.

سر زمین حجاز کے دفاع میں پاکستان کا کردار

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بالآخر پاکستان کی پارلیمنٹ نے یمن میں ہونے والی پورے عالم اسلام کیلئے پرخطر خانہ جنگی پر ایک قومی پوزیشن لے لی جو اب اس مسئلے پر پاکستان کے حکومتی موقف میں تبدیل ہو گی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں موضوع پر عام بحث کے بعد پاکستانی پارلیمنٹ نے جو موقف اختیار کیا ہے اسکے مطابق’’سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو ہم اس کا ساتھ دیں گے۔ یمن تنازع میں پاکستان غیر جانبدار ہے‘‘۔

اسکا واضح مطلب ہے کہ سعودی عرب کی وہ درخواست جو اس نے اپنی سرزمین کی سرحدوں پر درپیش خطرے کے پیش نظر محدود پاکستانی بری، بحری اور فضائیہ فوج بھیجنے کیلئے اسلام آباد سے کی تھی، ہم نے اسے براہ راست تسلیم کرنے سے اجتناب کیا ہے اور یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے اس کا داخلی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس میں مداخلت سے گریز کا واضح اعلان کیا ہے۔

یہاں دو اہم سوال پیدا ہوتے ہیں، ایک یہ کہ کیا یمن کی خانہ جنگی سے سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا؟ یا ہے؟ دوسرے یہ کہ اس سوال کے درست جواب دینے کی اہل سعودی حکومت زیادہ ہے یا ہماری پارلیمنٹ؟ ہماری پارلیمنٹ نے جو موقف اختیار کیا ہے، اس کے مطابق ہم نے سعودی حکومت کے واضح اظہار کے برعکس یہ سمجھا ہے کہ سعودی سرزمین جو اصل میں پورے عالم اسلام کے لئے’’حجاز مقدس‘‘ ہے کو سر دست کوئی خطرہ نہیں، وگرنہ پارلیمنٹ سعودی درخواست پر مثبت اور عملی ردعمل کی سفارش کرتی، لہٰذا ہم نے اپنا موقف اپنی تشریح کہ’’یمن کی خانہ جنگی سعودی عرب کیلئے ایسے خطرے کا باعث نہیں کہ ہم سعودی حکومت کی درخواست پر فوجی دستے اور اپنے بحری جہاز اور لڑاکا طیارے بھیج دیں‘‘، کے مطابق اختیار کیا، تاہم پاکستان کی پارلیمنٹ میں ہونے والا یہ اتفاق بھی اہم اور بالکل درست ہے کہ یمن کی خانہ جنگی کی نوعیت فرقہ وارانہ نہیں ہے۔

جہاں تک پاکستانی رائے عامہ اور میڈیا میں آنے والے تجزیوں کا تعلق ہے اس میں یہ رائے سب سے پاپولر رہی کہ پاکستان یک دم تنازع کا فریق بننے کی بجائے ثالثی کا کردار ادا کرے اور کوئی ایسی راہ اختیار نہ کرے کہ کسی اور جنگی محاذ میں مزید الجھ جائے لیکن سعودی عرب کو بھی ہر صورت مطمئن رکھے اور جو کچھ کرے اس سے سعودی حکومت کی مایوسی کا پہلو کسی صورت نہ نکلے۔ پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے پاس اختیار کئے گئے موقف کو اختیار کرنے کا جواز یہ ہے کہ یہ جمہوری اور عوامی جذبات و احساسات اور آراء کا عکاس ہے کیونکہ پارلیمان ہی عوام کا منتخب فورم ہے، لہٰذا یہ ہی ٹھیک ہے۔

اس کے مقابل ایک تجزیہ یہ ہے کہ ہماری پارلیمان فیصلہ سازی کے حوالہ سے ایک تو معیاری فیصلہ سازی کی صلاحیت سے محروم ہے، دوسرے یہ قومی سیاسی مفادات سے زیادہ اپنے اپنے جماعتی و سیاسی مفادات کی اسیر ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہماری پارلیمان کی عوامی مفادات اور احساسات و جذبات کے مطابق قانون اور فیصلہ سازی (قومی موقف کی تشکیل) کی صلاحیت مایوس کن ہے اور اس حوالے سے یہ برائلر پارلیمان ہی ہے۔

پوری قوم پر واضح ہے کہ بحیثیت مجموعی یہ کتنی دیانتدار ،اہل اور قومی مزاج کی حامل ہے۔ اس عمومی رائے کو تقویت دینے والی دسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ دور کیوں جایا جائے، ابھی دیکھئے الگ اور مکمل وزیر خارجہ سے محروم پاکستان کی پارلیمان میں سفارتی اعتبار سے اہم ترین اور چیلنجنگ موضوع ’’تنازع یمن، سعودی سلامتی اور پاکستان کا کردار‘‘ پر تین روزہ بحث کا آغاز ہوا تو ہمارے وزیر دفاع جو بس داخلی سیاست کے تناظر میں ا پنی حکومت کا ہی حملے نما دفاع کرتے رہتے ہیں (کہ اس سے حکومتی امیج خراب ہی ہوتا ہے) بلکہ خواجہ صاحب صرف دفاع بھی نہیں کرتے دفاع سے زیادہ سیاسی حریفوں پر حملے کرتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ تیر چلاتے نہیں ان سے چلوایا جاتا ہے۔ اس کا شک عوام میں بھی پایا جاتا ہے، اگر ایسا ہے تو یہ اس باوقار منصب کے کتنا منافی ہے؟ اگر یہ درست ہے تو اس باوقار منصب کو ایسی سیاست کیلئے استعمال کرنے والے کتنے کیسے ہیں؟ وہ خود تو کبھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے تو کبھی ایسا نہ کرتے لہٰذا آپ خود ہی اندازہ لگا لیں۔ وزیر خارجہ کی عدم موجودگی میں اس کا کردار ادا کرتے ہوئے ،خواجہ آصف نے متذکرہ حساس اور اہم ترین موضوع پر بحث کا آغاز پارلیمان کا طویل بائیکاٹ ختم کرنے والی تحریک انصاف کے اراکین کو مشتعل کرنے سے کیا۔ جب انہوں نے خاصے سخت انداز میں ان کے پارلیمان میں آنے پر طعنہ زنی کی۔ آفرین ہے تحریک کے اراکین پر جنہوں نے اجلاس کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے کمال تحمل کا مظاہرہ کیا، یوں انہوں نے قومی بحث کے آغاز پر ہی پارلیمان کو انتشار سے بچا کر اپنے بلاجواز طویل بائیکاٹ کا کفارہ ادا کیا، وگرنہ خواجہ صاحب نے آگ لگانے میں کوئی کسر نہ رکھی۔ پاکستان کو جاری صورتحال میں بلند درجے پر ڈپلو میٹک اکیٹویزم کی شدت سے ضرورت ہے لیکن ملک وزیر خارجہ سے محروم ہے، جو تابع دار بزرگوں کے سپرد ہے۔ اپنی جگہ محترم لیکن نامزد اور عمر رسیدہ ہونے کے باعث کام کرنے کے مطلوبہ اعتماد (بلکہ اصل کام کرنے کی آزادی) سے بھی محروم ہیں۔

اس پس منظر میں ہم نے سعودی عرب کو درپیش سلامتی کے خطرے کی خود تشریح کرتے ہوئے متذکرہ پارلیمانی موقف اختیار کیا ہے (جسے اب حکومت لے کر چلے گی) فقیر کی نظر میں پارلیمان کا یہ فیصلہ پاکستانی رائے عامہ کا عکاس ہے نہ قومی مفادات کو اس میں پیش نظر رکھا گیا ہے۔ یہ پارلیمان کے اجتماعی لو ویژن اور داخلی طرز کی سیاست اور اس میں ہونے والے غیر معیاری فیصلوں کا عکاس ضرور ہے۔

واضح رہے کہ جب دسمبر 1979ء میں کھلی جارحیت کرکے سوویت افواج افغانستان میں داخل ہو کر اپنی لائی ہوئی نور محمد ترکئی حکومت کی ’’دعوت‘‘ (کہ ہمیں اس نے آنے کی دعوت دی ہے) پر افغانستان میں داخل ہوئیں تھیں تو ہم نے پوری فری ورلڈ کو اپنی جانب راغب کرتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار میں یہ آواز اٹھائی تھی کہ’’کمیونزم پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے،کیونکہ پاک، افغان سرحد کے ساتھ ساتھ روسی افواج افغانستان کے محدود مزاحمتی گروپس کے خلاف جو کارروائیاں کر رہی تھی، اس سے پاکستان بطور’’نیکسٹ ڈورنیبر‘‘ اپنی سلامتی کو خطرہ محسوس کر رہا تھا جبکہ امریکن بھی پورے خلیجی خطے کو اپنے گہرے مفادات (پٹرول کی مسلسل سپلائی کے باعث) کا خطہ قرار دیتے ہوئے سوویت جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔

اس وقت پاکستان نے امریکہ کی تشویش کا بھرپور سفارتی فائدہ یوں اٹھایا تھا کہ ہمارے منجھے ہوئے وزیر خارجہ آغا شاہی نے صدر جمی کارٹر کے سلامتی کے مشیر برزیسکی سے مذاکرات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم (پاکستان) گہرے امریکی مفادات کے خطے(خلیج) کا بیک یارڈ (عقبی صحن) ہیں لہٰذا امریکہ کی پاکستان کو پیش کی گئی 400 ملین ڈالر (جسے صدر ضیاء الحق نے پاکستان کو سلامتی کے بڑے خطرے میں پی نٹ سے تشبیہ دی تھی) صورتحال کی سنگینی کے مطابق نہیں، سو یہ امریکی تعاون جس سے پاکستان افغانستان میں روسی افواج کو واپس دھکیلنے کی گرینڈ گیم میں بیس کیمپ بنا اور 400 ملین ڈالر کی ’’مونگ پھلی‘‘ 3 عشاریہ 2 بلین ڈالر کی امریکی امداد میں تبدیل ہو گئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا یمن کا داخلی انتشار فقط یمن کی خانہ جنگی ہی ہے یا جیسا کہ کئی تجزیہ نگاروں کا یہ تجزیہ درست ہے کہ’’یہ ایک گرینڈ گیم کا مرحلہ ہے۔ جس میں تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ گھڑ کر اسے پروموٹ کرنے والی قوتیں کوئی بنیاد اور صورتحال نہ ہونے کے باوجود عالم اسلام پر ایک ایسا تصادم مسلط کرنے کے درپے ہیں جس کا مقصد اس کا مسلسل انتظار اور عدم استحکام ہو، شمالی افریقہ میں ’’عرب بہار‘‘ کے بعد وہاں پھر غیر جمہوری حکومتوں کا تسلسل، لیبیا اور عراق کی تباہی کے بعد سعودی عرب کے’’نیکسٹ ڈورنیبر‘‘ اور اس کے عقبی صحن (یمن) کے بھی داخلی انتشار کو خطے میں ہونے والی تیز تر سفارتی سرگرمیوں ،نئے رجحانات اور بین الاقوامی سیاست کی تاریخ کے تناظر میں پرکھا جائے تو بے ضرر اور لاتعلقی کی تاریخ کے حامل یمن کا الائو میں تبدیل ہونا معنی خیز ہے اور اس پر سعودی حکومت کی تشویش کا جواز واضح ہے۔

یہ اسی طرح ہے جس طرح ہمیں اپنے بیک یارڈ (افغانستان) میں سوویت جارحیت کے بعد گہری تشویش ہوئی تھی کہ کمیونزم ہمارے دروازے پر آن پہنچا ہے، پھر سعودی عرب کا معاملہ پاکستان کیلئے برے وقت کے ساتھی، دوست اور برادر اسلامی ملک اور پاکستان دوست سعودی حکومت تک محدود نہیں ہے۔ سعودی عرب کی سرزمین کے گرد و نواح میں جنگ و جدل کی صورت سے سرزمین حجاز کی سلامتی کے خطرے میں ہونے کا پہلو واضح ہے۔ یہ تو انتظار نہیں ہونا چاہئے کہ اس پر براہ راست حملہ ہی ہو تو عالم اسلام کے تمام ممالک ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ کی بنیاد پر اپنی مقدس سرزمین کے دفاع کے دینی اعتبار سے پابند ہیں۔

سعودی عرب کی چاروں اطراف کی سرحدوں پر ایسے تنازعات جس سے سرزمین حجاز کسی گرینڈ گیم سے متاثر ہوتی نظر آئے، کی بیخ کنی تمام اسلامی ممالک کی یکساں ذمہ داری ہے۔ جغرافیائی قربت اور اپنی عسکری سکت کے اعتبار سے پاکستان، ایران اور ترکی اس کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں کہ وہ سرزمین حجاز کی سرحدوں کے کسی جانب سے بھی آنے والے خطرے کی تپش کو بروقت ختم کرنے میں کردار ادا کریں جو مشترکہ ہونا چاہئے اور اس میں انڈونیشیا ، ملائیشیا پھر مصر اور نائیجریا کو دوسرے نمبر کے کلیدی کردار کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔ (ان شاء اللہ یہاں تک نوبت نہیں آئے گی)

بلاشبہ یمن کی خانہ جنگی کا کوئی تعلق فرقہ واریت سے نہیں کہ بتانے والے بتاتے ہیں کہ یمن میں شیعہ، سنیوں کا ایک ہی مسجد میں نماز پڑھنا عام ہے۔ اہل تشیع وہاں کی آبادی کا ایک حصہ ضرور ہیں لیکن یمن ہمیشہ فرقہ واریت کی لعنت سے آزاد ملک رہا ہے ،ہاں یہ یمن کو خانہ جنگی میں مسلسل مبتلا رکھنے اور خفیہ گرینڈ گیم کے مکروہ ایجنڈے کو پورا کرنے کیلئے برسوں کی محنت سے یمن میں کرافٹ کی گئی قبائلی کشیدگی کو فرقہ واریت میں تبدیل کر کے اسے عرب و عجم کے تصادم میں تبدیل کرنے کی چال ضرور ہے۔

بہتر ہوتا کہ پاکستان سرزمین حجاز کی سلامتی کا ہی پابند نہ ہوتا بلکہ اس کی سلامتی کو درپیش پیدا کی گئی تشویشناک صورتحال کے خاتمے کیلئے بھی عملاً کردار ادا کرے، خواہ اس کیلئے ہمیں علامت کے طور پر پاک افواج کا ایک حصہ سرزمین حجاز پر بھی منتقل کرنا پڑے۔ یہ معاملہ ظہور اسلام کے مقدس مرکز کی حفاظت کا ہے۔ اس صورت میں یہ دلیل بودی ہے کہ ’’ہمیں ساری دنیا کا غم نہیں کھانا چاہئے‘‘، ہماری تو ساری دنیا ہی مکہ و مدینہ ہے۔ سو ہمیں ماننا چاہئے تھا کہ پھر سرزمین حجاز کی سلامتی پر منڈلاتے خطرات کا اندازہ اسلام آباد سے زیادہ ریاض کو ہی لگانے کا حق ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.