گاڑیوں کی نمبر پلیٹس پر ادیبوں کی تصویریں

عطاء الحق قاسمی
عطاء الحق قاسمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے میری تشویش میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ادیبوں، دانشوروں، اداکاروں، گلوکاروں، موسیقاروں، مصوروں اور فنون لطیفہ کے شعبوں کے متعلقہ افراد سے اس کی قیادت کے ذاتی رابطے تو تھے، مگر حکومتی سطح پر ان کی پذیرائی اس طرح کی نہیں ہوتی تھی جس کا یہ طبقہ حقدار ہے! مگر اب میں کئی برسوں سے دیکھ رہا ہوں کہ اس پذیرائی کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی اچھی بات نہیں کیونکہ ماضی کی کئی حکومتیں تو انہیں شُودر سمجھ کر خود سے دورہی رکھتی چلی آرہی ہیں۔

مگر لگتا ہے کہ مسلم لیگ کی وفاقی اور صوبائی حکومت نے انہیں سر کا تاج بنانے کافیصلہ کر رکھا ہے۔ الحمرا آرٹس کونسل کے اعزازی چیئرمین کی حیثیت سے میں متعدد تقریبات اور ایوارڈز کے علاوہ ہر سال ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے اہتمام میں شریک ہوتا رہا ہوں۔ ان کانفرنسوں میں اندرون اور بیرون ملک سے فنون لطیفہ کی ممتاز شخصیات شریک ہوتی ہیں اور مجھے کوئی ایک بھی ایساموقع یاد نہیں جب وزیراعظم یاوزیراعلیٰ نے خوداس کانفرنس کا افتتاح نہ کیا ہو۔کبھی کبھار تو اس موقع پر تشریف لائے ہوئے مندوبین کو چیف منسٹر پنجاب اپنے گھر ناشتے پر بھی مدعو کر لیتے ہیں۔ ان کانفرنسوں کی شہرت اور پذیرائی کے نتیجے میں اب بہت سی این جی اوز بھی الحمرا کے تعاون سے فنون لطیفہ کے گرد گھومتی کانفرنسیں منعقد کرنےلگ گئی ہیں بلکہ ا ن تقریبات کا دائرہ لاہور تک نہیں بلکہ پورے ملک تک پھیل گیا ہے۔ حکومت پنجاب کے زیرانتظام چلنے والی الحمرا آرٹس کونسل ان سب کے لئے اپنے دامن کو کشادہ سے کشادہ تر کرتی چلی جارہی ہے۔

یہ تمہید تو صرف برائے تمہید تھی کیونکہ وفاقی حکومت بھی اس ضمن میں بہت تیزی دکھا رہی ہے۔ میری اطلاع کے مطابق ہمارے دوست ملکوں سے آئے ہوئے وزرائے اعظم اور صدور کی اسلام آباد آمد پر وزیراعظم کی طرف سے ان کے اعزاز میں جو ضیافت دی جایا کرے گی اس میں صف اول کے ادیبوں کو نہ صرف مدعو کیا جائے گا بلکہ معزز مہمانوں سے ان کا تعارف فخریہ انداز میں کرایا جائے گا۔ ایک انتہائی خوش آئند اطلاع یہ ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ حکومت نے جہاں شاہراہوں ، فلائی اوورز، انڈر پاسز اور پارکس وغیرہ کے ناموں کے حوالے سے بھی فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کو نظرانداز نہیں کیا وہاں اب ایک تاریخ ساز اقدام کیا جارہا ہے یعنی گاڑیوں کی نمبرپلیٹس پرممتاز (مگر مرحوم) شخصیات کی تصویریں بھی آویزاں کی جائیں گی۔ مہذب ملکوں میں تو دانشوروں کی تصویریں کرنسی نوٹوں پر بھی شائع کی جاتی ہیں۔ لگتا ہے ہماری حکومت بھی رفتہ رفتہ اس منزل کی طرف گامزن ہے…..

ایک اور خوش آئند اطلاع یہ کہ پہلے فنون لطیفہ کے حوالے سے جو سول ایوارڈز دیئے جاتے تھے اس کمیٹی میں ایک آدھ دانشور بطور ’’تبرک‘‘ تو شامل ہوتا تھا مگر وفاقی وزیر اطلاعات و ثقافت سنیٹر پرویز رشید چونکہ خود دانشور ہیں، چنانچہ وزیراعظم نے ان کے مشورے کو صائب سمجھتے ہوئے اب اس ضمن میں فنون لطیفہ سے وابستہ کسی ممتاز فرد کی رائے ہی کو زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے اور یوں کئی برسوں سے کسی بھی ایوارڈ یافتہ کے حوالے سے کوئی تنازع سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح اس مرتبہ وفاقی حکومت نے جن ثقافتی اداروں میں تقرریاں کی ہیں وہ سب شخصیات ممتاز حیثیت کی حامل ہیں اور اپنے شعبے میں ان کی اہلیت اور استحقاق اتنا واضح ہے کہ ایک انگلی بھی ان تقرریوں کے حوالے سے کسی بھی طرف سے نہیںاٹھائی جاسکی۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کی پذیرائی اتنے وسیع پیمانے پر ہے کہ اس کی تفصیل ایک کالم میں سموئی نہیں جاسکتی۔ بس اتنا جان لیں کہ پنجاب میں خصوصی جنوبی پنجاب میں ابھی تک ہزاروں ضرورت مند ادیبوں کی مالی امداد کی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب اوروفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے فنون لطیفہ سےوابستہ تمام شعبوںکے ممتاز افراد کے ماہانہ وظائف مقرر ہیں جو انہیں باقاعدگی سے مل رہے ہیں۔ یہ ایک طرح سے ان کی خدمات کا عملی اعتراف بھی ہے۔ ایک اور بات جو شاید بہت سے دوستوں کے علم میں نہ ہو، مختلف فنکاروں اور ادیبوں کو ان کی کسی ہنگامی ضرورت کے تحت حکومت پنجاب کی طرف سے لاکھوں روپے بھی ان کے گھروں تک پہنچائے گئے اور بہت سے افراد کا انتہائی مہنگا علاج بھی کرایا گیا۔

سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی کی علالت کے حوالے سے تفصیل میں گزشتہ کالم میں بیان کرچکا ہوں۔ ان کے علاوہ کئی مواقع پر وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب نے ذاتی جیب سے بھی اپنےفن دوست ہونے کا ثبوت دیا!

تاہم کچھ اچھے کام ایسے بھی ہیں جن میں اصلاح کی ضرورت ہے مثلاً لاہور میں شاہراہوں وغیرہ کے نام رکھنے کے لئے جو کمیٹی تشکیل دی گئی اس میں غالباً کوئی ایسا فرد شامل نہیں تھا جو فنون لطیفہ کے تمام شعبوں کے نمایاں افراد سے مکمل واقفیت رکھتا ہو چنانچہ بہت سے اہم نام رہ گئے اور کچھ غیر اہم نام شامل ہوگئے۔ ضرورت ہے کہ اس سہو کی تلافی کی جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے ایک گزارش یہ بھی ہے کہ الحمرا آرٹس کونسل کے بورڈ آف گورنرز نے فنکاروں کے کلب کی تجویز منظور کی تھی۔ جس کے لئے جگہ الحمرا کے پاس موجود ہے مگر یہ کروڑوں کا منصوبہ ہے۔

وزیراعظم صاحب جب الحمرا کانفرنس میں تشریف لائے تو میں نے اپنے استقبالیہ خطبے میں ان سے مدد مانگی تھی۔ انہوں نے دو کروڑ روپے دیئے مگر یہ آڈیٹوریم کی رینوویشن کے لئے تھے۔ کلب کے لئے انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ اچھا آئیڈیا ہے مگر اس کے لئے رقم شہباز شریف صاحب سے لیں۔ جناب وزیراعلیٰ یہ آپ کے ’’بڑے بھائی‘‘ کاحکم ہے لہٰذا آپ کو یہ پیسے دینے ہی دینے ہیں۔ جلدی دے دیں گے تو فنون لطیفہ کے افراد آپ کا شکریہ جلد ادا کردیں گے دیر سے دیں گے تو شکریہ بھی دیر سے ادا کریں گے۔ ویسے بھی اگر آپ خود بھولنا نہیں چاہتے تو آپ نے الحمرا کانفرنس کے مندوبین کو ناشتے کی دعوت میں اس کلب کی تعمیر کے لئے فنڈز مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا اور میں جانتا ہوں آپ وعدہ نبھانے والوں میں سے ہیں ۔ وما علینا الابلاغ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں