.

خود پسند رہنماو¿ں کے بت گرنے کا وقت آگیا

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ولادی میر الیچ الیانوف 1870ء میں اپریل کے چوتھے ہفتے کے آغاز پردریائے وولگا کے کنارے آباد شہر سمبرسک میں پیدا ہوا۔ پندرہ سال کی عمر کو پہنچنے پر پے در پے کئی ایسے واقعات ہوئے، جس نے الیچ کی زندگی اور سوچ بدل کر رکھ دی، پہلے 1886ء میں الیچ کا والد دماغی شریانوں کے پھٹنے سے انتقال کر گیا تو اُسکے اگلے برس مئی 1887ء میں الیچ کے بڑے بھائی الیگزینڈر کوروسی ژار الیگزینڈر سوئم پر ہونیوالے قاتلانہ حملہ کے الزام میں گرفتار کر کے پھانسی دے دی گئی اور الیچ کی ہمشیرہ ”اینا“ کو ملک بدر کر کے کازان سے 25 میل دور کوکشکینو بھجوا دیا گیا ۔ اِس اچانک آپڑنے والی افتاد نے الیچ کی سوچ ہی نہیں بدلی بلکہ زندگی کا مقصد بھی بدل کر رکھ دیا۔ الیچ کی سوچ میں تشدداور انتہا پسندی کے عناصر ایسے غالب آئے کہ آنیوالی زندگی میں ا لیچ نے اعتدال پر رہ کر کوئی کام نہ کیا۔ اس نے انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا تو سفر ، گرفتاریوں اور جلاوطنیوں کا سلسلہ جیسے اسکے ساتھ بندھ سا گیا تھا۔ گرفتاریوں کا سلسلہ بڑھا تو اُس نے انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کیلئے بار بار اپنا نام تبدیل کرنا شروع کردیا حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب اشتراکی انقلاب کی تحریک کے دوران اسکے سینکڑوں نام مشہور ہوچکے تھے، لیکن ہرمرکب نام کے ساتھ ایک نام ضرور شامل رہا اور یہ نام لینن کا نام تھا۔

جی ہاں! روس اور اردگرد کی ریاستوں کو سویت یونین کے قالب میں ڈھالنے والا یہ انقلابی رہنما ولادی میر الیچ کوئی اور نہیں بلکہ اشتراکی انقلاب کا داعی اور سوویت یونین کا قائد ولادیمیرالیچ لینن تھا، جسے کبھی ولادیمیر الیچ الیانوف کہا گیا تو کبھی وی آئی لینن اور کبھی ایں لینن کے نام سے پکارا گیا۔

لینن اس قدر خود پسند تھا کہ نظریہ مارکس پر عمل پیرا ہونے کے باوجود اُس نے اِس نظریے میں اپنا الگ اور اضافی حصہ بھی متعارف کرانا ضروری سمجھا۔ اِس الگ حصے میں لینن نے بینکوں کے انضمام ، صنعتوں میں اتحادِ تجار اور مالیاتی سرمایہ کاری کے بڑھنے کی بنیادی وجوہات بیان کیں۔ لینن کا کہنا تھا کہ ”سرمایہ داری کے آخری مرحلہ میں زیادہ منافع کی تلاش میں سرمایہ برآمد ہو جاتا ہے، جس کے نتیجہ میں دنیا بین الاقوامی اجارہ داروں اور یورپی ممالک (کی کاروباری مقاصد کے تحت دنیا کے بیشتر حصوں میں قائم شدہ بستیوں) کے درمیان بٹ کر رہ جاتی ہے، جس کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔

یہ الگ حصہ ”نظریہ لینن“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اپنا نظریہ متعارف کرانے کے بعد بلا کے مقرر لینن نے مزدوروں اور کسانوں کو اکٹھا کیا اور روسی ژار کے کئی صدیوں پر محیط اقتدار کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوگیا اور یوں لینن نے اُس عظیم سوویت کی بنیاد رکھی،جس نے آنےوالی چھ دہائیوں تک دنیا کو روس کے سامنے سرنگوں رکھا۔

اکیس جنوری 1924ء میں 53 سال کی عمر میں ماسکو میں لینن کا انتقال ہوا تو چار دن تک نو لاکھ افراد ستونوں والے کمرے سے گزرکر لینن کا آخری دیدار کرتے رہے۔

لینن کے اعزاز میں پیٹروگراڈ کا نام بدل کر لینن گراڈ رکھ دیا گیا، ایک شہر ہی کیا سوویت یونین میں ہر دوسری چیز کا نام لینن کے نام رکھ دیا گیا تھا۔مثال کے طور پر یوکرین کے صنعتی شہر زاپوریزیا میں لینن ایوینیو ایک اہم شاہراہ ہے، اس شاہراہ کے بالکل آغاز پر لینن سکوائر ہے، جس میں لینن کا مجسمہ ہے، اس مجسمہ میں لینن اُس ڈیم کی طرف اشارہ کر رہا جو لینن کے نام پر ہی قائم کیا گیا تھا، جبکہ اِس ڈیم کی ایک دیوار پر آرڈر آف لینن کا تمغہ بھی بنایا گیا ہے، اِسی ڈیم کے پیچھے لینن نامی جھیل ہے جس کے وسط میں لینن جزیرہ ہے اور یہ سب کچھ شہر کے لینن ڈسٹرکٹ میں ہے۔

پورے سوویت یونین میں لینن لینن کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لینن اپنے نظریے کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہے، لیکن لینن کے ”خاتمے“ کی ابتدا چھ دہائیوں تک قائم رہنے والے نظریے کے بانی ولادی میر لینن کے اپنے ملک علاقے سے اُس وقت ہوئی جب سوویت یونین کے خاتمے پر 1991ء میں لینن گراڈ کا نام دوبارہ سینٹ پیٹرز برگ رکھ دیا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کئی دیگر روسی شہروں کے نام بھی 1917ء کے بولشوک انقلاب سے پہلے والے ناموں میں تبدیل کر دیے گئے اور یوں سورڈلا وسک بنا یکاٹیرنبرگ اور گورکی کا نام نزنی نوو¿گوروڈ رکھ دیا گیا، اسکے باوجود گزشتہ پچیس برسوں میں سوویت یونین سے آزاد ہونےوالی ریاستوں میں لینن ”زندہ“ ہی رہا یا یوں کہیں کہ کسی نے ”لینن“ کو کچھ نہیں کہا لیکن گزشتہ برس روس اور یوکرین کے درمیان تنازعے کے بعد ”لینن“ کے مکمل خاتمے کی تحریک شروع ہوئی اور گزشتہ برس ستمبر میں مظاہرین ”لینن واپس چلے جاو¿“ کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے اور ”خارکیو“ شہر کے وسط میں ایستادہ لینن کا مجسمہ گرادیا ۔

اِس تحریک نے اتنا زور پکڑا کہ گزشتہ ہفتے یوکرین کی پارلیمان کو ملک میں کمیونسٹ علامتوں پر پابندی لگانا پڑگئی۔ نو اپریل کو یوکرین کی پارلیمان نے کمیونسٹ پروپیگنڈا اور نازی علامات پر پابندی کا بل پاس کرلیا ۔ اس پابندی کا اطلاق یادگاروں، جگہوں اور گلیوں کے ناموں پر ہوگا اورچھ ماہ کے اندر اندر انکے نام بدل دئیے جائیں گے، یوں ایک محتاط اندازے کے مطابق اس قانون کے تحت شاہراہوں اور عمارتوں پر ایستادہ سینکڑوں مجسمے ہٹانے پڑینگے، لاکھوں گلیوں کے نام بدلے جائیں گے اور ٹنوں کاغذی کارروائی کرنا پڑیگی، لیکن اسکے باوجود یوکرین یہ سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہے۔

قارئین کرام!! پاکستان میں بھی بہت سے خود پسند رہنماوں کے بت گرنے کا وقت آگیا ہے، یہ خود پسند رہنما بھی لینن کی طرح غریب کے نام پر سیاست کرتے اور اقتدار میں تو آتے ہیں لیکن غریب کا خون نچوڑنے میں بھی آگے آگے رہتے ہیں ، یہ پاکستانی لینن اپنی جماعتوں کے نام عوامی، جمہوری، انصافی اور اسلامی تو رکھتے ہیں لیکن اِن جماعتوں میں کہیں عوام کا درد ہے، نہ جمہوری سوچ ہے، نہ انصاف کی کوئی رمق باقی ہے اور نہ ہی کہیں اسلام کی روح نظر آتی ہے، یہ سب بھی لینن کی طرح اس سرزمین پر اجنبی ہیں، ان کے نظریات بھی لینن کی طرح کھوکھلے اور خودپسندانہ ہیں۔

یہ لوگ کہیں قوم کی رگوں میں لسانیات کا زہر گھولتے ہیں تو کہیں فرقہ واریت کے نام پر گلے کاٹتے ہیں، یہ لوگ کہیں علاقائیت کے نام پر منافرت کے بیج بوتے ہیں تو کہیں صوبائی عصبیت کو ہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد کی راہ ہموار کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اشرافیہ کے اللے تللے رکنے میں آرہے ہیں نہ ہی مہنگائی کا طوفان تھمنے میں آرہا ہے۔ وقت کی صدا سننے کیلئے یہ سرے سے تیار ہی نہیں۔ بار بار مہلت ملنے کے باوجود یہ باز نہیں آ رہے ۔ ایجویر روڈ لند ن سے لیکر پاکستان کے شہر شہر کھڑے یہ بت بھی عنقریب گر جائیں اور جلد گلی گلی شور مچ جائے گا ”الیچوں واپس چلے جاو!“۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.