.

سانپ کے قتلے اور سورنی کا دودھ!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’یار، میں بہت پریشان ہوں!‘‘
’’کیوں خیریت تو ہے؟‘‘
’’خیریت کہاں ہے، میرے بارے میں ایک اخبار کے رپورٹر نے خبر شائع کی ہے کہ میں ناشتے میں سانپ کے قتلے کھاتا ہوں اور سورنی کا دودھ پیتا ہوں،
’’کیا ذائقہ ہوتا ہے ان چیزوں کا؟‘‘

’’تم تو یوں پوچھ رہے ہو جیسے تم نے اس خبر پر یقین کر لیا؟‘‘
’’یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں، اخبار تو معاشرے کے معزز اور پڑھے لکھے لوگ نکالتے ہیں، یہ لوگوں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں، لہٰذا کوئی اخبار جھوٹ کیسے چھاپ سکتا ہے؟‘‘

’’چھاپا ہے۔ جھوٹ چھاپا ہے، انہوں نے اور اگر جو چھپا ہے وہ سچ ہے تو پھر سانپ کے قتلے اور سورنی کا دودھ یہ لوگ خود مجھے سپلائی کرتے ہوں گے، یہ چیزیں بازار میں ملنے سے تو رہیں!‘‘
’’تم تو خاصے جذباتی ہو رہے ہو، اس طرح کے معاملے جوش سے نہیں ہوش سے طے ہوتے ہیں، تم نےرپورٹر سے اس سلسلے میں بات کی؟‘‘

’’خود اس نے مجھے فون کیا تھا!‘‘
’’خبر چھاپنے کے بعد اس نے تمہیں فون بھی کیا؟‘‘
’’ہاں کہہ رہا تھا کہ میں نے جو خبر چھاپی ہے، اس پر آپ کے تاثرات کیا ہیں؟‘‘
’’تو پھر تم نے اپنے تاثرات ریکارڈ کرائے؟‘‘
’’نہیں‘‘ ……’’کیوں؟‘‘

’’اس لئے کہ اگلے دن یہ خبر شائع ہونا تھی کہ خدا بخش انجان نے ناشتے میں سانپ کے قتلے کھانے اور سورنی کا دودھ پینے کی تردید کی ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ناشتے میں اگر یہ چیزیں نہیں لیتے تو پھر کیا لیتے ہیں؟‘‘
’’تو پھر تم اخبار کے ایڈیٹر کے نوٹس میں یہ بات لائو، وہ یقیناً اس واہیات خبر پر رپورٹر کو نوٹس جاری کرے گا!‘‘
’’میں نے ایڈیٹر کو فون کیا تھا مگر پتہ چلا کہ وہ ’’صحافتی ضابطہ اخلاق‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کی صدارت کر رہے ہیں‘‘
’’ایک دفعہ پھر فون کرنا تھا‘‘

’’میں نے کیا تھا اور میری ان سے بات بھی ہو گئی‘‘ انہوں نے میری شکایت پر فرمایا کہ ’’ہمارامعاشرہ سانپ کے قتلے کھانے اور سورنی کا دودھ پینے کو بہت برا سمجھتا ہے، آپ کو ان حرام چیزوں کے استعمال سے احتراز کرنا چاہئے تھا!‘‘
’’پھر تم نے کیا کیا؟‘‘

’’میں نے فون بند کیا اور دیوار کے ساتھ دو ٹکریں ماریں، وہ تو شکر ہے کہ میں نے جوش میں بھی ہوش سے کام لیتے ہوئے یہ ٹکریں بہت آہستگی سے ماری تھیں، ورنہ مجھے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں جانا پڑتا جہاں مرہم پٹی سے پہلے پولیس والے میرا بیان لیتے اور مرہم پٹی کے فوراً بعد اقدام خود کشی میں مجھے گرفتارکر لیتے!‘‘
’’ہاں یہ تو ٹھیک ہے، مگر مجھے بتائو کہ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں؟‘‘

’’یہ تو مجھے علم نہیں، تم ہی بتائو مجھے کیا کرنا چاہئے؟‘‘
’’تم فوراً عدالت سے رجوع کرو تاکہ تمہیں انصاف مل سکے!‘‘
’’تو گویا میری بقیہ عمر عدالتوں کے چکر کاٹنے میں بسر ہو جائے، اور جو چار پیسے برسوں کی محنت کے بعد جمع کئے ہیں وہ میں مقدمے بازی پر خرچ کر ڈالوں‘‘

’’ہاں یہ تو ہے، چلو ایک اور کام کرو؟‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ …’’تم بھی تو ایک اخبار میں کالم لکھتے ہو، تم اپنے کالم میں ان کی ایسی کی تیسی پھیر دو!‘‘
’’یہ میرا مزاج نہیں ہے، ویسے بھی معاملے پر غور کرنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا ہے کہ اس بے چارے رپورٹر کا صرف کاندھا استعمال ہوا ہے۔

’’تو پھر ایڈیٹر کے ساتھ دو دو ہاتھ کرو‘‘
’’مجھے تو بے چارہ ایڈیٹر بھی اب بے قصور لگتا ہے‘‘
’’پھر مالک سے بات کرو!‘‘
’’میرے خیال میں مالک بھی بے بس ہے۔

ایسی خبریں کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوتیں، بعض اوقات حکومتیں بھی بے بس ہوتی ہیں، رپورٹر، ایڈیٹر اور بے چارہ مالک کس کھیت کی مالی ہے؟ یہ خبریں کسی حکم عدولی پہ سزا دینے کے لئے ہوتی ہیں، سر جھکانے کے لئے ہوتی ہیں‘‘
’’تو پھر تم ایک کام کرو!‘‘

’’وہ کیا’‘‘ ………’’صبر کرو‘‘
’’میرا خیال ہے تمہارا مشورہ صائب ہے، صبر کے سوا واقعی کوئی چارہ نہیں!‘‘

’’چلو شکر ہے، تم نے میری کوئی بات تو مانی مگر آخر میں، میری ایک بات کا جواب دو، قسم کھائو کہ تم جھوٹ بالکل نہیں بولو گے!‘‘
’’قسم کھاتا ہوں‘‘

’’تو کیا تم ناشتے میں واقعی سانپ کے قتلے اور سورنی کا دودھ نہیں پیتے، دیکھو سچ سچ بتانا، تم نے ابھی قسم کھائی ہے!‘‘

اور اب آخر میں یمن سعودی تنازع کے حوالے سے ایک ستمظریفانہ مشورہ، اور وہ یہ کہ ایرانی اور سعودی ریال پر پلنےوالوں کو یمن جنگ کے لئے بھیج دیا جائے، تو یمن میں امن قائم ہو نہ ہو،پاکستان میں امن قائم ہو جائے گا۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.