.

سنو! بوڑھا کیا کہتا ہے!

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ وہ دن ہیں جب ہر طرف سے خون میں بھیگی ہوئی خبریں آتی ہیں۔ دھماکوں سے دنیا کے متعدد خطے گونج رہے ہیں اور بارود کی بو امڈی چلی آتی ہے۔

ایسے میں امن کی بات کرنے والوں کو حیرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بعض حلقوں میں تو انھیں ایسے لوگ سمجھا جاتا ہے جو احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

برصغیر، شرق اوسط اور سابق سوویت یونین سے اپنا ناتا توڑنے والے کئی نو آزاد ملک پیہم پیکار میں گرفتار ہیں، کہیں مختلف عسکریت پسند اور دہشت گرد اپنے ہی ملک کے لوگوں کے جانی دشمن ہوئے ہیں اور کہیں ریاستیں ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنے کو اپنے اندرونی مسائل کا حل سمجھتی ہیں۔ یمن میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، اس نے کچھ لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کہیں یہ علاقائی لڑائی کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔

امن پسند ملکوں کی فہرست بنائی جائے تو اس میں جاپان گزشتہ 70 برس سے سرفہرست رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں ہیروشیما اور ناگاسا کی پر ایٹمی حملوں کے بعد جاپانیوں کو بہ طور قوم یہ احساس ہوا کہ جنگ کتنی بھیانک اور غیر انسانی صورت حال ہے۔ اس احساس نے ان کی خارجہ پالیسی کو امن پسندی کے خطوط پر استوار کیا۔ ایک طویل عرصے کے لیے انھوں نے فوج پر اخراجات نہ ہونے کے برابر کیے۔ لیکن اب یہ گئے دنوں کی باتیں ہیں۔

14 جنوری 2015ء کو جب قدامت پرست وزیراعظم SHINZO ABE نے 42 ارب ڈالر کے فوجی بجٹ کا اعلان کیا تو یہ ان تمام لوگوں کو دہشت زدہ کر گیا جو دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست کے بعد سے ایک امن پرست قوم کے طور پر فوجی اخراجات سے کنارہ کرتے رہے ہیں۔

خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کے جواب میں موجودہ وزیراعظم نے یہ اقدامات کیے ہیں اور وہ ان قانونی پابندیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان پر عائد کی گئی تھیں۔ چین کے بہت بھاری دفاعی اخراجات نے جاپانی رہنماؤں کو مضطرب کر دیا ہے اور وہ جاپان کی سمندری، فضائی اور زمینی سرحدوں کی حفاظت کے لیے دہائیوں پرانی حکمت عملی کو ترک کر رہے ہیں، چین کے ساتھ وہ شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سے بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ یاد رہے کہ شنزو 2012ء میں اس وعدے پر برسراقتدار آئے تھے کہ وہ جاپان کے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں گے۔

اب سے پہلے جاپانی پالیسی سازوں کا یہ نقطہ نظر رہا ہے کہ ملکی سلامتی اور اس کے دفاع کے لیے بھاری بھر کم اسلحہ خانہ، لاکھوں سپاہیوں اور دوسری دفاعی تیاریوں کی نسبت سفارت کاری، اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں اخراجات اور امریکا سے ہونے والے 1960ء کے حفاظتی معاہدے کی پاسداری جاپان کے لیے کہیں بہتر ہے۔

60ء کی دہائی کے بعد جاپان کی اس حکمت عملی میں رفتہ رفتہ تبدیلی آئی اور اس وقت وہ فوجی اخراجات کے حوالے سے دنیا کا چھٹا ملک ہے جب کہ امریکا اور چین بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ موجودہ جاپانی وزیراعظم نے 11 برس بعد ملک کے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا ہے جس سے کچھ لوگ بہت خوش ہیں اور ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ان کا مخالف ہے۔

ان لوگوں میں وہ شخص سرفہرست ہے جس کی عمر اس وقت 98 برس ہے اور جس کا نام کنامے ہراڈے ہے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب ہراڈے کے نزدیک جنگ سے بڑی کوئی عبادت نہیں تھی، دوسری جنگ عظیم سے ذرا پہلے اس نے جاپانی بحریہ میں بہ طور پائلٹ تربیت کے لیے اپنا نام لکھوایا۔ اس کے ساتھ 1500 نوجوان اور بھی تھے۔ نہایت سخت اور مشکل تربیت کے بعد صرف 26 نوجوان آخری امتحان میں کامیاب ہوئے۔ ہراڈے نے ان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

خوبرو اور خوش قامت ہراڈے اپنی وردی میں شہزادہ نظر آتا تھا۔ جنگ کے بادل دنیا کے افق پر امڈ رہے تھے اور ہراڈے اس دن کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا جب وہ مادر وطن کی حفاظت کے لیے دشمن کے طیاروں یا ٹھکانوں پر کسی عقاب کی طرح گرے گا۔ اس کی شادی ہو چکی تھی اور بیوی امید سے تھی۔ یہی وہ دن تھے جب اسے جنگ میں شرکت کا حکم ملا۔ ستمبر 1941ء میں وہ طیارہ بردار جہاز ’’سوریو‘‘ پر تعینات کر دیا گیا اور جب تک جہاز نے لنگر نہیں اٹھایا، اس وقت تک اس کی بیوی روزانہ اسے ایک خط بھیجتی رہی۔ ہراڈے کے ساتھی اس کا مذاق اڑاتے اور ان خطوں کو ’’روز کا اخبار‘‘ کہتے تھے۔

ان کے جہاز نے جب لنگر اٹھایا تو اس کا اور اس کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ وہ سوویت یونین پر حملے کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ جنگ اپنے عروج پر تھی جب امریکا بھی اس میں شامل ہو گیا۔

پرل ہاربر پر جاپان نے حملہ کیا تو اسے اپنے جوہر دکھانے کی اجازت نہیں ملی اور اس کا فرض صرف جاپانی طیارہ بردار جہازوں کی نگرانی اور حفاظت تک محدود رہا۔ اپریل 1942ء میں وہ سری لنکا کی فضا میں برطانوی لڑاکا جہازوں کے مقابل ہوا اور دوبدو لڑائی میں اس نے ایک دن کے اندر 5 برطانوی جہاز مار گرائے۔ ہراڈے کا کہنا ہے کہ میرے مٹسوبشی زیرو طیارے کی کارکردگی اور تیزی سے مڑنے کی صلاحیت اتنی اعلیٰ تھی کہ میں برطانوی لڑاکا طیاروں کے اس قدر قریب پہنچ جاتا تھا کہ ان میں بیٹھے ہوئے پائلٹوں کے چہرے اور ان پر پھیلی حتمی موت کی زردی دیکھ سکوں۔

ایک دوسری لڑائی میں امریکیوں نے اس کا طیارہ مار گرایا لیکن زخمی ہونے کے باوجود وہ بچ گیا۔ ہراڈے کو آج بھی وہ دن یاد ہے جب وہ مار گرائے جانے والے ایک جاپانی طیارے کے ملبے کے پاس کھڑا تھا، طیارے کا پائلٹ مارا گیا تھا اور اس کا ساتھی شدید زخمی تھا۔ زخمی جاپانی گنر نے اس سے درخواست کی کہ وہ اس کے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ساتھ لے جائے اور جنگ ختم ہونے پر اس کے گھر والوں کو پہنچا دے۔

دم توڑتے ہوئے گنر کا اصرار تھا کہ ہراڈے وہاں سے فوراً چلا جائے، ایسا نہ ہو کہ امریکی سپاہی جاپانی طیارے کے ملبے کی تلاش میں آ پہنچیں اور وہ ان کے ہاتھ لگ جائے، لیکن ہراڈے اس زخمی کے سرہانے بیٹھا رہا جب تک کہ وہ ختم نہ ہو گیا۔ یہ بات تو ہراڈے کو بعد میں معلوم ہوئی کہ اس کا زخمی جاپانی گنر کے سرہانے بیٹھا رہنا ہی اس کی زندگی کا سبب بن گیا، وہ جس راستے پر جانا چاہ رہا تھا، امریکی فوجی اس راستے سے کچھ ہی دیر پہلے گزرے تھے۔

جنگ ختم ہو گئی، جاپان کو شکست ہوئی۔ اب عام جاپانی جنگ کا نام بھی سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ہراڈے اور اس کے دوسرے ساتھی جب اپنے گھروں کو لوٹے تو انھیں پریشان کن حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ انھیں کیمپوں میں اکٹھے یوں رکھا گیا جیسے وہ حراست میں ہوں۔

وہ نہ اپنے گھر والوں کو خط لکھ سکتے تھے اور نہ ان کے خط منگوا سکتے تھے۔ کچھ عرصے بعد جب اس ذلت آمیز صورت حال سے نجات ملی تب بھی جنگ سے لوٹ کر آنے والوں پر کسی بھی سرکاری یا عوامی ملازمت کے کرنے پر پابندی تھی۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اگلے 25 برسوں تک اس نے پھل کا ٹھیلا لگایا، سیب اور سنگترے بیچے، کسی باڑے میں گائے اور بھینس کا دودھ دوہا، کھیت کھلیان میں فصل کاٹنے اور فصل بونے کی مشقت اٹھائی۔ 1965ء میں جنگ کو 25 برس ہو چکے تھے، تب اس نے اور اس کی بیوی نے فیصلہ کیا کہ وہ ننھے بچوں کے لیے کنڈر گارٹن کھولیں گے۔

اس وقت سے اب تک وہ اپنے آبائی قصبے میں کنڈر گارٹن چلارہا ہے، 98 برسوں نے اس کے چہرے پر جھریوں کا جال بُن دیا ہے۔ وہ شاندار نوجوان ماضی کی گپھا میں کھو گیا ہے جس پر لڑکیاں فدا ہوتی تھیں اور جس سے اس کے ہم عمر نوجوان حسد کرتے تھے۔ اب ہڈیوں کا ایک ڈھانچا رہ گیا ہے جسے جنگ سے نفرت ہے اور جو نئی نسل کو جنگ کی خوف ناک حقیقت سے ہر قدم پر آگاہ کرتا رہتا ہے۔

وہ جاپانی حکومت کے فوجی اخراجات میں بے پناہ اضافے سے خوفزدہ ہے اور اپنے نئے وزیراعظم سے اسے گلہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ وہ سیاست دان ہیں جو جنگ کی کئی دہائیوں بعد پیدا ہوئے ہیں اور جنھیں اندازہ نہیں ہے کہ جنگ کس ہولناک حالت کا نام ہے۔ وہ بچوں کی محفلوں میں جاتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ ’’جنگ ہم سے ہماری انسانیت چھین لیتی ہے، ہم قطعاً اجنبی لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں یا ان کے ہاتھوں قتل ہو جاتے ہیں‘‘۔

وہ چھوٹے اور بڑے بچوں کے درمیان بیٹھ جاتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ ’’میں تمہیں اپنی زندگی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جسے جنگ نے برباد کر دیا۔‘‘ وہ کہتا ہے کہ ’’جب ہم بچے تھے اس وقت سے ہمارے ذہنوں میں یہ بات نقش کر دی گئی تھی کہ جنگ بہت شاندار چیز ہے اور جاپان جو کچھ بھی کرے وہ درست ہوتا ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو جھوٹ سے آلودہ نہیں کرنا چاہیے، انھیں سچی تاریخ پڑھائیے۔ ہم اپنے بچوں کو شکر میں لپٹی ہوئی تاریخ دیتے ہیں اور یہ ان کے ساتھ سب سے بڑا ظلم ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ بڑوں اور بچوں سے یہ بھی کہتا ہے کہ امن کی قدر کرو، انسانوں کے لیے، امن سب سے بڑا خزانہ ہے۔

______
نوٹ: 'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.