چاہ بہار لابی

عبداللہ طارق سہیل
عبداللہ طارق سہیل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مفقہ پارلیمانی قراردار کا وہ فقرہ سعودی عرب اور پاکستانیوں دونوں کیلئے ایک جھٹکا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جھگڑے میں غیر جانبدار رہے۔ یہ فقرہ اس ساری خطابت آرائی کو لے کر بیٹھ گیا جو بحران کے شروع سے پاکستان کرتا رہا ہے۔ کئی روز قبل شہباز شریف نے کہا تھا پاک-سعودی دوستی ہر آزمائش پر پوری اترے گی۔ تو اس طرح پوری اتری کہ قرارداد میں پاکستان نے سعودی عرب سے گویا یہ کہہ دیا:

تم اپنا منہ ادھر کر لو، ہم اپنا منہ ادھر کر لیں۔ گزشتہ روز وزیر اعظم کا بیان اسی جھٹکے کو واپس لینے کی کوشش تھا۔ وزیر اعظم نے قراردارد سے قبل کا پاکستان موقف دہرایا کہ آزمائش میں سعودی عرب اور خلیجی اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور قرارداد سے ہونے والی 'پوائزننگ' یوں کسی حد تک کم ہوگی۔

اس سارے جھگڑے میں کچھ پاکستانی حلقے یہ مغالطہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سعودی عرب اور یمن کی جنگ ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے پاکستانی حکومت کی درخواست پر ہونے والے امریکی ڈرون حملوں پر کہا جائے کہ پاکستان اور امریکہ میں جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ یہ سعودی عرب اور یمن کی نہیں سعودی عرب اور حقثی باغیوں کی جنگ ہے۔ یمن پر صدر منصور ہادی کی حکومت ہے۔ حوثی باغیوں نے دارالحکومت پر قبضہ تو کر لیا لیکن یہ حکومت ختم نہ ہوئی بلکہ عدن میں قائم ہو گئی اور اب وہیں سے کام کر رہی ہے۔ باغیوں نے عدن پر بھی قبضے کی کوشش کی جسے سعودی اتحادی نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔ حوثی اور ان کے اتحادیوں یعنی سابق صدر علی عبداللہ کے حامیوں کی کل گنتی تیس سے پینتیس فیصد ہے۔ ساٹھ سے پیسٹھ فیصد آبادی منصور ہادی کی حامی ہے۔ سعودی حکومت اسی پینسٹھ فیصد عوام کی نمائندگی کرنے والی حکومت کا معاہدہ کے تحت تحفظ کر رہی ہے۔ اسکی جنگ ان باغیوں سے ہے جو زیادہ 30-35 فیصد آبادی کی نمائندگی کے دعویدار ہیں۔ دعویدار اس لئے کہ اب ایسی خبنریں آ رہی ہیں کہ حوثیوں کے کچھ اتحادی حکومت سے رابطے کر رہے ہیں۔

یعنی وزیر اعظم نے وہ قبلہ کسی حد تک ٹھیک کر دیا جو پارلیمانی قرارداد نے ٹیٹرھا کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قرارداد میں سعودی عرب سے لاتعلقی والے الفاظ 'چاہ بہار لابی' نے شامل کرائے تھے اور دھمکی دی تھِ کہ یہ الفاظ شامل نہ ہوئے تو وہ قرارداد کی حمایت نہیں کرے گی اور یوں قرارداد متفقہ نہیں رہے گی۔ وزیر اعظم اس دھمکی پر سرنڈر کر گئے۔ سرنڈر کے تین دن بعد انہیں پتہ چلا کہ یہ تو بہت غلط ہو گیا۔ چاہ بہار لابی کے پاس قومی اسمبلی کی 35 سیٹیں ہیں لیکن اس لابی کو مسلم لیگ کے اندر سے بھی حمایت حاصل تھی۔ اس ضمن میں چوہدری نثار اور خواجہ آصف کے نام بھی لئے جا رہے ہیں۔

چودھری نثار وہ ہیں جنھوں نے وزیر داخلہ کے طور پر گزشتہ برس چاہ بہار لابی کے دھرنے کی کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا اور جب چار بہار لابی کیخلاف پارلیمنٹ متحد ہوئی تو پہلے ہی روز اس اتحاد کو توڑنے کی ایک یادگار، لیکن ناکام کوشش بھی کی۔ یہ کوشش نواز شریف سے زیادہ آصف زرداری نے ناکام بنائی تھی۔ بہر حال دھرنے جزوی کامیابی کے بعد ختم ہوگئے اور تاریخ کا حصہ بن گئے۔ جزوی کامیابی یوں کہ دھرنوں کا ایک بڑا مقصد گوادر پورٹ کو پاک-چین کوریڈور کے ساتھ جڑنے سے روکنا تھا۔ مقصد جزوی طور پر یوں حاصل ہوا کہ نواز حکومت عملی طور پر اس منصوبے کو سرد خانے میں ڈالنے پر مجبور ہو گئی۔ ساتھ ہی چینی صدر کا دورہ بھی ملتوی ہوا۔

اب یمن کے تنازعے پر چاہ بہار لابی پھر حرکت میں آئی ہے اور دلیل دے رہی ہے کہ ایران ناراض ہوجائے گا۔ ایران کیوں ناراض ہو گا؟ کیا سعودی عرب کی ایران سے جنگ ہو رہی ہے؟ یمن، سعودی عرب کا پڑوسی ہے اور ایران سے سات محلے دور ہے، پھر ایران کیوں ناراض ہو گا؟ افغانستان میں ایران نے امریکہ سے مل کر شمالی اتحاد کو بالادستی دلوائی تھی اور پاکستان کے حامیوں کا وہی حال کر دیا تھا جو 71ء میں سرنڈر کے بعد ڈھاکہ میں پاکستان کے حامیوں کا ہوا تھا، تب تو کسی نے نہیں کہا تھا کہ ایران یہ نہ کرے پاکستان ناراض ہو جائے گا۔

چاہ بہار لابی یہ دلیل بھی دے رہی ہے کہ سعودی عرب کی مدد کرنے سے پاکستان کو بہت نقصانن ہو گا، الٹی دلیل ہے، بہت زیادہ نقصان ساتھ نہ دینے سے ہوگا۔ ساتھ دینے سے پاکستان کی نیوی کو اس سمندر تک اسٹریٹیجک رسائی مل جائے گی جو دنیا کے چند اہم ترین سمندروں میں شامل ہے، یعنی سمندر کا وہ علاقہ جو یمن کے دو ساحلوں سے ملتا ہے، ایک بحیرہ عرب کا علاقہ جو صومالیہ تک پھیلا ہوا ہے اور دوسرا باب المندب سے آگے خلیج قلزم "ریڈ سی" کا علاقہ۔ سمندروں کی وسعت میں بھارتی بالادستی توڑنے کا یہ تاریخی موقع ہے۔ دوسرا فائدہ پاکستان کی دفاعی طاقت میں بے پناہ اضافے کی صورت میں ملے گا۔ نقد معاشی فائدے الگ ہوں گے اور یہ بات تو ریکارڈ پر ہے کہ سعودی عرب نے ہر ایشو پر پاکستان کی حمایت بھی کی ہے اور مدد بھی۔ اس کے برعکس ایران ہر معاملے میں بھارت کا اتحادی ہے۔ افغانستان میں دونوں مل کر پاکستانی مفادات کی سرکوبی کر رہے ہیں اور چاہ بہار کیلئے ساری سرمایہ کاری اور تعمیراتی خدمات بھارت دے رہا ہے، صرف اس لئے کہ گوادر پورٹ فنکشنل نہ ہو سکے۔

یمن تنازع پر بعض پاکستانی تجزیہ کاروں نے معلومات کے جو موتی بکھیرے وہ دنیا پڑھ لے تو حیران ہو جائے۔ بے خبری کی یتیمی نے انہیں گھیر رکھا ہے، درجن کالم نویسوں نے لکھا ہے کہ یمن کی سرحدوں سے ملحقہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے ہیں جن میں شیعہ بھائیوں کی اکثریت ہے۔ یمن کی سرحدوں سے ملحقہ سعودی عرب کے جنوبی صوبے ہیں نہ کہ مشرقی۔ ان جنوبی صوبوں میں ایک نجران کا ہے جہاں زیادی اور اسماعیلی مکاتب فکر کے پیروکاروں کی اکثریت ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی صوبے ایران کے پڑوسی ہیں۔ یہاں کئی علاقوں میں اثنا عشری برادری کی اکثریت ہے۔ سعودی عرب کی تین کروڑ کی آبادی میں 40,45 لاکھ آبادی اثنا عشری، زیدہ اور اسماعیلی ہے۔

یمن دو علاقوں میں تقسیم ہے۔ رقبے میں جنوبی یمن بڑا ہے یہاں تمام کی تمام آبادی سنی ہے۔ شمالی یمن آبادی میں بڑا ہے لیکن اس کے بھی دو حصے ہیں۔ صنعاء سے سعودی سرحد تک کے علاقے میں زیدی اکثریت ہے اور صنعا سے جنوب میں عدن تک سنی اکثریت ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ شمالی اور جنوبی یمن میں تنازعہ قدیم ہے لیکن اسکی بنیاد شیعہ-سنی نہیں، قبائلی تقسیم ہے۔ جس طرح کردوں اور عراقی عربوں کی لڑائی تھی۔ یہ قبائلی اور نسلی تھی۔ اس میں عرب سارے ایک طرف تھے چاہے شیعہ تھے یا سنی۔ اور کرد ایک طرف تھے چاہے سنی یا کمیونسٹ۔ اسے شیعہ سنی رنگ اپنے خاص ارادوں کے تحت چاہ بہار لابی دے رہی ہے۔ زیدہ شیعہ، اثنا عشری شیعوں سے بہت زیادہ مختلف ہیں۔ تفصیل بتانے کا موقع نہیں لیکن یوں سمجھ لیجئے کہ زیدہ حضرات اپنی فقہ اور عقائد میں 90 فیصد حنفی ہیں۔ اس جھگڑے کو مسلکی رنگ دینا بہت ضروری ہے تو کیوں نہ اسے حنفی شافعی رنگ دیا جائے؟ ہے تو یہ بھی غلط لیکن پہلے غلط سے کچھ کم۔

(یمن کی ستر فیصد آبادی شافعی ہے)
----------------------
بشکریہ روزنامہ "خبریں"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں