.

سعودی عرب کو تنہا نہ چھوڑا جائے!

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں حیران ہوں کہ ہماری پارلیمینٹ نے یہ کیسی قراردار منظور کی ہے؟ ایک ایسا ملک جس نے ہر کڑے وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہو، معاشی ضروریات کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو،جہاں پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت روزگار کی خاطر وطن سے دُور رہ کر بھی وطن کی کمی محسوس نہ کرتی ہو اور اُس سرزمیں کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتی ہو اُسے ایک ایسے مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دینا کس قسم کی مصلحت اور کون سی سفارت کاری ہے؟ … اِس پروپیگنڈے میں کوئی دَم نہیں ہے کہ وہاں فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے ہیں، یہ ایک کھلی بغاوت ہے اور اِس بغاوت کے اثرات اگر حرمین شریفین تک پہنچ گئے تو خون کے دریا کے سوا مجھے کچھ اور دکھائی نہیں دیتا ہے…نجران ،جازان اور عسیر ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے ہی اُس سرزمین عرب کا حصہ رہے ہیں جس میں یقیناً یمن شامل نہیں تھا بلکہ یمن ایک الگ علاقے کے نام سے معروف تھا اور بعد میں یہ سیدنا فاروقِ اعظم کے زمانے میں ایک علیحدہ اسلامی صوبہ قراردیا گیا لہٰذا بعض افراد اپنی یہ ’’دانش فروشی‘‘ بند فرمادیں تو بہتر ہوگا کہ نجران، جازان یا عسیر پر کوئی غاصبانہ قبضہ ہے بلکہ اُن کی تسلی کے لئے صحیح بخاری میں نجران کے عیسائیوں سے مباہلے کی طویل حدیث موجود ہے جس کے دوران ’’آیات مباہلہ‘‘ نازل ہوئیں اور اُمت نے یہ جانا کہ ’’پنجتن‘‘ کون ہیں…

یقیناً ہر عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح مجھے بھی سعودی حکومت کی بہت ساری ’’حرکتوں‘‘ سے شدید اختلاف ہے، مجھے جنت البقیع کے انہدام پر تکلیف ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مکانات کے نشانات مٹادینے پر درد ہے ،مقدس مقامات کے احترام میں کوتاہی برتنے پر غصہ ہے ،عقیدت کے ہر انداز کو ’’شرک‘‘ اور ’’بدعت‘‘ سے تعبیر کرنے پر ناراضگی ہے …مگر … مجھے اُس خطے سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر پیار ہے،اِس سرزمین کا کوئی بھی مقام ایسا نہیں جہاں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم یا اہل بیت اطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پاک قدموں نے اپنے پُر تقدیس نشانات چھوڑ کراُسے ارضِ عظیم کااعزاز نہ بخشا ہو… پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حوثی باغیوں کی نادانی سے بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے سرزمینِ عرب تک جا پہنچیں اور ہم صرف مذمت یا اظہارِ یکجہتی کی قراردادوں پر ہی اکتفا کئے بیٹھے رہیں… تیل کا جھگڑا، اقتدار کی خواہش، برتری کے سپنے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی تمنا… بس اِن ہی کے درمیان کہیں یمن کا تنازع چھپا ہوا ہے …البتہ تاریخ سے نابَلد اور حقائق سے کوسوں دُور جنہیں ٹیلی وژن پر ’’دراز گفتگو‘‘ اور کالم نویسی میں ’’دانشوری کے رنگ ‘‘ بکھیرنے کا شوق ہے وہ ایسی ایسی کوڑیاں ڈھونڈ کر لا رہے ہیں کہ جن کے سامنے خزائن عالم بھی ہیچ ہیں…

مثال کے طور پر ’’اگر ہم نے سعودی عرب کی حمایت کی تو پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ بھڑک اُٹھے گی‘‘ یا ’’یمن کے تنازع مسلکی ہے اور ہمیں اِس سے دُور رہنا چاہئے‘‘…’’حوثی باغیوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے اور وہ تو صرف جمہوریت چاہتے ہیں‘‘… ’’پاکستان کو یمن کی آگ میں نہیں کودنا چاہئے کیونکہ ایران سے ہمارے تعلقات خراب ہوجائیں گے‘‘… ’’اگر پاکستان نے سعودیہ کا ساتھ دیا توخدشہ ہے کہ ایران ناراض ہوجائے گا‘‘…وغیرہ وغیرہ!!

پہلے تو سب کو یہ جان لینا چاہئے کہ یمن کے حوثی قبائل مسلکی اعتبار سے شیعوں کے ’’زیدیہ گروپ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ اثنا عشری شیعہ نہیں یعنی 12ائمہ کرام پر اِن کا اعتقاد نہیں جبکہ ایران کی جانب سے ایک بار بھی یہ تاثر نہیں دیاگیا ہے کہ وہ حوثی قبائل کی حمایت کررہا ہے …یہ ایک خالصتاً طاقت کے حصول کی خاطر کی جانے والی منظم بغاوت ہے اور حوثیوں کو بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال میں ایران کا بڑھتا ہوا اثرو رسوخ اپنے لئے معاون و مددگار نظر آرہا ہے اِسی لئے وہ پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے ہیں حالانکہ حقیقت اِس کے برعکس ہے … ایران اور سعودی عرب کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئیں کیونکہ دونوں ملکوں کو اپنی اہمیت اور خطے میں موجود مسلمانوں کے جذبات کا احساس ہے اِسی لئے وہ ’’دَرپردہ‘‘ تو ’’مقاصد کی تکمیل‘‘ کے لئے ’’کارروائیاں‘‘ جاری رکھیں گے مگر ’’ظاہر‘‘ ہوکر لڑنے سے ہمیشہ اجتناب ہی بَرتیں گے کیونکہ اِس صورت میں یقیناً اسلامی دنیا واضح طور پر تقسیم ہوجائے گی …

میں یہ دلیل بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر پاکستان سعودی عرب کی حمایت کا کھل کر اعلان کرتا ہے تو ایران کیوں ناراض ہوجائے گا ؟… کیا خدانخواستہ ایران اِس بغاوت میں ملوث ہے؟… کیا ایران کی جانب سے باغیوں کو رسد فراہم کی جارہی ہے ؟… کیا ایران چاہتا ہے کہ سعودی عرب کو غیر مستحکم کیا جائے ؟… ظاہراً تو بے شک ایسا نہیں ہے اور اللہ نے ہمیں ظاہر کا مکلف بنایا ہے باطن کا نہیں!! کسی کے دِل میں کیا ہے اورکس کی کیا نیت ہے اِس کھوج اور تجسس میں پڑنے کے بجاے گمان اگر اچھے رکھے جائیں تو زیادہ بہتر ہے …

مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم اللہ اور اُس کے رسول کو راضی کرنے کی دوا لینے کے بجائے ’’سفارت خانوں‘‘ کو خوش کرنے کے مرض میں مبتلا ہیں اور اِسی وجہ سے آنکھیں مکمل بند ہیں،کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی ہیں اور ہونٹوں پر تالے لگارکھے ہیں… اگر سعودی عرب کی حمایت پاکستان کےلئے اِس قدر دشوار اور خطرناک ہے تو ترکی نے اپنا بحری بیڑہ سعودی عرب کی مدد کے لئے کیوں روانہ کیا؟ افغانستان نے کھل کر حمایت کا اعلان کیوں کیا ہے؟ کیا ترکی اور افغانستان میں سنّی اور شیعہ آباد نہیں؟ وہاں فرقہ واریت کا خطرہ کیوں پیدا نہیں ہو رہا؟ مفروضوں کی بنیاد پر وہاں کے ’’دانش ور‘‘ تحریرو تقریر میں کیوں نہیں چلّا رہے؟ ترکی کا تو سعودی عرب کے ساتھ متاثر کن تاریخی پس منظر بھی نہیں ہے بلکہ سعودی ہمیشہ سے ہی ترکوں سے شاکی رہے ہیں اور ترک روایتاً ایران کے قریب رہے ہیں پھر یہ اچانک ترکی کو کیا ہوگیا؟ کیا وہ اِتنا ’’غریب ملک‘‘ ہے کہ اُسے بھی سعودیوں نے ’’تیل سے نہلا کر‘‘ اپنا بنا لیا ہے ؟

مجھے کوئی اِس سوال کا جواب بھی تو دے کہ نائن الیون سے قبل جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم تھی اور جسے سعودی عرب اور پاکستان نے تسلیم کر کھا تھا اور دوسری جانب شمالی اتحاد کو بھارت اور ایران کی کھلی حمایت حاصل تھی تو اُس وقت کسی نے یہ طوفان کیوں نہیں اُٹھایا کہ ایران کے اِس عمل سے ’’فرقہ وارانہ فساد‘‘ کا اندیشہ ہے اور بھارت کا بھی اُسی اتحاد کی جانب جھکاؤ جسے ایران کی حمایت حاصل ہے درحقیقت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے… سچ تو یہ ہے کہ ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہوتی ہے جس طرح سعوی عرب اور ایران اپنی اپنی پالیسیاں وضع کرنے میں آزاد ہیں اُسی طرح پاکستان کو بھی تاریخی اور زمینی حقائق سامنے رکھ کر اور عوام کی اُمنگوں کو ٹھیس نہ پہنچاتے ہوئے قوم کی ترجمان پالیسی کا اعلان کرنا چاہئے جو بدقسمتی سے اب تک نہیں ہوا ہے …

سب قومیں اپنے اپنے وطن سے محبت کرتی ہیں مگر ہمارے ہاں کچھ پالیسی ساز سعودی عرب سے محبت کرتے ہیں اور کچھ ایران سے ! براہِ کرم پاکستان سے محبت کیجئے اور پاکستانی بن کر سوچئے تو شاید احساس ہو کہ ہم نے ایک ’’مبہم قرارداد ‘‘ منظور کر کے اپنے دوست ملک کو کس قدر مایوس کیا ہے … ہمارا یہ اولین فرض ہے کہ یمن میں حوثیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے تمام تَر اختلافات اور نظریاتی فرق کے باوجود سعودی عرب کا ساتھ دیں… مسئلہ صرف صنعا پر حکومت کا نہیں ہے بلکہ صنعا تو صرف ایک ’’سنگِ میل ‘‘ ہے اصل نگاہ تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر ہے … ظاہر ہے کہ امریکہ، بھارت اور برطانیہ کی ملازمت کرنے والے ہمارے بعض دانشور یہ کیوں چاہیں گے کہ پاکستان بھی اُس مسلم بلاک میں شامل ہو جو سعودی عرب کا دفاع کرے کیونکہ اُن کی تو اولین خواہش ہے کہ مسلم ممالک کا اتحاد بننے کے بجائے سعودی عرب کو اِس قدر تنہا کر دیا جائے کہ امریکہ اور برطانیہ سعودی عرب کے اتحادی بنیں اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے ’’سراب‘‘ میں مضطرب سعودی عرب کا بھی وہی حشر ہو جو عراق و کویت کا ہوا، جسے تیونس نے بھگتا، لیبیا نے چکھا، مصر نہ سہا اور یہودی بالآخر دوبارہ خیبر تک پہنچنے کی اپنی قسم پوری کر لیں…!
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.