پاک چین تعاون کے نئے امکانات

اکرام سہگل
اکرام سہگل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کا تزویراتی جغرافیائی محل وقوع چین کو جنوبی ایشیاء، مشرق وسطیٰ اور مرکزی ایشیاء کے ساتھ ملاتا ہے چنانچہ اس حوالے سے پاکستان اور چین میں اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ معاہدے چین کے صدر شی چن پنگ کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہوئے۔

ان معاہدوں کے تحت سڑکوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر کے علاوہ توانائی کے پلانٹ بھی قائم کیے جائیں گے جن پر 35 ارب امریکی ڈالر کی لاگت آئے گی (مجموعی معاہدوں کی مالیت 46 ارب امریکی ڈالر ہے) توانائی کے شعبے میں آیندہ دس سے پندرہ سال کی مدت میں منصوبے مکمل کیے جائیں گے جن میں نجی شعبے کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

چین اپنے زرمبادلہ کے بھاری ذخائر میں سے سرکاری ترقیاتی بینک اور چین کے برآمدی درآمدی بینک اور زرعی ترقیاتی بینک کے ذریعے 62 ارب امریکی ڈالر صرف کرے گا جس سے نئی شاہراہ ریشم کی تعمیر ہو گی جو چین کو غیر ملکی منڈیوں تک رسائی دے گی اس کے نتیجے میں اس خطے پر امریکا کے اثر و رسوخ میں کمی آئے گی۔ واضح رہے کہ چین نے اس سے قبل پچاس ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کامیابی حاصل کر لی ہے جنھیں ایشیا انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے پاکستانی ڈیسک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2009/2012 کے دوران امریکا نے 7.5 ارب ڈالر کے جس پیکیج کا اعلان کیا تھا اس کا وہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا جس کا کہ تخمینہ لگایا گیا تھا۔ نیو یارک ٹائمز کے ڈیوڈ سڈنی نے ایک انٹرویو میں اس پیکیج کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پیکیج کو بہت زیادہ پھیلا دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

اس پیکیج کا ایک مقصد دہشت گردی کو روکنا بھی تھا لیکن اس ضمن میں بھی کوئی خاص کامیابی نہیں ہو سکی۔ دوسری طرف چین نے بہت وسیع اقتصادی تعاون کی پیشکش کی ہے جس کے ذریعے آیندہ دس سال تک انفراسٹرکچر کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔ دوسری طرف امریکا نے گزشتہ دس بارہ سال میں افغانستان میں سو ارب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات کیے ہیں تا کہ افغانستان کو اقتصادی‘ سیاسی اور عسکری طور پر مضبوط کیا جا سکے۔

امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے افغانستان کو مستحکم کرنے کی خاطر جو مدد دی گئی اس میں جاپان اور چین نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور اسی کے نتیجے میں 2014ء میں افغانستان کا صدارتی انتخاب کروایا گیا جس میں صدر اشرف غنی کامیاب ہوئے جو پاکستان کے ساتھ مفاہمتی طرز عمل رکھتے ہیں۔

اس پروگرام کا بنیادی مقصد افغانستان میں امن و امان کی بحالی تھی نیز پاکستان اور افغانستان کی مسلح افواج کو باہمی تعاون میں اضافے کی ترغیب دی گئی۔ افغان چیف آف اسٹاف جنرل شیر محمد کریمی نے تسلیم کیا ہے کہ دونوں ملکوں میں باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ افغان چیف آف اسٹاف پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کا دورہ کرنے والے پہلی اہم غیرملکی شخصیت ہیں جہاں پر کہ افغان کیڈٹس بھی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ فی الوقت پی ایم اے میں تربیت حاصل کرنے والے افغان کیڈٹس کی تعداد چھ بتائی گئی ہے۔

چین کے صدر نے پاکستانی مسلح افواج کے سربراہوں سے ملاقات میں شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کی تعریف کی جب کہ پاک فوج اس سے قبل سوات اور فاٹا کے دیگر علاقوں میں کامیابی سے آپریشن مکمل کر چکی ہے جو کہ ان علاقوں میں قیام امن کے لیے ناگزیر تھا۔

چینی صدر نے خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے کی خاطر پاک فوج کی مکمل حمایت اور امداد کا وعدہ کیا اور کہا کہ جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں اور ٹینکوں کی مشترکہ تیاری اس تعاون کے نمایاں ثبوت ہیں۔ امریکا نے پاکستان کے اقتصادی بحران کو دور کرنے میں خاصی فراخدلی سے مدد کی ہے تاہم فوجی امداد کے لیے ہمیشہ ’’ڈومور‘‘ کی شرط عائد کرتا رہا ہے۔

لیکن یہ امریکا کا قصور نہیں ہے کیونکہ انھیں اس کی نصیحت امریکا میں متعین پاکستان کے اپنے سفیر حسین حقانی کی طرف سے کی جاتی رہی ہے۔ مسٹر حقانی دو ٹرموں تک امریکا میں سفیر رہے ہیں لیکن وہ برسرعام کچھ اور کہتے تھے جب کہ امریکنوں سے علیحدہ ملاقاتوں میں کچھ اور بات کرتے تھے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو امریکا پر کوئی الزام نہیں دیا جا سکتا کیونکہ واشنگٹن میں پاکستان کا اپنا آدمی امریکنوں کو مختلف مشورے دے رہا تھا۔

امریکا نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کے امریکی ہیلی کاپٹر‘ میزائل اور فوج کے لیے دیگر اسلحہ فروخت کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اس پر مسٹر حقانی نے ہی تنقید کی۔ وال اسٹریٹ جرنل میں شایع ہونے والے اپنے ایک مقالے میں مسٹر حقانی نے کہا کہ اس سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو ہوا ملے گی اور اس کا استعمال اسلامک جہادیوں کے بجائے بھارت کے خلاف ہو گا۔

دوسری پاکستان کے سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے مسٹر حقانی کو پاکستان چھوڑ کر جانے کی اجازت دی حالانکہ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بوقت ضرورت وطن واپس آ جائیں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسٹر حقانی اور افتخار چوہدری دونوں ہی فوج کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ کیا ہم اس بات کی توقع رکھ سکتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین مسٹر آصف زرداری اس سلسلے میں کوئی مذمتی بیان جاری کریں گے؟

چین کے صوبے سنکیانگ کے شہر کاشغر سے گوادر تک تین ہزار کلو میٹر چین پاک اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے بارے میں توقع ہے کہ وہ 2030ء تک مکمل ہو جائے گی جس سے کہ خطے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہونے کا امکان ہے۔ 28 ارب ڈالر کے 51 معاہدے ہوئے ہیں جب کہ مزید 17 ارب ڈالر کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ اقتصادیات اور تجارت کے بارے میں معروف جریدے ’’بلوم برگ بزنس‘‘ (یکم اپریل 2015ء) میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں کا مقصد چین اور پاکستان کے مابین زیادہ سے زیادہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے جب کہ ان دونوں ممالک کے اپنے پڑوسی بھارت کے ساتھ مختلف تنازعات موجود ہیں۔

نئی راہداری چین کو بحر ہند تک رسائی دے گی جس سے سرمایہ کاری کے مواقع میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا نیز پاکستان کا توانائی کا بحران حل ہو گا اور پاکستان کی معیشت بہت ترقی کرے گی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی پی) کے مطابق اس راہداری سے منڈیوں کی ڈیمانڈ اور سپلائی لائن میں اشتراک عمل قائم ہو گا۔ زیادہ تک اقتصادی وسائل آیندہ چھ سال میں حاصل ہو جائیں گے جب کہ بعض معاہدوں کا نتیجہ فوری طور پر برآمد ہو گا۔ البتہ 2017ء اور 2018ء تک ان کے نتائج نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

’’موڈیز انویسٹر سروس‘‘ کے مطابق سی پی ای سی کی تعمیر کے فوائد بہت جلد نمایاں ہو جائیں گے۔ مزید برآں مغربی ممالک بھی اس اقتصادی بڑھوتی میں سرمایہ کاری کریں گے کیونکہ سرمایہ کاروں کا یہ اصول ہے کہ جہاں انھیں فائدہ نظر آتا ہو وہاں وہ نظریاتی اختلافات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔

چین کے ساتھ اپنے تعاون سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کے لیے یہ لازم ہے کہ ہمیں کرپشن کے امکانات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ سی پی ای سی کی تکمیل کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کے عوام کو ہونا چاہیے نہ کہ ان کو جن کے پاس دولت سے بھرے ہوئے سوٹ کیس ہوں اور جو لندن کی ہائیڈ پارک یا دبئی کے پام آئی لینڈ میں مہنگی ترین جائیدادیں خرید سکیں۔ ہمیں چینی صدر سے درخواست کرنی چاہیے کہ انھوں نے اپنے ملک میں کرپشن پر کس طریقے سے قابو پایا اور کس طرح مختصر سے مقدمے کے بعد کرپٹ افراد کو گولیاں ماری گئیں۔

مشاہد حسین کہتے ہیں کہ علاقائی یکجہتی کے ذریعے ایک ’’عظیم تر جنوبی ایشیا‘‘ کی تشکیل کی جانی چاہیے جس میں چین‘ ایران اور افغانستان کے علاوہ اگر ممکن ہو سکے تو میانمار کو بھی شامل کیا جائے اور بھارت کے ساتھ کشمیر کے مسئلے میں مصالحت کی کوشش کی جائے۔ سی پی ای سی جنوبی ایشیا میں اقتصادی ترقی کی راہیں کھول دے گا۔

جس کا کہ بھارت کو بھی بہت زیادہ فائدہ ہو گا اور پاکستان کو زمینی راستے کے ذریعے وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ امریکا ایران ایٹمی تعاون کے سمجھوتے کے بعد ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ختم ہو جائیں گی جس کے بعد ایران پاکستان انڈیا (ای پی آئی) گیس پائپ لائن کا خواب بھی پورا ہو سکے گا۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں