قرارداد 2216 اور ایران کا یمن میں منصوبہ

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جس رات یمن سے متعلق قرارداد پر رائے شماری ہورہی تھی،ایران مزید وقت حاصل کرنے میں مصروف تھا اور وہ جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر آنے سے متعلق تجاویز پیش کررہا تھا۔

ایران کے اتحادی روسیوں نے اس نظریے کی بھی تشہیر کی کوشش کی کہ ایرانی حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور یمنی حکومت کے ساتھ مل بیٹھنے کے لیے آمادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاکہ بحران کا پُرامن انداز میں خاتمہ ہوسکے۔

اب پُرامن حل کی تجویز ایسی ہے کہ متحارب گروہ بھی اس کو مسترد نہیں کرسکتے۔اگر حقیقی معنوں میں یہ حل تلاش کر لیا جاتا ہے توجنگ کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔پھر یہ یقیناً لڑائی جاری رکھنے اور کچھ عرصے کے بعد کوئی پُرامن حل تلاش کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔اس میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ تمام جنگجو یمنی ہیں۔

ایرانی اس سے بھی ایک قدم آگے گئے ہیں،جب ان کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے یہ کہا کہ حوثیوں نے حکومت کے ساتھ بات چیت سے اتفاق کیا ہے۔یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ حکومت پر اپنے غلبے کے مطالبات سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

ایرانیوں کے حوثیوں کی جانب سے بولنے کے آئیڈیا کے حوالے سے دو مسائل ہیں۔

پہلا مسئلہ بہ ذات خود یہ آئیڈیا نہیں ہے بلکہ باغی گروپوں کے ارادے ہیں۔حوثی تحریک اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیاؤں کو، جن کے خلاف جنگ شروع کی گئی تھی،اب دردناک فوجی زوال کا سامنا ہے اور وہ اب دوبارہ از سرنو منظم ہونے کی کوشش کررہے ہیں،وہ اپنی فورسز کومجتمع کررہے ہیں اور مقامی اور بیرون سطح پر زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کی سعی کررہے ہیں۔

جنگ بندی کی تجویز کاایک ہی مقصد ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں روزانہ کے فضائی حملے بند کردیے جائیں۔ بمباری کی بندش سے یہ ہوگا کہ باغیوں کو سانس لینے کا ایک موقع مل جائے گا اور وہ برسرزمین دوبارہ مجتمع اور منظم ہوسکیں گے۔

اس سے وہ اس قابل ہوسکیں گے کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں کو یمن پر کنٹرول کے لیے استعمال کرسکیں۔وہ فضائی حملوں کے آغاز سے قبل اس مقصد کو حاصل کرنے کے قریب تھے۔اس وقت وہ عدن کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔یہ آخری بڑا شہر ہے جہاں انھیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرار داد نمبر 2216 کئی لحاظ سے اہم ہے۔اس کے تحت یمن کی حوثی ملیشیا پر اسلحے کی پابندی عاید کردی گئی ہے اور ملک کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کو بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔

تاہم میرے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ سلامتی کونسل نے بالواسطہ طور پر بمباری بند کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے اور یہ ایرانی تجویز کے خلاف ہے۔اس لیے اس نے آپریشن فیصلہ کن طوفان کے تحت اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کو جائز قراردیا ہے اور انھیں ایک لحاظ سے تقویت بخشی ہے۔یہ فوجی آپریشن کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پائے سمجھوتے پر عمل درآمد کرانا ہے۔اس سے باغیوں نے خود اتفاق کیا تھا اور دستخط کیے تھے لیکن بعد میں انھوں نے بغاوت برپا کردی۔

ایرانی تجویز میں دوسرا مسئلہ ایران بہ ذات خود ہے۔جس بات نے ایران کے لیے معاملات گمبھیر بنادیے ہیں،وہ پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کا خلیجی عرب ممالک کے لیے موعودہ بیان ہے۔اس میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایرانی حکام سے رابطہ کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لائیں۔

ہماری خواہش تھی کہ انھوں نے ایران کے بارے میں ایسا نہ کہا ہوتا۔ایران دو ہزار سال سے زیادہ عرصے سے کبھی بھی یمنی امور میں کوئی فریق نہیں رہا ہے اور وہ یمنیوں کو جانتا بھی نہیں ہے۔اب کوئی بھی تنازعے کے ایک فریق کے طور پر اس کی میزبانی کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ ہرکوئی یہ بات جانتا ہے کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کی امداد کا بڑا مقصد یہ ہے کہ وہ یمن کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک موثر اور فعال شراکت دار بننا چاہتا ہے اور وہ اس ملک کو بھی ایک اور لبنان ،عراق ،شام یا غزہ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکے۔

سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک یقیناً یہ نہیں چاہتے ہیں اور وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔اگر حوثی اور معزول صدر علی عبداللہ صالح مصالحت سے متعلق سنجیدہ ہیں تو انھیں جان لینا چاہیے کہ خلیج تعاون کونسل سے کیسے رجوع کرنا ہے جو علاقے کی نمائندہ اور ایسے نظام کی حامل ہے جو یمن کے قریب تر ہے۔

-------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کی اس تحریر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو/ العربیہ نیوز کا متفق ہونا ضروری نہیں)

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں