.

عرب امارات اور "پاکستان امارات؟"

اثر چوہان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلم لیگ ن کی حکومت کا دَور بھی خُوب ہے۔ اِس دَور میںحکومت نے ایک سال اور 10 مہینے بغیر کسی باقاعدہ وزیرِ خارجہ کے گزار دیئے۔ باقاعدہ وزیرِ خارجہ ہو تو خارجہ پالیسی بھی قاعدے سے چلائی جا سکتی ہے لیکن اِس کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی۔ نہ صِرف وفاقی اور پنجاب کے وزراء بلکہ مسلم لیگ ن کا ہر چھوٹا بڑا لِیڈر پرنٹ اور الیکٹرانک مِیڈیا پر ’’پارٹی لائن اور اپنی لائن‘‘ بھی کھُل کر بیان کرتا ہے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی خُود نوِشت"In The Line Of Fire" کی حدود سے بھی باہر۔ اگر ہمارا کوئی وزیرِ خارجہ ہوتا تو10 اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یمن کے بحران پر خُود قرارداد پیش کرتا اور جب وزارتِ دفاع کا اضافی"Charge" رکھنے والے خواجہ آصف کے نازک کندھوں پر یہ بوجھ ڈال دِیا گیا تو حکومت کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینا پڑا کہ خواجہ صاحب نے پارلیمنٹ میں عمران خان اور اُ ن کی پارٹی کے منتخب ارکان کی پارلیمنٹ کے بارے میں وہی زبان استعمال کی جو ’’کینیڈین شیخ اُلاِسلام‘‘ اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

عمران خان اور اُن کے ساتھیوں کا مشتعل ہونا لازمی تھا۔ پھر حکومت نے دبائو میں آ کر خواجہ صاحب کو قرار داد پیش کرنے کے منصب سے "Discharge" کر دِیا اور قرارداد پیش کرنے کا بوجھ وزیرِخزانہ جناب اسحاق ڈار کے مضبوط کندھوں پر ڈال دِیا۔ اسحاق ڈار نہ ہُوئے مُغل بادشاہ اکبر کے وزیرِ مالیات راجا ٹوڈ ملّ ہو گئے؟ اگر واقعی ڈار صاحب مُلکی مالیات درُست کرنے اور غریب، غُرباء کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو انہیں وزارتِ خارجہ کا اضافی چارج کیوں نہیں دے دِیا جاتا؟۔ ’’اگّا دَوڑتے پچھّا چَوڑ‘‘ کا عملی مظاہرہ کیوں نہیں کِیا جاتا؟۔

پارلیمنٹ میں منظور کی گئی مشترکہ قرار داد میں کہا گیا کہ ’’حکومتِ پاکستان یمن بحران کے معاملہ میں غیر جانبدار ہے لیکن سعودی عرب کو خطرہ ہُوا تو پاکستان اُس کا مکمل ساتھ دے گا اور جنگ بندی کے لئے سکیورٹی کونسل اور او آئی سی میں آواز اُٹھائے گا‘‘ وغیرہ وغیرہ 10 اپریل کو ہی کور کمانڈر کانفرنس کی صدارت کرتے ہُوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’’یمن میں لڑائی جاری رہی تو خِطّے کی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے‘‘ گویا جنرل راحیل شریف بھی لڑائی میں شریک ہونے کے لئے پاک فوج کو ملوث کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

پاکستان کی پارلیمنٹ میں منظور کی گئی مشترکہ قرارداد پر متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے امور خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے یمن کے بحران میں غیر جانبدار رہنے پر پاکستان کو خبردار کرتے ہُوئے کہا کہ ’’پاکستا ن کو اُس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی‘‘ مجھے عربی زبان کی تھوڑی سی شُد بُد ہے۔ لُغت کے مطابق ’’قر‘‘ ٹھنڈی چیز کو کہتے ہیں اور ’’قاش‘‘ پھانک بھَوں اور اَبرُو کو۔ اپنے نام کے لحاظ سے ڈاکٹر قرقاش کو ’’ٹھنڈی پھانک‘‘ کی طرح لطیف یا ٹھنڈی بھَوں یا ابرُو کی طرح ’’نرم گو‘‘ ہونا چاہیے تھا لیکن یہ کیا کہ انہوں نے تو بھَویں تان کر (غُصّے کا مظاہرہ کرتے ہُوئے) برادرِ مُلک پاکستان کو دھمکی ہی دے دی۔ حضرت داغ دہلوی نے اپنے ’’قرقاش محبوب‘‘ سے خوفزدہ ہو کر کہا تھا… ؎

بھَویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں!‘‘

اِس صُورتِ حال سے فائدہ اُٹھا کرکہ پاکستان میں کوئی باقاعدہ وزیرِ خارجہ نہیں اور اِس سے بھی حوصلہ پا کر کہ وزیرِ اعظم کے مُشیرِ خارجہ جناب سرتاج عزیز، معاونِ خصوصی جناب طارق فاطمی بھی ’’ڈاکٹر قرقاش‘‘ کی دھمکی کا جواب دینے کے لئے (تادمِ تحریر) استخارہ کر رہے ہیں، ہمارے دَبنگ وزیرِ داخلہ چودھری نثار خان نے ’’شمع مشاعرہ‘‘ اپنے سامنے رکھ کر ’’سازِ پُر درد چھیڑ دِیا‘‘ اور کہا کہ ’’اَماراتی وزِیر کی دھمکی پاکستانی قوم کی توہین ہے، حکومتِ پاکستان کے لئے، ناقابلِ قبول، سفارتی اداب کے منافی اور سِتم ظریفی ہے‘‘۔

سوال یہ ہے کہ کسی برادرِ ملک کے وزیر کی طرف سے حکومتِ پاکستان کو دھمکی دینے پر یہ ’’قوم درمیان میں کہاں سے آ گئی؟‘‘۔ وفاقی وزیرِ خزانہ جناب اسحاق ڈار ہر روز یہی وظیفہ پڑھتے رہے ہیں کہ’’قوم کے 60 فی صد لوگ غُربت کی لکیر کے نیچے زِندگی بسر کر رہے ہیں‘‘۔ اگر اُستاد رشکؔ کے اِس شعر میں ’’شیخ‘‘ کے بجائے ’’ڈار‘‘ فِٹ کر دِیا جائے تو وہ یوں ہو گا… ؎

’’ڈارؔ ہیں پہروں وظِیفہ بھانتے
کام آ جاتا ہے ڈورا بھانتے‘‘

اُدھر وزیرِ اعظم نواز شریف کے لئے سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان کا خصوصی پیغام لے کر ہنگامی طور پر پاکستان کا دَورہ کرنے والے اُن کے وزیرِ مذہبی امور الشیخ صالح بِن عبداُلعزیز فرماتے ہیں کہ ’’یمن کے بحران کے بارے میں پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد پاکستان کا داخلی معاملہ ہے لیکن ہم تو پاکستان سے بہتری کی اُمید رکھتے تھے‘‘۔ معزز مہمان نے یہ بھی فرمایا کہ ’’اَماراتی وزیر ڈاکٹر قرقاش کا بیان شکایت سے زیادہ کچھ بھی نہیں‘‘۔ مولانا فضل اُلرحمن نے بھی یہی فرمایا ہے کہ ’’پارلیمانی قرار داد سعودی عرب کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے‘‘۔ مولانا صاحب نے وزیرِاعظم نواز شریف کے سعودی بادشاہوں سے ’’ذاتی تعلقات‘‘ کا بھی حوالہ دِیا ہے۔ درُست فرمایا ۔ اگر میاں نواز شریف منتخب وزیرِاعظم نہ ہوتے، پاکستان کے خلِیفہ، امیر اُلمومنین یا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہوتے تو اور بات تھی۔ وہ پاکستان کے بالائی طبقے کے لوگوں کو نامزد کر کے کوئی ’’مجلسِ شوریٰ‘‘ بنا لیتے اور اپنے حُکم کے مطابق قرارداد بھی منظور کرا لیتے لیکن کیا کِیا جائے۔ ’’بدترین جمہوریت‘‘ میں بھی پارلیمنٹ کسی حد تک با اختیار ہوتی ہے؟۔

کافی عرصہ بعد معرُوف وکیل اور ڈاکٹرؔ بابر اعوان صاحب نے میرے مطلب کی بات کی ہے۔ فرماتے ہیں ’’مُتحدہ عرب اَمارات کے حوالے سے مجھے چودھری نثار خان کی تشویش پر حیرانی ہُوئی ہے، اَماراتی وزیر کی دھمکی حکمرانوں اور اُن سیاستدانوں کے لئے ہے جن کا کالا دھن اور محلّات متحدہ عرب امارات میں ہیں اور مُتحدہ اَمارات کی حکومت انہیں ضبط بھی کر سکتی ہے‘‘۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آزمائش کی اِس گھڑی میں ڈاکٹر بابر اعوان اپنے لِیڈر جنابِ زرداری کو آزمائش میں ڈال کر اُن کے لئے مزید مشکلات پیدا نہ کرتے؟ جنابِ زرداری نے تو اعوان صاحب کی ’’قانونی، سیاسی اور ذہنی پختگی‘‘ کی ہمیشہ تعریف کی ہے۔ اب اگرزرداری صاحب ڈاکٹر صاحب کو بذریعہ ایس ایم ایس یہ طعنہ دیں کہ "You Too Babar Awan" تو میرا ذمہ دوش پوش۔

متحدہ عرب اَمارات 6 عرب حُکمرانوں کا اتحاد ہے جِس طرح ہمارے ہاں جمہوریت کے’’تسلسل‘‘ کے لئے مختلف اُلنظریات سیاستدان (اُمرائ) اتحاد کر لیتے ہیں۔ پھر قومی دولت لُوٹنے والے ضمانتوں پر چھُوٹ جاتے ہیں اور حکومت اُن کے خلاف مقدمات کی پیروی نہیں کرتی۔ پھر خاندانوں کی دوستی کئی نسلوں تک چلنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کا آپریشن ضرب اُلعصب بھی حکومت کے لئے مجبوری بن گیا تھا۔ ہمارے دَبنگ وزیرِ داخلہ تو اپنے پسندیدہ دہشت گردوں کو ’’محب وطن طالبان‘‘ کا سرٹیفکیٹ بھی دے چُکے تھے۔ صُورت یہ ہے کہ ’’پاکستان اَمارات‘‘ کے "Stake Holders" اب کچھ نہیں کر سکیں گے۔ جنرل راحیل شریف کے بقول اگر اِس لڑائی سے خِطّے کی سلامتی کو خطرہ ہُوا تو ’’پاکستان اَمارات‘‘ میں شامل اُمراء تو پھر بیرون مُلکوں میں پناہ حاصل کر لیں گے لیکن عام لوگوں کے لئے ’’اللہ کی پناہ؟۔
------
کالم نگار نے مندریہ بالا مضمون میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو/العربیہ نیوز کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.