.

ایک مختلف قسم کے سعودی!

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انگریزی کے دو اخبارات کے دو عشرے سے زیادہ عرصے تک مدیر رہنے اور غیرملکی تارکین وطن کی کمیونٹی سے روابط کے ایک طویل تجربے کے دوران مجھے بہت سے ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے جو سعودی ذہنیت کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے ہیں۔انھوں نے غلط مفروضے قائم کررکھے ہیں۔زیادہ تر لوگ ایک عام سعودی کی بنیادی فطرت سے آگاہ نہیں ہیں۔

بدقسمتی سے تارکین وطن کے ساتھ مقامی ،سماجی اور سیاسی ایشوز پر تبادلہ خیال کے دوران سعودی معاشرے کے منفی پہلو ہی ہمیشہ موضوع گفتگو رہے ہیں۔ان کی جانب سے اٹھائے گئے بعض نکات بالکل درست ہیں۔ہمیں معاشرے کے طور پر ایک وسطی کردار سامنا لانا چاہیے۔ تاہم بہت سے تارکین وطن اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ ایک سعودی اپنی فطرت کے اعتبار سے دینے والا اور دوسروں کا خیال رکھنے والا ہوتا ہے۔

خیرات اور عطیات دینا اسلامی روایت کا حصہ ہے۔ہمارے درمیان بہت سے ایسے مرد وخواتین موجود ہیں جو معاشرے کے گم نام ہیرو ہیں۔وہ دنیا میں بہت سے لوگوں کے مقابلے میں بہت زیادہ انسانیت پسند اور دوسروں کا خیال رکھنے والے ہیں۔یہ لوگ ہمارے درمیان ہی رہتے ہیں لیکن ان کے اچھے کاموں کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا۔مجھے ایسے بہت سے زبردست لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے۔وہ گراں قدرعطیات دیتے ہیں لیکن اپنی نمود ونمائش چاہتے ہیں اور نہ عوام کی نظروں میں آنا چاہتے ہیں۔

مجھے سعودی ائیرلائنز کے ایک کپتان سے ملاقات یاد ہے۔وہ جب پرواز کے لیے نہیں جاتے تھے تو پھر وہ ایک شہر سے دوسرے شہر چلے جاتے اور نوجوان لڑکوں کو ٹینس کھیلنا سکھاتے تھے۔ان کا یہ مشغلہ تھا کہ وہ جدہ کے کورٹس سے استعمال شدہ ٹینس بال اکٹھے کرتے تھے۔وہ خراب ریکٹس کو مرمت کرتے اور ان کے ذریعے نوجوانوں کو ٹینس کھیلنے کی تربیت دیتے تھے اور ان میں نظم وضبط پیدا کرتے تھے۔

مجھے کالج کی نوجوان خواتین کے ایک گروپ سے بھی متعارف کرایا گیا۔وہ مریضوں اور ضعیف العمر افراد کے پاس جاتی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔انھیں امید اور دلاسا دلاتی تھیں۔ایک اور سعودی نے ایک ایسا مرکز قائم کیا تھا جہاں تارکین وطن کے معذوریوں کا شکار بچوں کا علاج کیا جاتا تھا اور ان کا خیال رکھا جاتا تھا۔ان صاحب نے ہاتھ میں کشکول لے کر یہ کام شروع کیا تھا لیکن پھر وہ ایک پائیدار نظام ترتیب دینے میں کامیاب ہوگئے۔جی ہاں! انھوں نے تارکین وطن کا خیال رکھا اور اسی طرح دوسرے سعودیوں نے بھی تارکین وطن کے لیے رضاکارانہ منصوبے شروع کررکھے ہیں۔

خوشیوں کی تشہیر

اور پھر وہ سعودی ہیں جنھوں نے ایک فرق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور بلا امتیاز ضرورت مند لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کیا ہے۔حائل اور قصیم میں مجھے لوگوں کے ایک گروپ سے ملاقات کا موقع ملا۔ انھیں سورج کی تپش میں کام کرنے والے مزدوروں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش لاحق تھی۔انھوں نے گلیوں اور بازاروں کی صفائی کا کام کرنے والوں کے لیے بھی گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔

اگر ہم بیرونی چہرے کو کھرچیں تو ہمیں اپنے درمیان ایسے بہت سے مرد وخواتین مل جائیں گے جن کے اقدامات،حوصلے اور عزم کی وجہ سے خوشیاں پھیل رہی ہیں۔وہ کم مراعات یافتہ لوگوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں اور اس کو ایک مؤثر عملی خدمت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

بیورو کریسی اور ڈھلتی عمر ایسی رکاوٹیں ہیں جن سے بہت سے لوگوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی معاشرے کی خدمت کے لیے کوئی کردار ادا کرنے میں بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔تاہم ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جنھوں نے افسرشاہی کی رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے اضافی کوششیں کیں اور دوسروں کی خدمات کے لیے پُرعزم رہے ہیں۔وہ معاشرے میں تبدیلی لانے کے علمبردار اور رول ماڈل ہیں۔وہ سعودی نوجوانوں کی نئی نسل کے لیے بھی مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آج بہت سے سعودی نوجوان موجود ہیں جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں بھی دوسروں کی مدد کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔وہ بڑی خاموشی اور لگن سے کام کررہے ہیں اور اس کا صلہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس سے دوسروں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی رونما ہونی چاہیے۔ یہ وہ سعودی ہیں جنھیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں۔ہم انھیں سلام (سلیوٹ) پیش کرتے ہیں۔

----------------------------------------------------------
تجربے کار صحافی اور تجزیہ کار خالد المعینا سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:
kalmaeena@saudigazette.com.sa اور Twitter: @KhaledAlmaeena ۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.