.

شاہراہِ ریشم اور یمن

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کی صبح ایک انگریزی اخبار میں چین کے صدر ژی جن پنگ کا مضمون نظر آیا جس کا عنوان تھا ’’پاک چائنا دوستی زندہ باد‘‘۔ مضمون پڑھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ یہ چین کے صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہے لیکن اُنہیں ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے گھر جا رہے ہیں۔ اس مضمون میں جیسے ہی شاہراہِ ریشم کا ذکر آیا تو میرا بایاں ہاتھ اپنی کمر پر چلا گیا جہاں بدستور درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاہراہِ ریشم کا میری کمر کے درد سے کیا تعلق ہے؟ تو جناب قصہ کچھ یوں ہے کہ ابھی کل ہی مجھے شاہراہِ ریشم پر سفر کرنا پڑا۔ ایبٹ آباد کے دو تعلیمی اداروں کی تقریبات میں شرکت کے لئے شاہراہِ ریشم پر سفر شروع ہوا تو ایسے ایسے جھٹکے لگے کہ یہ شاہراہ ایک ڈرائونا خواب بن گئی۔ شاہراہِ ریشم کو پاک چین دوستی کی یادگار قرار دیا جاتا ہے۔ نام اتنا شاعرانہ ہے کہ اس شاہراہ کا ذکر آتے ہی دو ملکوں کی دوستی کا تصور ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہرا نظر آنے لگتا ہے لیکن جب میری گاڑی حقیقت میں اس شاہراہ پر سفر کر رہی تھی تو میں سوچ رہا تھا کہ اگر کبھی وزیر اعظم نواز شریف یا صدر ژی جن پنگ کو اس شاہراہ پر سفر کرنا پڑ گیا تو پاک چین دوستی کے شاعرانہ تصور کو کافی جھٹکے لگیں گے۔ اس شاہراہ کا وہ حصہ کہیں سے بھی ریشم جیسا نظر نہیں آتا جو حسن ابدال کو ایبٹ آباد سے ملاتا ہے۔ اس شاہراہ پر ہیوی ٹریفک کی بھرمار نے ایک خوبصورت علاقے کے کئی لوگوں کے مزاج میں چڑچڑا پن پیدا کر دیا ہے۔ ایبٹ آباد سے واپسی پر میں نے اس شاہراہ کی ریشمی تکلیف سے بچنے کے لئے نتھیاگلی اور مری کا پہاڑی راستہ اختیار کیا جو کچھ لمبا تھا لیکن اس سفر میں جھٹکے نہیں تھے۔ ماڈرن ایج اسکول اینڈ کالج ایبٹ آباد میں امتحانی نظام کی خامیوں پر ایک سیمینار تھا جبکہ نواں شہر میں دار ارقم سکول کا افتتاح تھا۔ یہاں پر خیبر پختونخوا حکومت کے سینئر وزیر عنایت اللہ خاں، مشتاق غنی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر اظہر جدون بھی موجود تھے۔ بعد ازاں مشتاق غنی صاحب کے ہاں شہر کے معززین، علماء اور صحافیوں کی بڑی تعداد سے بھی ملاقات ہوئی۔ تینوں تقاریب میں سینکڑوں لوگ شریک تھے۔ اکثر لوگوں نے تعلیمی مسائل کے علاوہ لوڈشیڈنگ، ٹریفک کے مسائل اور کچھ بزرگ خواتین نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر سوالات کئے۔ خلاف توقع کہیں پر بھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ پاکستان کی فوج سعودی عرب جائے گی یا نہیں؟ ایک ایسا شہر جہاں پاکستان ملٹری اکیڈمی کی سالانہ پاسنگ آئوٹ پریڈ ہو رہی تھی وہاں کسی کو یمن کے تنازعے میں دلچسپی تھی نہ کسی نے کراچی کے حلقہ این اے 246کے ضمنی الیکشن کا ذکر کیا۔ واپسی پر میں اپنے آپ سے پوچھتا رہا کہ پچھلے کئی دنوں سے الیکٹرانک میڈیا پر صرف کراچی کے ضمنی الیکشن اور یمن کے بحران کا شور ہے کیا یہی پاکستان کے اصل مسائل ہیں؟

ذکر ہو رہا تھا چینی صدر کے مضمون کا جس میں اُنہوں نے زمین پر شاہراہِ ریشم کے بعد سمندر کے پانیوں میں بھی ایک شاہراہ ریشم بنانے کا عزم ظاہر کیا تاکہ جنوبی ایشیائی ممالک میں اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان میں پاک ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر پر بھی مذاکرات ہوں گے۔ چین کی ایک کمپنی پاکستانی علاقے میں اس گیس پائپ لائن کو بچھانے کے منصوبے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ 2775کلو میٹر لمبی اس گیس پائپ لائن کا 900کلو میٹر حصہ ایران میں مکمل ہو چکا ہے۔ امریکی دبائو کے باعث یہ منصوبہ کئی سال سے تعطل کا شکار تھا لیکن ایران اور امریکا میں کشیدگی کم ہونے کے بعد پاکستان اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتا ہے۔ چینی صدر کے دورے میں اگر پاک ایران گیس پائپ لائن کو چین کے ذریعہ مکمل کرنے کے معاہدے پر دستخط ہو گئے تو شاید امریکا کو کوئی اعتراض نہ ہو لیکن دوست ملک سعودی عرب کے ارباب اختیار کے دل و دماغ میں کچھ سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یمن کے حالیہ بحران نے سعودی عرب اور ایران کے اختلافات کے کئی نئے پہلو اجاگر کئے ہیں۔ اس تنازعے میں پاکستان نے فریق بننے کی بجائے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن سعودی دوستوں کو فی الحال ثالث کا کردار قبول نہیں۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طرف سے یمن کے باغیوں کے خلاف قرارداد کی منظوری نے سعودی عرب کا مقدمہ مضبوط کر دیا ہے۔ اس قرارداد کی منظوری کے بعد ایران یمن کے باغیوں کو سیز فائر پر آمادہ نہ کر سکا تو پھر پاکستان اور ترکی سمیت کئی اہم ممالک کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔ ایک سعودی صحافی نے مجھے پوچھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں عربوں کی مدد کی اور عربوں نے پاکستان کی مدد کی لیکن اس مرتبہ پاکستان کا رویہ مختلف کیوں ہے؟ میں نے وضاحت کی کہ پاکستان نے واقعی 1956، 1967 اور 1973ء میں عربوں کی مدد کی لیکن اس وقت مقابلے پر اسرائیل تھا۔ 1956میں اسرائیل نے نہر سویز پر حملہ کیا تو اس وقت کے بنگالی وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر سر مورس جیمز کو بلا کر کہا کہ یہ سب برطانیہ کا کیا کرایا ہے اور انہوں نے دولت مشترکہ سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی۔ 1967ء اور 1973ء کی عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان کی ایئر فورس نے اسرائیلی طیارے مار گرائے۔ 1979ء میں حرمین شریفین پر قبضے کی کوشش کی گئی تو پاکستانی فوج فوری طور پر سعودی عرب پہنچا دی گئی۔ 1990ء میں عراق نے کویت پر حملہ کیا تو پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کے لئے فوج تو بھیج دی لیکن دوسری طرف عراق اور کویت میں صلح کی کوشش بھی جاری رکھی۔ پاکستان نے دو مرتبہ سعودی عرب کے دفاع کے لئے فوج بھیجی اور اسی لئے سعودی عرب نے بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا لیکن تمام عرب ممالک کا کردار سعودی عرب جیسا نہیں رہا۔

مصر اور عراق روایتی طور پر پاکستان کی بجائے بھارت کے زیادہ قریب رہے ہیں۔ میں ان ممالک کی بات ہی نہیں کرتا۔ آیئے ایک ایسے عرب ملک کی پالیسی کا جائزہ لیں جس پر مشکل وقت آیا تو پاکستان نے اس ملک کی فوجی مدد کی۔ اس ملک کا نام کویت ہے۔ سب جانتے ہیں کہ 1990ء میں عراق نے کویت پر حملہ کیا تو پاکستان کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے کھلم کھلا صدام حسین کی حمایت کی لیکن وزیر اعظم نواز شریف نے کویت کی مدد کی اور پاکستانی فوج نے کویت کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس واقعے کے کچھ ہی سال کے بعد کویت میں پاکستان کے سفیر کرامت اللہ غوری نے عمران خان کے شوکت خانم میموریل اسپتال کے لئے فنڈ ریزنگ کا اہتمام کیا تو وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ناراض ہو گئی۔ غوری صاحب کو عراق ٹرانسفر کر دیا گیا جس پر کویت کے وزیر خارجہ شیخ صباح الاحمد ناراض ہوگئے اور انہوں نے کرامت اللہ غوری کو حکومت پاکستان کی ملازمت چھوڑ کر حکومت کویت کا مشیر بننے کی پیشکش کردی۔ غوری صاحب نے پیشکش قبول نہیں کی لیکن کویتی حکومت کا رویہ دوستانہ نہیں تھا۔ مئی 2011ء میں ایبٹ آباد آپریشن کے چند دنوں بعد کویت کی حکومت نے پاکستان سمیت افغانستان، عراق، ایران، شام اور بنگلہ دیش کے شہریوں کے لئے ویزے بند کر دیئے۔ افغانستان کے لئے کچھ نرمی شروع ہو چکی ہے لیکن پاکستانیوں کے لئے ویزے بند ہیں۔ کویت میں ڈیڑھ لاکھ پاکستانی ہیں ان پاکستانیوں کا کوئی عزیز رشتہ دار انہیں ملنے کویت نہیں جا سکتا۔ ظاہر ہے کویت کے رویے کی بنیاد پر ہم سعودی عرب سے آنکھیں نہیں پھیر سکتے لیکن موجودہ صورتحال میں کویتی میڈیا کو پاکستان پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ جس ملک نے پاکستانیوں کے لئے ویزے بند کر رکھے ہیں وہ پاکستانیوں پر بے وفائی کا الزام نہیں لگا سکتا۔ قطر بھی کویت کی طرح ایک عرب ملک ہے لیکن قطر کے امیر کو اس سال 23مارچ کو یوم پاکستان کے دن حکومت نے مہمان بنایا کیونکہ قطر کا رویہ مختلف ہے۔ جو پاکستان کے مفادات کا خیال رکھتا ہے پاکستان کو اُس کے مفادات کا خیال رکھنا چاہئے۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران سمندر کے گہرے پانیوں میں شاہراہ ریشم کو توسیع دینے کی بات ہو گی۔ یہی وہ سمندری شاہراہ ہے جو گوادر کے قریب سے گزرتی ہے اور اسی سمندری شاہراہ کے راستے یمنی باغیوں کو اسلحہ بھجوانے کی شکایات ہیں۔ تو جناب چین ایک طرف پاک ایران گیس پائپ لائن بنانے پر راضی ہے تو دوسری طرف پاکستان کے ساتھ مل کر یمنی باغیوں کی سمندری سپلائی لائن کاٹنے پر بھی رضامند ہے۔ پاک چین دوستی زندہ باد۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.