اکنامک کاریڈور پر تحفظات

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

اسلام اور پاکستان کی آڑ لے کر اس ملک کے مامے اور چاچے بن کر ہم پر اپنے علم‘ ذہانت اور باخبری کا رعب جمانے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ دیہاتی‘ پسماندہ ‘کم علم ‘ اور کم وسیلہ ہونے کے باوجود اتنا ہم بھی جانتے ہیں کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ وہ منصوبہ ہے کہ جس سے پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اتنا ہم بھی جانتے ہیں کہ چین اور پاکستان کی دوستی کو متنازع بنانے والا پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کررہا اور یہ حقیقت ہماری نظروں سے بھی پوشیدہ نہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی سے ہندوستان میں صف ماتم بچھے گا اور اس کے متنازع بن جانے کی صورت میں پاکستان کے ہر دشمن کے گھر میں شادیانے بجیں گے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس منصوبے کو متنازع کون بنا رہا ہے اور اسے لسانی اور علاقائی تعصبات کی بھینٹ کس کا رویہ چڑھا رہا ہے ؟ ہم جیسے ناقدین اس ظلم کے مرتکب ہورہے ہیں یا پھر وہ لوگ کہ جو پہلی بار اس منصوبے کے سلسلے میں ایم او یوپر دستخط کرنے کے لئے چین جاتے وقت گلگت بلتستان‘ سندھ ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کو اندھیرے میں رکھ کر صرف پنجاب کے وزیراعلیٰ اور چند غیرمتعلقہ خاندان کے افراد کو ساتھ لے گئے؟۔ جب چین جیسے دوست کے استقبال کے لئے ائیرپورٹ پر صرف ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو بلایا جاتا ہے اور باقیوں کو نہیں تویہ تنگ نظری نہیں؟ اور یہی رویہ کیا پاک چین دوستی راہداری کو متنازع بنانے کا موجب نہیں بن رہا ؟

جب ایک صوبے کا وزیراعلیٰ چین کے درجنوں دورے کرے اور گوادر کے مالک صوبے کے ڈاکٹر عبدالمالک اصل معاملات سے بے خبر رہے تو شکوک اور تنازعات جنم کیوں نہیں لیں گے ؟۔سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان جو اس منصوبے کی چابی ہے ‘ کے نمائندوں کو پورے عمل میں باہر کیوں رکھا گیا ؟۔ تنازع اس تنگ نظر ی اور تعصب کا مظاہرہ کرنے والے کھڑا کررہے ہیں یا اس رویے کے خلاف چیخ و پکار کرنے والے ؟۔ حکومتی ترجمان خود متحرک ہوگئے ہیں بلکہ میڈیا میں بھی کچھ لوگوں کو تحریک دے دی گئی ہے ۔ وہ پاکستان اور پاک چین دوستی کی آڑ لے کر ہم جیسوں کی زبان بندی کرنا چاہتے ہیں اور افسوس کہ اس مہم میں بعض ایسے لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں جو آئین کی بالادستی ‘ جمہور کی رائے کے احترام اور فیڈریشن کے استحکام کے بھی چیمپئن ہیں ۔ وہ یقینا جانتے ہوں گے کہ تمام صوبوں سے متعلق قومی اور مالیاتی معاملات کا آئینی فورم مشترکہ مفادات کونسل ہے ۔ چین پاکستان اکنامک کاریڈور منصوبے کے ایم اویوز پر 2013ء میں وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران دستخط ہوئے۔ جناب احسن اقبال کے مطابق اگست ء2014 میں تمام ہوم ورک مکمل ہوگیا تھا اور ان کے بقول اگر دھرنا نہ ہوتا تو ستمبر میں اس پر کام کا آغاز ہوجاتا۔ اب اگر شفافیت موجود ہے اور کسی صوبے کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا جارہا یا پھر قوم سے کچھ چھپایا نہیں جا رہا تو ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے مالیاتی منصوبے کو آج تک مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی فورم پر کیوں نہیں لایا گیا یا پھر اس پر پارلیمنٹ میں بحث کیوں نہیں کرائی گئی؟۔

منصوبے کے طریقہ کار پر اعتراض کرنے والوں کو نصیحتیں کرنے کی بجائے بہتر نہیں ہوگا کہ پاکستان کے مامے اور چاچے حکمرانوں کو بھی نصیحت کرتے اور ان سے کہتے کہ اتنے بڑے فیصلے کرنے سے قبل ان کو آئین کے تقاضے کے طور پر آئینی فورمز پر لے آئو؟۔ ہم مان لیتے ہیں کہ چھوٹے صوبوں ‘ گلگت بلتستان یا پھر آزاد کشمیر کے حاکم تحرک ‘ فعالیت ‘ تجربے اور اختیار میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ہم پلہ نہیں۔ یہ بھی تسلیم کرلیتے ہیں کہ احسن اقبال صاحب جیسا صاحب کلام اور انگریزی بولنے والا بھی چھوٹے صوبوں میں موجود نہیں ۔ میں یہ بھی تسلیم کرلیتا ہوں کہ مجھ جیسے چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے چھوٹے صحافیوں کا فہم بھی بڑے شہروں اور بڑے صوبوں کے بڑے صحافیوں سے بہت کم ہے ۔ اگر انہیں اصرار ہو تو میں یہ بھی مان لیتا ہوں کہ وہ زیادہ اور ہم کم محب وطن ہیں لیکن اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ چین کے ساتھ اکنامک کاریڈور کے منصوبوں کو بنانے اور ان پر عمل درآمد کے لئے احسن اقبال صاحب کی قیادت میں ایک بڑا اور پھر کئی ذیلی ورکنگ گروپ بنائے گئے ہیں ۔ اس گروپ میں اگر دیگر صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وزرائے خزانہ کو شامل کیا جاتا تو کونسی قیامت آجاتی اور اگر کسی گروپ میں ان کو شامل نہیں کیا گیا تو یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ کچھ چھپایا اور بعض صوبوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔

ہمیں نصیحتیں کرنے والے اگر تھوڑی سی نصیحت حکمرانوں کو بھی کرتے اور انہیں وفاق کی چھوٹی اکائیوں کو کمتر سمجھنے کے رویے سےباہرلاتے تو آج کوئی اس چین پاکستان راہداری منصوبے کو متنازع بنانے کی جرات کیوں کرتا ؟۔ ڈیڑھ سال قبل جب میں نے بیجنگ سے لے کر سنکیانگ تک کے سفر کے بعد مغربی چین کی ترقی اور چین کے مستقبل کے منصوبوں سے متعلق قلم اٹھایا اور کئی ماہ قبل جب پہلی مرتبہ میں نے اس پاک چائنا کاریڈور کی اہمیت اور روٹ کی تبدیلی سے متعلق کالم لکھنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی پروگرام پیش کرکے منصوبے سے متعلق خدشات کو اٹھایا تو پاکستان کے یہ چاچے اور مامے کیوں خاموش رہے ؟۔ وہ اگر اس وقت اس ایشو کی طرف توجہ دے کر حکمرانوں کو روایتی چالبازیوں سے باز آنے میں میری مدد کرتے تو آج یہ تنازع کھڑا نہ ہوتا۔مجھے چین کے صدر کے دورے کے موقع پر احسن اقبال صاحب نے جو نقشہ فراہم کیا اس میں راہداری روٹ کچھ اور تھا لیکن اگلے روز چین کے سرکاری ٹی وی (سی سی ٹی وی) نے جو نقشہ دکھایا (میرے پاس ویڈیو کلپ موجود ہے) تو اس میں روٹ کوئی اور تھا لیکن پھر بھی مجھ سے کہا جارہا ہے کہ میں شک سے باز آجائوں اور مجھے پاک چین دوستی کے حوالے دے کر کہاجارہا ہے کہ میں سوال نہ اٹھائوں۔ جن منصوبوں پر دستخط ہوئے ہیں ان میں ڈی آئی خان ژوب شاہراہ کی کشادگی یا اسے موٹروے بنانے کا منصوبہ تو شامل نہیں جبکہ لاہور میں اورینج ٹرین کا منصوبہ شامل ہے ۔ پھر بھی مجھ سے کہا جارہا ہے کہ پاکستان کی خاطر چپ رہو۔ دریائے سوات ‘ دریائے چترال اور دریائے کنہار پر سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے ڈیم بن سکتے ہیں

۔ دنیا مانتی ہے کہ آج بھی ہائیڈل ہی بجلی پیدا کرنے کا سستا منصوبہ ہے لیکن انرجی کے منصوبوں میں ایک بھی ہائیڈل منصوبہ شامل نہیں ۔ اس کے بعد بھی مجھ سے کہا جارہا ہے کہ میں اس کو چین پنجاب کاریڈور کی بجائے چین پاکستان کاریڈور مان لوں۔ احسن اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ سب تفصیلات گزشتہ سال اگست میں طے ہوئی تھیں لیکن جب میں پوچھتا ہوں کہ مجوزہ اکنامک زون کہاں کہاں بنیںگے تو جواب ملتا ہے کہ ان کے لئے جگہوں کا تعین بعد میں ہوگا اور پھر ایک ہی سانس میں کہہ دیا جاتا ہے کہ ایک تو گوادر میں بنے گا ؟۔ کیا یہ ایٹم بم بنانے کے منصوبے ہیں کہ جو ان کےمجوزہ مقامات سے بھی ہم کو آگاہ نہیں کیاجارہا ؟۔ مانتا ہوں کہ لسانی ‘ نسلی اور لسانی تعصبات کو ہوا دینے والے اس ملک کے خیرخواہ نہیں ۔ مجھے ادراک ہے کہ موجودہ قوم پرست قیادت ‘ قومی قیادت سے بڑھ کر موقع پرست واقع ہوئی ہے ۔پختون اور بلوچ قوم پرستوں نے تو حد کردی ۔ جو لوگ اس قوم کو خانوں میں بانٹتے ہیں وہ ظلم عظیم کے مرتکب ہورہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ تنازعات اور تعصبات کو جنم کس کا رویہ دیتا ہے؟۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ عملاً لسانی اور علاقائی تعصب کا سب سے بڑھ کر مظاہرہ موجودہ حکمران طبقہ کررہا ہے ۔مہاجر‘ سندھی‘ بلوچ‘ پختون اور سرائیکی قوم پرستوں کے نعرے اور دعوے تو صرف ان کے صوبوں یا لسانی اکائیوں کے گرد گھومتے ہیں اور ذاتی ضرورت پڑنے پر وہ پنجابی یا سندھی کی تفریق کے بغیر ڈیل بھی کرلیتے ہیں لیکن موجودہ حکمران طبقے کے تعصب اور تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ ان کی سوچ پنجاب کے اندر صرف وسطی پنجاب ‘ پھر وسطی پنجاب کے اندر صرف لاہور اور پھر پنجابیوں کے اندر صرف ایک ذات یا قبیلے کے دائروں میں بند ہے ۔ وہ نام تو پاکستان کا استعمال کرتے ہیں لیکن تعصب کی اصل عینک انہوںنے چڑھا رکھی ہے۔ پاکستان تو کیا وہ پنجاب کے ساتھ بھی ظلم عظیم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ عام پنجابی جو سب سے زیادہ کشادہ ذہن کا مالک ہے ۔ جو سب سے زیادہ محنتی ہے ‘ جو سب سے زیادہ پاکستانی ہے اور جو سب سے زیادہ محبتیں بانٹنے والا ہے ‘ کو گالی اس کے حکمران طبقے کے اس مفادپرستانہ یا متعصبانہ رویے کی وجہ سے ملتی ہے۔ چین پاکستان اکنامک کاریڈور کے منصوبے میں تبدیلی یا پھر اسے ایک صوبے میں سمیٹنے سے عام پنجابی کا کوئی تعلق نہیں۔

حکمران طبقہ جو کچھ کررہا ہے وہ پنجاب کی خاطر نہیں کررہا ۔ حکومتی اقدامات کا ہدف ایک خاندان یا پھر چند افراد کے مفادات کا تحفظ کرنا اور ان کے سیاسی حلقوں کو مضبوط بنانا ہے لیکن گالی پورے پنجاب کو پڑرہی ہے اور نقصان پاکستان کا ہورہا ہے ۔پاک چین دوستی اور تعاون کو متنازع بنانے والے پر لعنت اور تعصب کی عینک لگا کر رائے قائم کرنے اور تجزیہ کرنے والے پر ہزار لعنت لیکن پاکستان کے ماموں چاچوں کی خدمت میں بس اتنا عرض ہے کہ پہل کہاں سے ہورہی ہے۔

روک سکو تو پہلی بارش کی قطروں کو تم روکو
کچی مٹی تو مہکے گی‘ ہے مٹی کی مجبوری

کیا کراچی کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size