.

عرب و عجم تصادم کو روکا جائے

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دوسری عالمگیر جنگ کے فاتح کے طور پر امریکہ 1945ء میں اپنی سلطنت کے قائم ہونے کے گمان میں مبتلا ہوگیا مگر بعد کے واقعات و حالات نے اُسے واقعی ایک عظیم سلطنت بنادیا کیونکہ دُنیا بھر میں قیادت کا خلا یورپ کی شکست کے بعد پیدا ہوگیا، امریکہ اور سوویت یونین نے مختلف یورپی ملکوں پر قبضہ کرلیا۔ جاپان پر قبضہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا اور امریکہ نے عزم کیا کہ وہ اس سلطنت کو قائم رکھنے کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے، سازشیں، دوسرے ملکوں میں انقلاب، حکمرانوں کو مارنا، طاقت کا استعمال غرض ہر قسم کی کارروائی سے گریز نہ کرنا، چاہے وہ اخلاقی اقدار اور عالمی قوانین سے متصادم ہوں۔ 1989میں سوویت یونین کے زوال نے اس کو دُنیا کی واحد سپر طاقت بنادیا۔ پچھلے کئی عشروں سے امریکہ کی سلطنت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور افغانستان میں مداخلت نے اُس کی معیشت اور اُس کی بالادستی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اِس کے بعد راک فیلر جیسے عالمی امراء کے سرخیل یہ کہتے سنے گئے کہ امریکہ کی سپر طاقت اور اُس کے تحت کام کرنے والا یہ نظام گل سڑگیا ہے۔ اب دُنیا کو ایک نئے نظام کی ضرورت ہے، اِس کے لئے ایک جنگ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جسے امریکہ نے ایک اچھی جنگ کا نام دیا اور اعلان کیا کہ وہ ایک اچھی جنگ کی تلاش میں ہے۔ پہلے ہی سے اس نے بے خبر اسلامی دُنیا میں ایسی لسانی و فرقہ وارانہ تنظیموں کو پروان چڑھایا جنہوں نے ہمارے ملک میں بھی حالات و واقعات کی وجہ سے اور سرکاری سرپرستی میں جنم پایا۔ جب ایران عراق جنگ ہوئی تو مغرب کو ڈر ہوا کہ پاکستان ایران کا ساتھ نہ دے ڈالے تو عراق کی مدد سے سی آئی اے نے پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دیا۔ پاکستان نے ایران کی پوری جنگ میں مدد تو کی مگر یہ قتل و غارت گری بھی چلتی رہی۔ پھر ایک بڑے مسلمان ملک نائیجیریا میں بوکوحرام یعنی مغربی تعلیم حرام جیسی تنظیموں کو ابھارا گیا اور اب اُسے دیوقامت بنا کر مارنے کا سلسلہ شروع کیا ہواہے، پھر ایران پر پابندیاں لگا کر پاکستان اور ایران کو قریب جانے سے روکا۔ اب امریکہ ایران کے ساتھ خود مذاکرات کرکے اُس کو اپنا احسان مند بنا رہا ہے، دوسری طرف انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیل کو محفوظ بنانے کے لئے عظیم تر اسرائیل بنایا جائے اور ہر مسلمان ملک کو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے چھوٹا کردیا جائے تاکہ کوئی بھی اسرائیل کا سامنا نہ کرسکے۔ اس لئے عراق جیسے بڑے ملک پر امریکہ نے دو غیرقانونی حملے کئے، مصر کو مطیع کیا اور شام میں خانہ جنگی شروع کرائی، عرب بہار کا بیج بویا، اب ایران ایک بڑا ملک باقی بچا تھا اُس کو تیس سال تک گھیرے میں رکھا، آخر دبائو کا مقابلہ نہ کرتے ہوئے ایران کو صلح جوئی کی طرف مائل ہونا پڑا کہ اُس کی معیشت تباہ ہوگئی تھی، تو اُس کو موقع مل جائے گا کہ وہ ایران کا ایک حصہ کردستان کےلئے اور دوسرا عظیم تر بلوچستان کے لئے نکال لے۔ ایران سے معاہدے کی پالیسی پر اسرائیل امریکی حکومت سے ناراض رہا مگر امریکہ نے کہا کہ ایران سے ایٹمی معاملے میں صلح کرنا ہمارے عظیم تر مفاد میں ہے۔ گراہم فلر سابق نائب صدر سی آئی اے، نیشنل انٹیلی جنس کونسل نے اپنے ایک تجزیہ میں کہا کہ اسرائیل کے لئے کیا یہ خوش آئند بات نہیں ہے کہ مسلم دُنیا ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے لئے صف آرا ہوجائے اور اس سے مسلم دُنیا امریکہ سے بھی کوئی انتقام نہیں لے سکے گی اور اسرائیل سے بھی۔ اس کے لئے انہوں نے داعش کا جرثومہ عراق میں ڈالا اور وہاں ایران کو پھنسایا اور سعودی عرب جو بچ گیا تھا اس کو یمن کے تنازعے میں الجھا دیا ہے، جہاں ایرانی خود کہتے ہیں کہ ہمارا اثرورسوخ ہے۔ گراہم فلر کہتے ہیں کہ ایرانیوں نے حوثیوں کو اس طرح منظم کیا ہے جس طرح کہ حزب اللہ کو اور حوثی یمن میں اُس مقام پر ہیں جس مقام پر 1980ء میں حزب اللہ لبنان میں تھی۔ مغرب نے فرقے کی بنیاد پر ملکوں کے درمیان جنگ کا منصوبہ 1970ء کے عشرے میں بنا لیا تھا اور اس کی اطلاع ہمیں جنرل مرزا اسلم بیگ نے 2003ء کو ایک مذاکرے کے ذریعے دی تھی کہ اب فرقے کی بنیاد پر تصادم ملکوں کے درمیان ہوگا جس کی بساط بچھا لی گئی ہے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کرا سکتا تھا اور پاکستان کی پارلیمنٹ نے درست فیصلہ کیا تھا مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے بقول ایران کا یمن میں اثر ہے اور سعودی عرب اُس کا اثر یمن میں نہیں چاہتا۔ یمن کو وہ اپنے اثر میں رکھنا چاہتا ہے اور سعودی عرب پاکستان کو اپنے تعلقات کی وجہ سے یمن کی جنگ میں شامل کرنا چاہتا ہے، جو ایک لحاظ سے درست تو ہے اگر اس کو اچھے طریقے سے سنبھال لیا جائے اور اگر اس میں ہم پھنس گئے تو پھر امریکہ اور مغرب نے جو بارودی سرنگیں پاکستان میں لگا رکھی ہیں وہ اُن کو پھاڑنا شروع کرے گا۔ فرقہ واریت کو جلا خودبخود مل جائے گی، لسانیت کا عفریت منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ اگرچہ دبائو کا شکار ہے مگر پھر امریکی شہ اُس کو مضبوط بنا دے گی۔

بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑ جائیں گی اگرچہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کہتے ہیں کہ بلوچستان میں بیرونی طاقتیں پاکستان کو غیرمستحکم کرنے سے باز آئیں، اس طرح انہوں نے اِس سلسلے میں توجہ دی ہے جو غنیمت ہے مگر یہ دیکھنا ہے کہ یمن کی جنگ میں ملوث ہونے کے بعد بلوچستان میں کوئی آپریشن کیا جائے تو وہ ہمارے خلاف نہ جائے۔ مغرب کے منصوبے جو یینون منصوبہ (Yinon Plan) کہلاتا ہے، سیستان اور بلوچستان کو ملا کر ایک ملک بنانا ہے، امریکہ مخالف ممالک شام، ایران اور پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ ہم نے اوپر یہ ذکر کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کو تنہا چھوڑ کر جان بوجھ کر ایسا خلا پیدا کردیا ہے جو جنگ کو جنم دیتا ہے جو خود سے ختم نہیں ہوگا اور عالمی طاقتوں کو مداخلت کرنا ہوگی جو ملکوں کی تقسیم پر جا کر منتج ہوگا اور سعودیوں کو نئے دوستوں کی تلاش ہے، ایران کی پیش رفت بڑھتی چلی جارہی ہے، وہ عراق کو اپنے مکمل طور پر زیراثر لے چکا ہے ۔ مگر اس وقت انتہائی تدبر کی ضرورت ہے اور اعلیٰ سفارتکاری اور اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ قرارداد پاس تو کردی مگر اُس کی تشریح کرنے کے لئے عرب اور خلیجی ممالک میں ہمارے سفارت کار اور حکام پہلے سے موجود ہونے چاہئے تھے جس کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ پاکستان پہلی غلطی کرچکا ہے اور جو دوسری غلطی پر جا کر منتج ہوگی کہ ایران پاکستان کو اپنے سے دور سمجھے گا۔ پھر ایران کو یہ زعم بھی ہے کہ وہ ایک زبردست لڑاکا اور تجربہ کار فوج رکھتا ہے جس کو امریکی صدر نے پہلے ہی خراج تحسین پیش کردیا ہے۔ اِس صورتِ حال میں پاکستان کو کیسے چلنا چاہئے وہ پاکستان کے تدبر کا مظہر ہوگا، مقصد یہ ہو کہ عرب و عجم تصادم نہ ہونے پائے، مغرب کا بنایا ہوا تانا بانا توڑ کر رکھ دیا جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.