کیا ہم ’’چونگ گوا‘‘ کا مستقبل بننے کیلئے تیار ہیں؟

نازیہ مصطفیٰ
نازیہ مصطفیٰ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اِسکے مغربی جانب سطح مرتفع اور پہاڑ ہیں جبکہ مشرق کی طرف کا علاقہ میدانی ہے جس کے سبب ’’ینگتز، ہوانگ ہی اور آموسمیت تمام بڑے دریا مغرب سے مشرق کی طرف بہتے ہیں، کہیں کہیں میکانگ اور برہما پْتراجیسے دریاؤں کا رُخ جنوب کی طرف بھی ہوجاتا ہے اور یوں یہ دریا بحر اوقیانوس میں جا گرتے ہیں۔اسکے مغرب کی طرف زرخیز میدان ہیں تو جنوب میں چونے کے پتھر وںپر مشتمل اونچے زرخیز میدان بھی موجود ہیں۔ ہمالیہ بھی اسی طرف موجود ہے جس میں دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ ہے، اسکے مشرق کی طرف دریائے زرد کے کناروں پر زرخیز مٹی کے وسیع میدان ہیں۔ شمال کی جانب منگولیائی سطح مرتفع پر وسیع چراہ گاہیں بھی موجود ہیں۔ جنوبی طرف پہاڑیوں اور کم بلند پہاڑوں کی کثرت ہے۔ اِسکے درمیانی علاقے میںزرعی مقاصد کیلئے لاکھوں ایکٹر پر پھیلی زرخیز زمین موجود ہے۔اِس زرخیزی کے سبب یہاں کھیت سونا اگلتے اور کھلیان چاندی پیدا کرتی ہے۔

آرکیالوجی کی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے کے ابتدائی باشندے ساڑھے بائیس لاکھ سال پہلے بھی موجود تھے، دنیا کے کسی دوسرے خطے یا علاقے میں ایسے شواہد ابھی تک دریافت نہیں ہوسکے۔ اسی علاقے میں ’’ژہوکوڈیان ‘‘نامی غار سے ایسے فوسلزملے ہیں ، جنہیںاٹھارہویں اور انیسویں صدی میں پرکھا گیااور اس کے علاوہ قدیم پتھر سے بنے ہوئے ہتھیاروں کی تکنیک اور جانوروں کی ہڈیوںکوجوڑا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ تین لاکھ سے ساڑھے پانچ لاکھ سال پہلے تک پرانی ہیں۔اس علاقے میں کئی کئی سال تک جاری رہنے والی موسموں کی شدت میں مشرق، مغرب اور شمال جنوب سے باشندے درمیانی علاقے کی طرف ہجرت کرجاتے اور جب تک موسم ٹھیک نہ ہوتا لوگ یہیں مقیم رہتے۔ ان لوگوں نے بقائے باہمی سے رہنا سیکھ لیا تھا، اسی لیے اِنہیں ہجرت کے دوران کبھی خوراک کی کمی کا مسئلہ پیش آیا نہ ہی کبھی امن و امان کے مسائل نے جنم لیا،اسی سبب کبھی اس علاقے کو ’’سیریس‘‘ کہا گیا تو کبھی ’’کیتھی‘‘ کے نام سے پکارا گیا، کس نے اسے ’’سینائی‘‘ کہا تو کسی نے اس کیلئے ’’قن‘‘ کا نام دیا، لیکن اپنی بنیادی ہیئت کے سبب یہ علاقہ اپنے موجودہ نام ’’چین‘‘ سے زیادہ مشہور ہوا اور اب اسی نام سے جانا جاتا ہے۔

موجودہ چین ایک ایسا ثقافتی اور قدیم تہذیبی علاقہ ہے جو ایشیا کی سب سے پرانی تہذیبوں میں سے ایک ہے، آج ایک کامیاب ریاست کے روپ میں موجود چین کی ثقافت چھ ہزار سال پرانی ہے۔ چین کی تہذیب دنیا کی اُن چند تہذیبوں میں سے ایک ہے جو بیرونی مداخلت سے تقریبا محفوظ رہیں اور تب سے اِسکی زبان بھی تحریری شکل میں جوں کی توںموجود ہے۔ صدیوں تک چین دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم اور مشرقی ایشیا کا تہذیبی مرکز رہا جس کے اثرات آج تک نمایاں ہیں۔ چین کو انسانی تہذیب کے اولین مراکز میں سے بھی ایک مانا جاتا ہے۔ اسی طرح چین کی سرزمین پر بہت ساری نئی ایجادات بھی ہوئیں، جن میں چار مشہور چیزیں یعنی کاغذ، قطب نما، بارود اور چھاپہ خانہ بھی شامل ہیں۔ چین کی تہذیب کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ وہ ان معدودے چند تہذیبوں میں سے ایک ہے جنہوں نے خود سے تحریری زبان ایجاد کی۔ دیگر تہذیبوں میں میسو پوٹومیہ، دریائے سندھ کی تہذیب، مایا تہذیب اور قدیم مصری تہذیبیں شامل ہیں۔ چینی لکھائی ابھی تک چینیوں اور جاپانیوں کے زیر استعمال ہے اور کسی حد تک کورین اور ویت نامی بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ چینی لکھائی واحد تحریر ہے جو تاحال استعمال میں ہے ،جس میں ایک حرف پورے لفظ یا جملے کو ظاہر کرسکتا ہے۔قبل مسیح میں دریائے نیل کے کنارے انجیر اور شہتوت کی چھال کو لکھنے کیلئے استعمال کرنے کے آثار ملتے ہیں، مگر 105ء میں چین میں ’’تسائیلن‘‘ نے وہ چیز تیار کی جسے آج کے کاغذ کی ابتدا کہا جاسکتاہے۔ کاغذ بنانے کے اس فن کو 800ء میں مسلم تاجر بغداد، دمشق اور قاہرہ میں لے گئے اور باقاعدہ کاغذ کے کارخانے قائم کیے، جس کے بعد کاغذ کی صنعت مغربی جانب پھیل کر شام تک پہنچی پھر ایک صدی بعد مراکش سے اسپین کے راستے یورپ میں داخل ہوئی۔

13ویں صدی کے بعد سے یورپ بطورخاص اٹلی میں مسلم کاغذ اپنی تیاری کے اصول اور رازوں کے ساتھ برآمد ہونے کا ذکر بہت سی تاریخی کتب میں آیا ہے۔ چین کی دوسری اہم ایجاد’’قطب نما‘‘ آلہ ہے جس سے سمتیں معلوم کرنے میں آسانی ہوتی تھی، یہ آلہ پہلے چینیوں نے استعمال کیا اور بعد میں مسلمانوں نے کئی صدیوں تک ستاروں کی مدد کے علاوہ قطب نما کو سمت شناسی کیلئے استعمال کیاجبکہ آج کی ترقی یافتہ مغربی دنیا نے چودھویں صدی میںجاکر قطب نما استعمال کرنا شروع کیا۔چین کی تیسری اہم ایجاد چھاپہ خانہ تھی ،جوخطاطی جیسے فن کے سبب عربوں میں تو اتنا رواج نہ پاسکی البتہ یورپ نے اسے جدید رنگ دے کر بعد میں دنیا میں انقلاب ضرور برپا کردیا، لیکن تاریخ کے مطالعے سے حیرت انگیز بات یہ سامنے آتی ہے کہ ان تین ایجادات کے علاوہ بھی چین کی لاتعداد ایسی ایجادات ہیں جو مہذب دنیا میں بہت دیر سے پہنچیں۔ کیا آپ حیران نہیں ہونگے ،اگر آپ کو معلوم ہو کہ آنسو گیس کا پہلا استعمال بھی چین نے کیا، چینی یہ آنسو گیس باریک لائم کو جلاکر حاصل کرتے تھے۔ خشک سرسوں کو جلا کر پہلی مرتبہ زہریلی گیس بھی چینیوں نے ہی ایجاد کی، چینی اس زہریلی گیس کو مچھر مارنے اور زرعی مقاصد کیلئے استعمال کرتے تھے۔ ان

ایجادات میں بالخصوص فوجی ایجادات ایسی ہیں جو چین میں دو ہزار سال پہلے بھی موجود تھیں، اِن عسکری اور دفاعی ایجادات میں کراس بو اور گرڈ سائٹ، کراس بو رکاب، خودکار کراس بو، مجنیق، جنگوں میں استعمال ہونیوالے امدادی نقشے، انسان بردار پتنگ، آگ والے نیزے، راکٹ ، بم اور پرانی تانبے کی مشین گن شامل ہیں،لیکن فوجی ایجادات میں سے چینیوں نے کسی ایک ایجاد کو بھی حملے کیلئے استعمال نہیں کیا بلکہ بوقت ضرورت محض دفاع کیلئے استعمال کیا۔ ان حیران کن دفاعی اور عسکری ایجادات کے باوجود چین نے کسی ملک کیخلاف جارحیت کا ارتکاب کرنے کے بجائے خود کو صدیوں تک دنیا سے بالکل الگ تھلگ رکھنا زیادہ مناسب سمجھا، زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ پڑوس سے وحشی قبائل نے تنگ کرنا شروع کیا تو چین نے اُن پر حملہ آور ہونے کی بجائے ’’دیوار چین‘‘ تعمیر کرکے بقائے باہمی سے زندہ رہنے کا پیغام دیدیا، ورنہ سوچنے کی بات ہے کہ جو قوم ’’دیوار چین‘‘ جیسا عجوبہ تخلیق کرسکتی تھی، کیا وہ حملہ آوروں کو عسکری سبق نہ سکھا سکتی تھی؟ کیا ممکن تھا کہ کوئی چین جیسی بڑی طاقت کو تنگ کرنے کی جرأت کرتا؟اب یہی دیکھیں کہ جنگ عظیم دوم کے بعد ہونے والی خانہ جنگی کے اختتام پر چین کو تقسیم کرکے دو ممالک بنا دیا گیا، ایک کا نام عوامی جمہوریہ چین اور دوسرے کا نام جمہوریہ چین رکھا گیا۔ عوامی جمہوریہ چین کے کنٹرول میں مین لینڈ، ہانگ کانگ اور میکاؤ، جبکہ جمہوریہ چین کا کنٹرول تائیوان اور اسکے ملحقہ علاقوں پر تسلیم کیا گیا۔ اِس غیر منصفانہ تقسیم کے باوجود اب جبکہ چین ایک بڑی عسکری قوت بھی ہے ، چین نے ون چائینہ پالیسی تو اپنارکھی ہے لیکن جمہوریہ چین کو بزور قوت اپنے ساتھ ضم نہیں کیا، چین کا یہ رویہ دوسری دنیا کیلئے واضح پیغام اور بقائے باہمی کی مثال ہے۔

قارئین کرام!! چین کومینڈرین چینی میں ’’چونگ گَوا‘‘ کہتے ہیں۔ چونگ کا مطلب ہے درمیانی یا مرکزی اور گَوا کا مطلب ہے ملک یا علاقہ۔ اس کا اردو ترجمہ بھی ’’مرکزی علاقہ‘‘ کیا جا سکتا ہے۔کچھ آراء کیمطابق ’’چونگ گَوا‘‘ کا مطلب (دنیا کا) مرکزی حصہ ہے۔ لیکن یہ اصطلاح چینی تاریخ میں باقاعدگی سے استعمال نہیں ہوئی، البتہ مختلف اوقات میں اس کو مختلف سماجی اور سیاسی مطالب ضرور دیے گئے۔ چین کا ’’چونگ گوا‘‘ کا نام چین کی ایک نئی ایجاد کے بعد ایک مرتبہ پھر ابھر کر سامنے آیا ہے،چین کی یہ نئی ایجاد ’’اقتصادی راہداری‘‘ ہے، اس اقتصادی راہداری سے چین حقیقی معنوں میں دنیا کا مرکز بننے جارہا ہے۔دورہ پاکستان میں چینی صدر شی چن پنگ نے پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں پاکستان کو ’’چونگ گوا‘‘ کا مستقبل قرار دیا، لیکن کیا ہم چونگ گوا کا مستقبل بننے کیلئے تیار ہیں؟
----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں