کلنٹن اسٹریٹ پر ہیلری کلنٹن۔ پاکستانی امریکی سوچیں

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکہ کی سابق خاتون اول، سابق سینیٹر، سابق صدارتی امیدوار اور پھر سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے نیویارک کے علاقے بروکلین کے کلنٹن اسٹریٹ کے کونے پر اپنی نئی انتخابی مہم کا ہیڈکوارٹر قائم کر کے امریکی صدارت برائے 2016ء کی ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کی نامزدگی کے حصول کی دوڑ کا آغاز کر دیا۔ یہ واضح رہے کہ پہلے انہیں اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کے تمام صدارتی امیدواروں سے مقابلہ، مباحثے، مسائل پر مؤقف اور تمام امریکی ریاستوں کے اپنے اپنے طے کردہ طریقوں کے تحت ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین سے ووٹ حاصل کر کے یہ پارٹی نامزدگی حاصل کرنا ہو گی۔ پارٹی میں اس جیت سے نامزدگی حاصل کرنے کے بعد پھر انہیں مخالف ری پبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار برائے صدارت سے انتخابی مقابلہ کرنا ہو گا۔ امریکی صدارت کا انتخاب جیت گئیں تو وہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی خاتون صدر ہوں گی۔

جی ہاں! ایک زمانے میں جب بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں تو بہ قول ہیلری کلنٹن انہیں بے نظیر بھٹو سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا۔ آپ بروکلین کی کلنٹن اسٹریٹ کے کونے پر ہیلری کلنٹن کے انتخابی ہیڈ کوارٹر کے قیام سے یہ تاثر نہ لیں کہ یہ علاقہ اور گلی کلنٹن خاندان کی موروثی جائیداد یا ملکیت ہے بلکہ بروکلین ہائٹس کے تاریخی علاقے میں یہ کلنٹن اسٹریٹ بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن کے بہ طور صدر اور خاتون اول وہائٹ ہائوس آنے سے بھی بہت پہلے سے بروکلین کے اسی علاقے میں اسی نام سے موجود ہے۔ مختصر الفاظ میں کلنٹن اسٹریٹ نہ تو کسی حکمران کو خوش کرنے کیلئے بنائی گئی نہ ہی ہیلری کلنٹن نے اپنے شاہانہ رعب اور جاگیردارانہ ذہنیت کے اظہار کیلئے کلنٹن اسٹریٹ کے کونے پر اپنا انتخابی ہیڈکوارٹر قائم کیا ہے بلکہ اس کی علامتی وجوہات کچھ اور ہیں جس کا جزوی اظہار ہیلری کلنٹن نے اپنی انتخابی امیدواری کا 12 اپریل کی سہ پہر کو اعلان کرتے ہوئے کیا ہے کہ وہ عام امریکی شہری کے کاز (مسائل) کو آگے بڑھانے کی چیمپئن رہنا چاہتی ہیں۔

یہ علاقہ مختلف اقلیتوں کالے، گورے، یہودی، پاکستانی، عرب آبادی والے علاقوں سے جڑا ہوا اور متوسط آمدنی کے نوجوان طبقے کا رہائشی خاموش علاقہ ہے۔ روایتی پرانے مکانات ہیں اور ساتھ ہی بہتے دریا کے پار دنیا بھر کی معیشت کو متاثر کرنے والا وال اسٹریٹ اور فنانشل ڈسٹرکٹ کا عالمی شہرت یافتہ علاقہ موجود ہے۔ بہرحال کلنٹن اسٹریٹ کے علاقے میں ہیلری کلنٹن کا انتخابی ہیڈکوارٹر ایک علامتی معاملہ ہے جو ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم، منشور اور وعدوں کا ترجمان ہے۔ ابھی تو پارٹی کی نامزدگی کیلئے پارٹی کی داخلی تنقید، مباحثے، مقابلے اور دیگر مراحل طے کرنے ہیں پھر پارٹی سے نامزدگی کے بعد اپنے حریف ری پبلکن امیدوار سے ملک گیر تلخ، گرماگرم مباحثوں، مقابلوں اور الزامات و جوابی الزامات، فنڈ ریزنگ اور دیگر مشکل مراحل کا سامنا کرنا ہو گا، ادھر ری پبلکن پارٹی جو ڈیموکریٹ باراک اوباما کی صدارت کے آٹھ سال بعد خاصی سرگرم اور منظم ہو کر انتخابی محاذ کھولنے کیلئے بے تاب ہے اور امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی واضح اکثریت کا بھی بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے اور صدر اوباما کو بقیہ مدت کیلئے ’’غیر موّثر‘‘ صدر بنا دینا چاہتی ہے۔

ری پبلکن پارٹی کے بااثر، دولت مند اور موّثر ’’بش فیملی‘‘ کا سپوت اور فلوریڈا ریاست کا سابق گورنر جیب بش بھی اپنے والد اور بھائی کی طرح امریکی صدر بننے کی خواہش بھی رکھتا ہے جبکہ جیب بش کی سرپرستی اور حمایت سے فلوریڈا سے ری پبلکن امریکی سینیٹر کے طور پر ابھرنے والے ہسپانوی اقلیت کے حامل سینیٹر مارکو روبیو نے بھی اپنی ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی کیلئے امریکی صدارت کا امیدوار ہونے کا اعلان کر دیا ہے جو جیب بش اور ہیلری کلنٹن دونوں کیلئے لمحہ فکر ہے۔

اب تک منظرعام پر آنے والے صدارتی امیدواروں میں سے امریکہ کے پاکستانیوں، پاکستان، امریکن مسلم کمیونٹی اور مسلم ممالک سے سب سے زیادہ روابط رکھنے والی امیدوار صرف ہیلری کلنٹن ہیں جو پاکستانی شادیوں کی رسومات، ملبوسات، کلچر، مسائل اور معاملات سے بھی خوب واقفیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے میرے محترم دوست اور پاکستانی بزنس مین رشید چوہدری کی صاحبزادیوں کی شادیوں میں شرکت، پاکستانی کمیونٹی کی تنظیموں، پاکستان، امریکہ فائونڈیشن ہم پاکستانی صحافیوں سے میل جول اور شکل شناسائی کے علاوہ پاکستان کے دورے اور پاکستان کے معاملات سے آگاہی کا ایک خاصا طویل دور گزارا ہے۔

جب وہ نیویارک سے امریکی سینیٹ کیلئے امیدوار تھیں تو انہوں نے مجھے ایک انٹرویو کے دوران نیویارک کے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز کا کھل کر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک کے پاکستانی یلوکیب ڈرائیورز نے اپنی ٹیکسیوں پر میرے انتخابی اسٹیکر لگا کر مجھے اور میری انتخابی مہم کو شہر کے کونے کونے تک جس طرح مشہور و مقبول کر دیا ہے میں اس کے لئے بے حد مشکور ہوں۔ وہ ایک عرصہ تک پاکستانی، امریکیوں کی خیرخواہ اور دوست رہیں۔ ہما عابدین ان کے ذاتی عملے کا حصہ اور خصوصی معاون بھی رہ چکی ہیں اور اب بھی ان سے قریب اور بیٹی کی طرح ہیں مگر پاکستانی، امریکیوں نے ہیلری کی قربت اور دوستی کا کوئی اجتماعی فائدہ نہیں اٹھایا۔ اب بھی ہیلری سے ذاتی تعلقات اور قربتوں کا ڈھول پیٹ کر اسلام آباد کے حکمران اور اپوزیشن حلقوں میں بہت سے موقع پرست ’’کیش‘‘ کرانے میں مصروف ہو جائیں گے لیکن پی ٹی آئی کے شاہ محمود ہوں یا پی پی پی کی عابدہ حسین ہوں۔

ہیلری کلنٹن اب ایک تبدیل شدہ ماحول میں ماضی سے خاصی مختلف سیاستدان اور صدارتی امیدوار ہیں، اب امریکہ میں بھارتی لابی اور بھارتی ووٹروں کا اثر و رسوخ اور تعداد کہیں زیادہ اور مؤثر ہے۔ اوباما کے دور صدارت میں امریکہ، بھارت تعلقات اور بھارتی نژاد امریکیوں کی امریکی ایڈمنسٹریشن اور امریکی کانگریس اور اداروں میں اہم پوزیشنوں پر تعیناتی نے حقائق اور رویّوں کو بہت تبدیل کر دیا ہے۔ اس وقت ہیلری کلنٹن بھارتی اور اسرائیلی لابی سے زیادہ قریب ہیں۔ آج سے کئی سال قبل امریکی سینیٹ کے انتخاب کے وقت وہ بوسٹن کے ایک مسلم فنڈ ریزنگ ڈنر میں جمع کردہ کئی ہزار ڈالرز کی رقم عرب مسلمانوں کو واپس کر چکی ہیں کہ انہیں فلسطینیوں کا حامی نہ سمجھا جا سکے مگر اس ناخوشگوار صورتحال کی وجہ خود ہمارے کمیونٹی قائدین کی یہ ناعاقبت اندیشانہ سوچ بھی ہے کہ ہم خود کو غیر مسلم امریکہ کی ایک اقلیت سمجھنے کی بجائے پورے امریکہ اور اس کے سیاسی نظام کو نظرانداز کر کے ان مسائل کو بھی امریکی سیاست دانوں کا انتخابی ایجنڈا کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جن مسائل کو ابھی امریکی معاشرے کی اکثریت اور امریکی سیاسی نظام تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں۔

کیا ہی بہتر ہو کہ ہم فی الحال ان متنازع مسائل کی بجائے اپنی اجتماعی حیثیت کو منوانے کیلئے ان مشترکہ مسائل کو اٹھائیں جو تضاد اور تنازع پیدا نہ کرے۔ بہرحال ہیلری کلنٹن اب ماضی کے مقابلے میں تبدیل شدہ حالات میں پاکستانی امریکیوں کیلئے ایک تبدیل شدہ صدارتی امیدوار ہیں لیکن پاکستانی امریکیوں کیلئے ’’چوائس‘‘ بھی محدود ہے اور انہوں نے ابھی تک اپنے ووٹوں کی اہمیت بھی نہیں منوائی۔ نئے حالات میں نئے رویّوں کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے عالمی مسائل کو امریکی انتخابی و سیاسی نظام میں اٹھانے سے قبل ضروری ہے کہ پہلے ایک اقلیت ہونے کی حقیقت کے تناظر میں اس نظام میں اپنی اور اپنے ووٹوں کی اہمیت کو منوائیں پھر ہم جو بات کریں گے اس کی کوئی اہمیت ہو گی۔ فی الوقت تو ہم ذاتی شناخت و تعلقات و تصاویر پر زور ڈالے ہوئے ہیں۔ بہ طور کمیونٹی ہماری یا ہمارے ووٹوں کی اہمیت نہیں لہٰذا 2016ء کے امریکی صدارتی اور کانگریس کے انتخابات سے قبل یہ ضروری ہے کہ ہم ذاتی فوٹو گرافی کی بجائے اجتماعی انداز میں امیدواروں سے روابط بڑھائیں، دیگر اقلیتوں کی طرح ہماری اکثریت بھی ڈیموکریٹس کی حامی ہے۔

تمام امیدواروں سے رابطے کر کے ایک مربوط حکمت عملی اختیار کریں تو کلنٹن اسٹریٹ پر ہیلری کلنٹن کا انتخابی ہیڈکوارٹر بھی آپ سے رابطہ کر کے آپ کی اہمیت تسلیم کرے گا ورنہ الگور، بش صدارتی مقابلے میں اگر کیلی فورنیا میں بیٹھی امریکی مسلمانوں کی بزرگ قیادت اگر دو مسلم سفارت خانوں سے آنے والے مبینہ احکامات کی تعمیل کرنے کی بجائے حقائق اور تدبّر سے الگور کے حق میں فیصلہ کرتے تو چند ہزار ووٹوں سے جارج بش کی بجائے الگور جیت کر امریکی صدر بن جاتے تو…شاید آج تاریخ مختلف ہوتی۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں