی اتفا ق رائے نہ ہو سکے، انہوںنے کئی ماہ کی غیر حاضری کے بعد ایوان میں آنے والی پی ٹی آئی کا مضحکہ اڑایا ، تمسخر کیا، فقرے کسے، حالانکہ پی ٹی آئی اس روز صرف سعودی عرب کی خاطر ایک تاریخی اجلاس میں شریک ہونے کے لئے آئی تھی، وزیر دفاع نے ان کے جذبے کی تحقیر کی۔ وزیراعظم نے خاموش رہ کر وزیر دفاع کو گالی گلوچ کا کھلا لائسنس دیا، دو روز قبل وہ خیبر پی کے میں ایک جلسے کے دوران خود بھی پی ٹی آئی پر برسے، وزیراعظم نے کہا کہ قوم یوٹرن لینے والوں کو مسترد کر دے۔ صدقے واری جاﺅں اس دلیل کے، یہی وزیراعظم مسلسل کہہ رہے تھے کہ عمران خان پارلیمنٹ میں آئیں، سڑکوں پر فیصلے نہ کریں اور پھر انہی وزیراعظم کے نامزد سپیکر کے بس میں تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے استعفے قبول کر کے انہیں یوٹرن لینے کے قابل ہی نہ چھوڑیں۔

وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر خزانہ قوم کو اعتماد میں لئے بغیر سعودی عرب گئے اور وعدے وعید کر آئے، وزیر اعلیٰ پنجاب کس آئین کے تحت خارجہ معاملات میں دخل اندازی فرما رہے تھے اور وزیر خزانہ نے اپنے کیلکولیٹر پر کیا حساب کتاب لگایا، کسی نے قوم کو کچھ نہ بتایا ، راز تب کھلا جب سعودی طیارے یمن کی فضاﺅں کو چیرنے لگے اور وزیراعظم نے فرمادیا کہ وہ سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ مگریہ ان کی انفرادی سوچ تھی، مجھے صاف نظر آ رہا تھا کہ دو تہائی اکثریت رکھنے والا وزیراعظم قوم کی نبض پہچاننے سے قاصر ہے۔

قوم اپنی فوج کے لئے محاذ جنگ پھیلانے کے موڈ میں نہیں تھی، قوم کو طویل عرصے اور قیمتی جانوں کی قربانی کے بعد قدرے سکون محسوس ہوا تھا، فوج نے ضرب عضب کو اپنے ایمان کا حصہ بنا لیا تھا۔ پوری دنیا دہشت گردی کے ہاتھوں نالاں تھی، شکست خوردہ دکھائی دے رہی تھی، پاک فوج نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر عالمی افواج سے بھی تحسین پائی۔ یہ فوج ایک ہزار کلو میٹر دور کیسے بھجوائی جا سکتی تھی، دہشت گرد قوم کے خو ن کے پپاسے تھے، بھارتی افواج بھی پیچھے نہیں تھیں، جب چاہتیں، ورکنگ باﺅنڈری اور کنٹرول لائن پر گولہ باری شروع کر دیتیں۔ کیا پاکستان کو ان خون آشام بلاﺅںکے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا تھا اور وہ بھی صر ف اس لئے کہ یمن میں خانہ جنگی چھڑ گئی تھی، اس جنگ پر قابو پانے کے لئے عرب اتحاد کی افواج مصروف عمل ہو گئی تھیں تو ان کی کارکردگی کے نتائج کا انتظار کرنا ہی دانشمندی تھی۔

سعودی عرب کو دکھانے کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس ضروری ہو گیا تھا، وزیراعظم خود اس پوزیشن میں نہ تھے، نہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بس میں تھا اور نہ وزیر خزانہ کسی تخمینے تک پہنچ سکے تھے، یہ تینوں سعودی عرب سے معذرت کرنے کے قابل نہ تھے، سو انہوں نے پارلیمنٹ کے کندھے استعمال کئے، بھلا ہو پارلیمنٹ کا کہ اس کے ارکان کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے۔

مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سعودی عرب تنہا ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے، سعودی عرب کے لئے تن من دھن بھی قربان ہے، یہ مرحلہ ابھی نہیں آیا۔ کس میں جرا¿ت ہے کہ سودی عرب کا للکارے۔ ایران تو بالکل سے نہیں اور یمن، مَیں نے پہلے کہا ہے کہ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ، یمنی عوام ایک دوسرے کا سر پھوڑنے سے فارغ ہوں گے تو سعودی عرب کی طرف توجہ دے سکیں گے۔ پنجابی میں کہتے ہیں، اوہ دن ڈُبا، جدوں گھوڑی چڑھیا کبا۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ یمنی باغی سعودی عرب پر چڑھائی کریں گے تو میرا ہاسا نکل جاتا ہے، اور کیا کروں، یمنیوں سے ڈرنے لگ جاﺅں۔

دعا دیں پشاور کے ننھے فرشتوں کو جن کے خون نے قوم کو متحد کر دیا، کچھ لوگ طنز کرتے ہیں کہ یہ ایک ۔۔۔ سافٹ کو ۔۔۔ تھا، اب فوج نے باگ ڈور سنبھال لی تھی، سارے فیصلے آرمی چیف نے کرنے شروع کر دیئے تھے، اور اگر وہ سارے فیصلے کر بھی رہے تھے تو کونسا فیصلہ ایسا ہے جو غلط ثابت ہوا۔ کیا جنوبی وزیرستان میں مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع نہیں ہو گیا، کیا کراچی کے لوگ بھتہ خوروں سے چھٹکارا نہیں پا چکے اور کیا ایم کیو ایم کے گڑھ نائن زیرو، عزیز آبادکے سامنے عمران خان جلسہ نہیں کر رہا۔ ایسا تو سوچا بھی نہ جا سکتا تھا۔

دعا دیں وزیراعظم کو جنہوں نے اپنی عادت کے برعکس فوج سے محاذ آرائی اختیار نہیں کی۔ ہو سکتا ہے، انہوں نے یہ سبق زرداری سے سیکھا ہو کہ انہوں نے نیویں نیویں ہو کر پانچ برس نکال لئے۔ جو بھی ہو ، اس کے نتائج ملک اور قوم کے حق میں اچھے نکلے۔
دعا دیں پارلیمنٹ کو جس نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھا اور ایسا اعلامیہ جاری کیا جسے میں، پاکستان کا قومی اعلامیہ سمجھتا ہوں۔ کیا کوئی مجھے بھی داد دے گا!

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size