.

چلتے ہو تو یمن کو چلئے

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلے ہفتے یہ خبر لوگوں نے دلچسپی سے پڑھی کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ایٹمی تجربات کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس خبر پر میڈیا میں کوئی بحث نہیں ہوئی۔ شاید اس لئے کہ یہ بے ضرر سا معاہدہ تھا۔ آخر ایٹمی تجربات کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ ہونے سے کسی دوسرے کو کیا پریشانی ہوسکتی ہے۔ تبادلہ معلومات کا ہو یا خیالات کا، بہر حال ایک پرامن سرگرمی ہے۔
پریشانی کی بات البتہ ایرانی فوج کے سربراہ بریگیڈ علی رضا کا یہ بیان ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے سعودی عرب کو نہ صرف فضائی حملوں کی دھمکی دی ہے بلکہ یہ کہہ کر بری جنگ کا ارادہ بھی ظاہر کردیا ہے کہ سعودی عرب کی ناتجربہ کار فوج ایرانی فوج کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ کیا واقعی؟ شاید۔ سعودی عرب کی بری فوج تعداد میں بھی کم ہے اور اسے جنگ کا تجربہ بھی ہے۔ اس وقت بھی اس کی تین ہزار فوج عراق میں صف آراء ہے اور اتنی ہی شام میں۔ لیکن سعودی فضائیہ شاید اتنی ناتجربہ کار نہیں۔ یمن میں فضائی بمباری سے اس نے اتنا تو ظاہر کردیا ہے ہ وہ ہدف تلاش بھی کرسکتی ہے اور اس کا ٹھیک نشانہ بھی لے سکتی ہے۔

کیا جنگ واقعی ہوگی؟ پچھلے ہفتے ہی کہ خبر ہے کہ امریکہ کا سرکاری موقف کچھ بھی ہو، اس کی فوج کے جرنیل یمن میں سعودی شکست کے بے چینی سے منتظر ہیں۔ بے چینی کا مطلب یہ تو نہیں ہوگا کہ وہ ایک آدھ دن ہی میں سعودی عرب کو ہارا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ افغانستان کی جنگ بارہ برس سے جاری ہے اور ابھی دشمن کو شکست نہیں ہوئی۔ عراق میں بھی ایک عشرہ ہوگیا جنگ شروع ہوئے اور ابھی ختم کہا ہوئی۔ امریکی فضائیہ داعش کے ٹھکانوں پر دن میں بیس سے تیس حملے کرتی ہے، گویا ’’فتح‘‘ کا انتظار ابھی ہے۔ چنانچہ سعودی عرب کو شکست دینے کی بے چینی کا دورانیہ بھی دس بارہ برس سے کیا کم ہوگا؟ مزید چنانچہ ہوسکتا ہے کہ اس بے چینی کے بطن سے یہ وقوعہ بھی جنم لے لے کہ ایران سعودی عرب پر حملہ کردے اور افغانستان، عراق اور شام میں موجود امریکہ ایران تعاون کا دائرہ پھیل کر سعودی عرب کی سرحدوں بلکہ اندر تک پھیل جائے۔

جنرل سلیمانی جنکو پاکستان کے بعض کالم نویسوں نے جنرل رومیل اور جنرل منٹگمری سے بھی بڑا جرنیل قرار دیا ہے ، بجا طور پر بڑا قرار دیا لیکن فرق واضح نہیں فرمایا۔ اول الذکر دونوں جرنیل صحرائی جنگ کے ماہر تھے۔ موصوف آخر الذکر شاید بستانی جنگوں میں مہارت رکھتے ہیں، کا دوسطری ذکر مزید کچھ نامناسب نہ ہوگا۔ تکریت کے ناکام مشن سے پہلے آپ کو شام میں فتوحات کیلئے بلایا گیا تھا، وہاں کے سب سے بڑے شہر الیپو ’حلب‘ کی آزادی کیلئے اس شہر کے آدھے سے زیادہ حصے لگ بھگ ساٹھ فیصد پر باغیوں کا قبضہ ہے۔

جنرل سلیمانی نے خوب سلیمانی جوہر دکھائے ۔ بیرل بم کے تجربات انہی کے دھن رسا کا نتیجہ تھے لیکن ہوایوں کہ باغیوں نے نہ صرف حلب کے کچھ مزید حصے ہتھیا لئے بلکہ آگے بڑھ کر شام کے چوتھے بڑے شہر ادلیب پر بھی قبضہ کر لیا۔ یہاں سے مایوس ہو کر جنرل موصوف نے دمشق کے جنوب میں قسمت آزمائی کی۔ وہاں بھی انکی ذات بابرکات کا سارا فائدہ باغیوں نے اٹھایا اور انکے زیر قبضہ رقبے کا دائرہ پھیل کر اسرائیلی حدود تک پھیل گیا۔

گولان کے علاقے میں شامی فوج کے زیر قبضہ آخری پٹی بھی باغیوں کے زیر نگین آ گئی۔تو کیا سعودی عرب پر حملے کیلئے انہی جنرل سلیمانی کی خدمات حاصل کی جائیں گی؟ سعودی عرب پر حملہ شمالی سرحدوں سے کرنا ہوگا جو وسعیع و عریض بے آباد صحرائی علاقہ ہے۔ یہاں کم سے کم ایک لاکھ فوج آئے گی تبھی کچھ پیشرفت ہو سکے گی۔ لیکن اس سرحدی صوبے کی جغرافیائی ساخت ایسی ہے کہ ایک لاکھ فوج کے گم ہو جانے کا خطرہ زیادہ حقیقی ہے۔ چنانچہ جنرل سلیمانی کو مزید ایک لاکھ فوج لانی ہوگی، اسکے بعد پھر مزید ایک لاکھ فوج لاکھ فوج لانی ہوگی۔ پھر کہیں جا کر حفرالباطن سے ہوتے ہوئے بریدہ پہنچ پائیں گے۔ وہاں سے مدینہ جانے والی شاہراہ پر کیا ہوتا ہے، ایک قدرے آسان راستہ مدبی الانبار کے عراقی صوبے سے ہوتے ہوئے سعودی سرحد عبور کرنے کا ہے۔ پہلے عرعر اور پھر سکاکا۔ وہاں سے تبوک اور پھر مدینہ ، لیکن اس راستے پر گزرنے کیلئے داعش سے اجازت لینا ہوگی۔ کیا وہ دے دے گیَ شاید! اور ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے لشکر آئیں گے کہاں سےَ اور اتنی فوج اگر سعودی عرب چلی جائے گی تو شام اور عراق کو بچانے کا سارا بوجھ کیا بیچارے امریکہ کے کندھے پر ڈال دیا جائے گاَ اور کیا حجازی قبائل محض خیر مقدم کی تیاری کریں گےَ اور سعودی فضائیہ کیا صرف منہ دیکھتی رہے گی؟

یہ پروانے کو بچانے کیلئے شہد کی مکھی کی باغ میں جانے سے روکنے سے بھی زیادہ مشکل راستہ ہوگا۔ آسان راستہ وہی ہوگا جو پہلے طے ہوا تھا۔ یعنی شمالی یمن سے سعودی صوبے بخران میں داخلہ، وہاں سے خمس مشیط اور بشا سے ہوتے ہوئے مکہ کا محاصرہ کرنا پھر سعودی عرب کے ساحلی صوبے جازان میں سے ہو کر ساحل کے ساتھ کی گھاٹیوں میں چھپتے چھپاتے جدہ کی طرف پیش قدمی کرنا، لیکن دوچار سخت مقامات اس راستے میں بھی آتے ہیں۔ ان مقامات کا ذکر اب بعد ازوقت ہوگیا ہے کیونکہ جس یمنی سرحد کو عبور کر کے حوثی باغیوں نے یہ فتوحات کرنا تھیں اس سرحد پر تعینات یمنی فوج حوثیوں سے منحرف ہوکر صدر حادی سے مل گئی ہے۔ سرحد پر تعینات ان فوجیوں کی تعداد 15 ہزار ہے۔ اب ڈویژن کا نام فرسٹ ملٹری ڈسٹرکٹ ہے جسکے سربراہ برگیڈیئر جنرل عبدالرحمٰن خلیلی ہیں۔ حوثیوں کا عدن پر قبضے کی خواہش پوری نہیں ہو سکی۔ اگرچہ اس جنگ میں عدن بری طرح تباہ ہو گیا ہے۔ حوثیوں کو انکے مضبوط گڑھ تعز کے کئی علاقوں سے نکال دیا گیا ہے۔ حوثی اب شمالی یمن کے صرف مغربی حصے تک محدود ہو گئے ہیں اور انکی میزائل سٹوریج ملیمیٹ ہو گئی ہے۔، جنگ ابھی لمبی چلے گی لیکن سرحد سے یلغار کی بازی اب الٹ گئی اور یمن اب صرف شمالی یمن ہے۔ جنوبی یمن تو القاعدستان بن چکا اور شمالی یمن ایک مہینہ قبل حوثی ری پبلک تھا اب نہیں رہا۔

اب کچھ علاقوں پر حوثی قابض ہیں تو کچھ پر صدر ہادی کی حکومت ہے۔ سچ یہ ہے کہ شمالی یمن میں خانہ جنگی اب شروع ہو گئی ہے۔ جنوبی یمن میں خاموشی ہے۔ وہاں ہر طرف القاعدہ ہی القاعدہ چل رہا ہے۔ فی الحال یہی ’’ٹھوس نتیجہ‘‘ برآمد ہو سکا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’خبریں‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.