.

تنازع یمن ۔ ہوش کی طلب

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی سے لے کر پاکستان اور اسلام آبادسے لے کر ریاض تک، کوئی ایسا بااختیار، ذمہ دارانہ، علمی و سیاسی یا حکومتی ذریعہ ہے جو تنازع یمن کے پس پردہ اصل حقیقت کو متعلقہ حکومتوں کو واضح کر سکے؟ وائے بدنصیبی، نہیں۔ یمن کا داخلی انتشار، عالمی سیاست کے جس وسیع تر تناظر میں پیدا ہوا ہے، وہ بڑی مکاری اور محنت اور دو ڈھائی عشروں کے تسلسل سے تیار کیا گیا ہے۔ عراق و لیبیا کی تباہی، ایران پر مسلسل پابندیاں، افغانستان پر نیٹو کا قبضہ اور پاکستان پر دہشت گردی کی جنگ کا تسلط، افغانستان میں بھارت کی غیر مطلوب موجودگی، ایران کو ’’راہ راست‘‘ پر آنے پر مجبور کر دینا، واشنگٹن اور تہران میں مفاہمت کی پیش رفت اور سفارتی تعلقات کی بحالی کے بڑھتے امکانات اور اب سعودی عرب کے بیک یارڈ یمن میں ایک قبیلے کی صنعاء حکومت کے خلاف بغاوت، ریاض پر منڈلاتا ایسا خطرہ ہے کہ اس (سعودی عرب) کے عقبی صحن میں ایک سعودی مخالف ایسی حکومت ہو جو ریاض کا مستقل دردِ سر بن جائے اور سب سے بڑھ کر پورے خطے کو فرقہ واریت کے جہنم میں جھونکنے کے کتنے ہی شیطانی اقدامات جو چھپائے بھی نہیں چھپے اور اب خاصے واضح ہیں۔ اس سے بڑھ کر بدنصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ پس منظر کو ذہن میں رکھے بغیر فقط پیش منظر کو پڑھا جائے۔

کیا اقوام متحدہ کے سویڈش انسپکٹر کی واضح رپورٹ کہ ’’عراق ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن کنٹری‘‘ ہے کے باوجود عراق پر حملہ اور اس کی مکمل تباہی کے بعد ’’غلط ابلاغ کا اعتراف تیل سے مالا مال مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام کو کوئی پیغام نہیں دیتا‘‘ جبکہ عراق پر ڈھٹائی سے حملے کا ترجمہ ’’وار فار آئل‘‘ کوئی صدام حکومت کا الزام نہ تھا بلکہ امریکن میڈیا اور تجزیہ نگاروں نے کیا۔ یوں یہ صدا امریکہ سے ہی لگی اور مسلسل لگی۔

ایک اور ڈیزائن بظاہر نئی دہلی کی نئی ہندو انتہا پسند حکومت نے بحر ہند (انڈین اوشن) میں نیا شطرنجی کھیل کھیلنےکا بنایا ہے۔ اس کی جانب عملی اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں جیسا کہ وزیر اعظم مودی کا آسٹریلیا اور جاپان (جو بحر ہند کےخطے سے بھی باہر ہے) کو بھی اپنے جھانسےمیں لینے کا سفارتی ہدف، کارپوریٹ سیکٹر اور تھیوری آف پولیٹیکل اکانومی کی مکمل زد میں آئے بھارتی میڈیا کی زوردار حمایت سے مذہبی تعصب میں ڈوبا بھارتی صوبے کا سابق وزیر اعلیٰ اب مغربی ممالک کا ویزا تو کیا انڈین اوشن ریجن کی چوکیداری لیتا نظر آ رہا ہے۔ جیسے شاہِ ایران عشروں تک خلیجی خطے میں مغربی مفادات کی چوکیداری کرتا رہا۔ گجرات کے مسلم کش فسادات کے مقدمے کا بڑا ملزم اب ہندو توأ (ہندو مت کا غلبہ) کا نعرہ بلند کرکے منتخب وزیر اعظم کا درجہ حاصل کر چکا، یوں اس نے سات تو کیا کتنے ہی خون معاف کرا لئے۔ واضح رہے کہ امریکی پروفیسر سموائیل ہنگ ٹنگ ٹن نے سوویت ایمپائر منتشر ہونے کے بعد اپنی بے وقت کی راگنی ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ میں جن عالمی تہذیبوں کی نشاندہی کی ہے اس میں ایک ’’ہندو مت‘‘ ہے۔ پروفیسر نے یہ تب واضح کیا جب خود بھارت کا غرور اس کی کثیرالثقافت سوسائٹی میں سیکولر ازم اور جمہوریت تھا نا کہ ’’ہندو توأ‘‘

اسی گرینڈ گیم میں مزید مغربی کھیل سے گریزاں اور حقیقی جمہوریت کی طرف مائل دو بڑے اسلامی ممالک کو بھی ان کی نئی راہ سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ مصر پر تو وار چل گیا اور ترکی اپنے زور بازو پر بچ گیا۔ ادھر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کا اشتراک کوئی ’’دو طرفہ‘‘ تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی اقتصادی سرگرمیوں کا ایک نیا دھارا تشکیل ہوتا معلوم دیتا ہے جو اتنا پرامن اور کئی ممالک نہیں بلکہ کتنے ہی خطوں کے لئے استحکام و خوشحالی کا سبب ہو گا۔ اس کے بڑھتے واضح امکانات تو اب ہیں لیکن پیش گوئی شہرہ آفاق برطانوی فلاسفر برٹینڈرسل کی طرف سے 60 کی دہائی میں ہوئی جو اب ان کی دور بینی (Visualization) کی عملی تعبیر بنتی نظر آ رہی ہے جیسا کہ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ اگلی صدی (رواں) ییلوریس، یعنی پیلی رنگت کی نسل (چین، جاپان، کوریا وغیرہ) کے غلبے کی صدی ہو گی۔

پاکستان کا ایٹمی طاقت بن کر اپنے ہی تیار کردہ بین البراعظمی میزائلوں سے لیس ہو کر انتہائی اعتماد کے ساتھ چین و پاکستان کا اشتراک قائم رہنا اور آگے بڑھنا اور اس پیش رفت میں کسی خودمختار ملک کو کوئی حقیقی خطرہ نہ ہونا، سوائے اس کے کہ مغرب اپنے مفادات کی اپنی تشریح کے مطابق خود ہی ایک انجانا خطرہ محسوس کرے۔ یوں بھی پروفیسر ہنگ ٹنگ ٹن ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کی جو (Visualization) گھڑتا ہے وہ اسلام اور مغرب کا تصادم ہی ہے۔ باقی عالمی سیاست جس میں باقی ماندہ تہذیبوں کی صف بندی ہوتی ’’معلوم دیتی ہے‘‘ واشنگٹن نے بھی تو کیوبا کے انقلابی فیدل کاسترو اور وینزویلا کے انقلابی آنجہانی صدر ہوگو شاویز کے ’’عذاب‘‘ سے نجات کے بعد جغرافیائی قربت کے باوجود کتنی دوریاں ختم کرنے کے لئے قدم بڑھا دیا ہے۔

صدارت کا دوسرا دور ختم ہونے سے پہلے صدر اوباما کا دورہ ہوانا اسی سلسلے کی کڑی معلوم نہیں دیتی؟ کہ ریڈ انڈین کی مکس لیکن بڑی باقیات کے طور پر لاطینی امریکہ بھی ایک عالمی تہذیب ہے جو پروفیسر ہنگ ٹنگ ٹن کی تہذیبوں کی نشاندہی میں شامل ہے۔ بہت کچھ واضح ہے مشکل روس کے مستقبل کے کردار کی نشاندہی کی ہے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے مغرب سے جڑے گا یا بدلے کے لئے اور اپنی موجودہ طاقتور ’’نیشن سٹیٹ‘‘ کی حیثیت میں کسی اور صف میں جگہ بنائے گا۔ آنے والے عشرے بہت سی انہونیوں کے ہونے کے عشرے معلوم دے رہے ہیں۔ اصل چیلنج عالم اسلام کو ہے کہ وہ اپنے عظیم تشخص کے ساتھ پہلے تو ’’گرینڈ گیم‘‘ کی شیطانیت کو ہی ختم کردے کہ اس میں اس کے کلیدی کردار کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ مشکل ترین شرط ا ن کا اپنا اتحاد اور پھر عالمی سیاست کے بازار میں بہتر سوداگری ہے جس کے لئے ہوش اور انہماک مطلوب ہے۔ مسلمانو! سب تو ہمیں تصادم میں لگا کر ایسٹ ٹیمور اور جنوبی سوڈان کس خاموشی سے عیسائی آزاد ریاستیں بنیں۔

’’آئین نو‘‘ میں ’’تنازع یمن‘‘ کو اسی گرینڈ گیم میں واضح کرنے کی اپنی سی کوشش جاری رہے گی۔ پاکستان کا فوری طور پر اپنی ڈپلومیٹک کیپسٹی (سفارتی سکت) بڑھانا اولین ترجیح ہو گئی ہے۔ بنتی صورتحال انتہائی سنجیدگی اور بلند درجے پر دماغ سوزی کی طالب ہے۔ بہترین اور قومی مفادات اور مطلوبہ فیصلہ سازی کیلئے Cold Intelectual Calculation (مکمل ہوشمندی سے سائٹنفک تجزیوں) کو ہی استعمال کیا جائے۔ بے احتیاط اور پرجوش سفارتی ابلاغ بہت مہلک ہوگا۔ ڈاکٹر انور قرقاش اور چوہدری نثار لیول کو ایکٹوکرنے سے کام بہت بگڑا ہے اور بگڑتا جائیگا۔ کیا ضرورت تھی کہ امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور کے پاکستان مخالف ٹویٹر پر دیئے گئے بیان کا جواب ہمارا وزیر داخلہ پبلک اسٹیٹمنٹ کی صورت میں اسی ٹون میں دیتا۔

ہماری پارلیمانی قرارداد (جو رائے عامہ کےمطابق متنازع ہے) انور قرقاش کی دھمکی کے مطابق ہمیں ہماری پارلیمانی قرارداد مہنگا پڑے یا نہ پڑے ان کا نہلا (دھمکی آمیز بیان) اور ہمارے چوہدری نثار کا چودھرانہ دہلا (پرجوش جواب) دونوں ملکوں کو ضرور مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ہماری گڈگورننس اس سفارتی چیلنج میں بھی ریکارڈ ہے کہ اتنی چیلنجنگ صورت میں نہ کوئی ماہر وزیر خارجہ موجود ہے نہ کوئی ایسی بڑی سفارتی ٹیم جو متعلقہ ممالک کے طوفانی دورے کرکے بڑھتے جوش کو ہوش کی طرف لائے۔ سو وزیر داخلہ سے ہی کام چلا رہے ہیں۔

اس وقت پاکستان کو اپنی تمام تر سفارتی صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں اترنا چاہئے تھا۔ ہم نے یہ محاذ بھی اسٹیٹس کو کے مارے سیاستدانوں اور وزراء کے حوالے کردیا ہے۔ اللہ خیر کرے۔ ہم نے پارلیمان کی بالادستی کا آغاز کیا بھی تو کہاںسے اور کس صورتحال میں کیا ہے جبکہ ہمیں بالائی سطح پر کسی ماہرانہ سفارتکاری کی ضرورت ہے اگر ہماری قرارداد سے اور قرقاش جیسے برادر ملک کے پرجوش وزراء بھڑک جائیں اور سعودی عرب کے ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللہ جیسے مذہبی امور کے سنجیدہ وزیر تنازع یمن پر پاکستانی پارلیمانی قرارداد کو اس (پاکستان) کا داخلہ معاملہ قرار دے کر نہ کرتے ہوئے بھی سلیقے سے عدم اطمینان کا اظہار کر دیں تو ہمیں غیر متعلقہ وزراء کے جوش سے نہیں متعلقین کے ہوش مند ابلاغ سے دو طرفہ تعلقات کو سنبھالے رکھنا ہے۔

------
کالم نگار نے متذکرہ مضمون میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو/العربیہ نیوز کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.