.

امامِ کعبہ کی عوامی سفارت کاری

نجم ولی خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جامعہ اشرفیہ میں امام کعبہ حضرت خالد الغامدی نے بہت ہی مہربان ہو کے میرا ہاتھ تھاما، میں نے ان سے کہا کہ ہماری پارلیمنٹ نے اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ غیر جانبدار رہنے کی ایک قرار داد منظور کی تھی، میں بطور صحافی آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستانی قوم کسی طور بھی غیر جانبدار نہیں ہے، وہ یمن میں طاقت کے زور پر جائز حکومت کے خاتمے کو غلط اور حرمین شریفین کے تحفظ کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتی ہے، پارلیمنٹ کی طرف سے غیرجانبداری کاموقف پاکستانیوں کی ترجمانی نہیں اور اب تو پاکستان کی حکومت نے بھی اس سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، امام کعبہ مسکرائے، یہ ان کی طرف سے اس یقین دہانی پردلی خوشی کا اظہار تھا کہ پاکستانی اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہےں، یہ یقین دہانی ابھی کچھ دیر پہلے ہی ایک سیمینار کی صورت میں مہتمم جامعہ اشرفیہ حضرت مولانا فضل الرحیم نے بھی کروائی تھی اوراس سے قبل وزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے میں بھی کروا چکے ہیں۔

سیاسی نابالغوں کے اصرار پر پارلیمنٹ کی قرارداد میں شامل ہونے والے ’غیر جانبدار ‘کے لفظ نے پاکستان اور پاکستانیوں کو جونقصان پہنچایا تھا میرے خیال میں اس کا آہستہ آہستہ ازالہ ہو رہا ہے۔ غیر جانبداری کے لفظ نے کچھ معصوم پاکستانیوں کو مسحوربھی کیا مگر وہ یہ بھول گئے کہ حق اور باطل کی لڑائی میں غیر جانبدار رہنا بھی جرم ہے۔ میرے خیا ل میں یہی وہ وجہ ہے کہ امام کعبہ کو کعبے کے تحفظ کے لئے عوامی سفارت کاری کی ذمہ داری سرانجام دینا پڑی۔

مجھے کہنے دیجئے ،وہ سعودی عرب نہیں بلکہ اللہ کے گھر کے سفیر کے طور پرمملکت خداداد کے دورے پر ہیں ، میں نے سوچا کہ میرے دیوبندی بھائی تو نسبت کے قائل نہیں، یہ خوبی تو بریلویوں کو بھاتی مگرخانہ کعبہ سے نسبت اتنی بڑی شے ہے کہ اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور ہو رہی تھیں، لوگ ان کی گاڑی اور نشست کے آگے پیچھے دیوانہ وار ہو رہے تھے ، مجھے سیمینار میں شرکت کی دعوت پرانے دوست مجیب الرحمان انقلابی نے دی اور ہردم مسکرانے والے حافظ اسعد عبید کے بہت ہی مہربان بھائی حافظ عبدالرشید کی مہربانی سے امام کعبہ سے ملاقات کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ مجھے بار بار احساس ہو رہا تھا کہ مجمع ڈسپلن کی پابندی نہیں کر رہا مگر ان میں سب سے آگے تو ہمارے میڈیا کے دوست تھے۔

میڈیا پروفیشنلز کو ایک طرف رہنے دیجئے اب تو ہر شخص کے ہاتھ میں سمارٹ فون کی صورت ایک کیمرہ موجود ہے اور ہر شخص ہی یہ چاہ رہا تھا کہ وہ امام کعبہ کی ایک ایک جنبش اور ایک ایک لفظ کو اپنے کیمرے میں قید کر لے۔ جامعہ اشرفیہ اپنی گنجائش سے بھی زیادہ نمازیوں سے بھری ہوئی تھی، باہر سڑک پر بھی دریاں اور صفیں بچھی ہوئی تھیں، اس سے ایک روز پہلے امام کعبہ کی امامت میں نماز جمعہ ادا کرنے کے خواہش مندوں نے پاکستان کی سب سے بڑی اور دنیا کی ساتویں بڑی مسجد کو بھی کھچا کھچ بھر دیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ امام کعبہ مسلمانوں میں اخوت کابیان کرتے ہوئے جذباتی ہورہے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ عرب بھی ہیں اور پاکستانی بھی ہیں، انہوں نے خود کو پاکستانی کہہ کر میرا مان اپنے سعودی دوستوں پر بڑھا دیا اور جب انہوں نے اپنے رب کے حضور یہ دعا کی کہ جنت میں ہم اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب اکٹھے ہوں تو ان کی آنکھیں بھیگ گئیں، لفظ ٹوٹنے اور رکنے لگے۔ مجھے یقین ہو رہا تھا کہ اتنی پرخلوص دعاکبھی رد نہیں ہوسکتی ۔ جب انہوں نے حرمین شریفین کے تحفط کی بات کی تو میرے خیال میں کون سا ایسا مسلمان ہو گا جو امام کعبہ کے اس مو¿قف کو رد کرے گا، سابق صد ررفیق تارڑ نے حکیم الامت کا ایک شعر یاد دلایا جسے مولانا فضل الرحیم نے اپنی تقریر کا حصہ بنالیا ، ’دنیا کے بتکدوں میںپہلاو ہ گھر خدا کا، ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا‘۔

امام کعبہ فرماتے ہیںکہ اسلام میں تشدد اور دہشت گردی کی گنجائش نہیں تو سو فیصد درست کہتے ہیں، وہ اتنی ہی درست نشاندہی کرتے ہیں کہ دشمن پروپیگنڈا کرتے ہوئے اسلام کو تشدد اور نفرت کے مذہب کے طور پر پیش کر رہے ہیں حالانکہ اسلام تو نام ہی امن اور سلامتی کا ہے۔ امام کعبہ سے بڑھ کے ہمارے لئے راہ نما کون ہو سکتا ہے، کوئی بھی نہیں، کچھ عاقبت نااندیش کعبہ کی امامت کو سعودی حکمرانوں کی قیادت کے ساتھ سیاسی طور پر جوڑ دیتے ہیں، میں اگر لمحے بھر کے لئے ان کا مو¿قف مان بھی لوں کہ سعودی حکمران اس طرح کے جمہوری طو ر پر منتخب حکمران نہیں ہیں جس طرح برطانیہ، امریکہ اور ہندوستان کے ہیں تو کیا میں اس کے ساتھ یہ بھی مان لوں کہ میرے رب نے اپنے گھر کی کنجیاں ان لوگوں کے حوالے کر رکھی ہیں جو اس کے اہل نہیں ہیں، میری توبہ، میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا، کعبة اللہ کی امامت سو فیصد ایک دینی معاملہ ہے جسے سیاست کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا، میں کعبے کے امام کی نافرمانی اس لئے نہیں کر سکتا کہ کچھ دنیاداروں کی نظر میں وہ جمہوری طور پر منتخب حکمرانوں کے نامزد کردہ نہیں، میرے پاس واضح دلیل ہے کہ میرا دین اسلام ہے، جمہوریت نہیں۔

میں سیاسی نظام کے طور پر تو جمہوریت کی حمایت کر سکتا ہوں مگر اسے دین کے طور پر اختیار نہیں کر سکتا۔ اپنے گھر میں میرے رب نے جسے مسند عطا کر دی، میں اس پر انگلی اٹھانے والا کون ہوتا ہوں۔ یہ جہان میرے رب کا ہے اور اسی نے فیصلہ کرنا ہے کہ کسے کہاں بٹھانا ہے، اطیعواللہ و اطیعو الرسول واولی الامر منکم، کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور سعودی حکمرانوں کو درپیش خطرات کو خانہ کعبہ اور روضہ رسول کو لاحق خطرات کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہئے۔ میں نہیں جانتا کہ سعودی عرب کو درپیش خطرات واقعی خانہ کعبہ کو بھی درپیش خطرات ہیں یا نہیںمگر میں ان سرحدوں پر بدامنی نہیں برداشت کرسکتا، جن کے اندر میرے رب کاامن اور سلامتی والا گھر ہے، میرے رب کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا آنکھوں اور روح کو ٹھنڈک بخشنے والا روضہ ہے۔

مجھے یاد آیا کہ اس سے پہلے خانہ کعبہ کے سب سے سینئر امام حضرت عبدالرحمان السدیس بھی تشریف لائے تھے تو اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی تھے، ان کی مہربانی سے میری حضرت عبدالرحمان السدیس سے بھی ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی تھی۔ میرے دل میں حافظ اسعد عبید، حافظ عبدالرشیداور مجیب الرحمان انقلابی کے لئے شکرئیے کے جذبات موجزن ہونے لگے کہ اگر وہ مجھے یاد نہ رکھتے تو میں حضرت خالد الغامدی کی زیارت نہ کرپاتا، میں سوچنے لگا کہ اگر امام کعبہ کی مصروفیات کو حکومت پنجاب خود ترتیب دیتی توزیادہ بہتر ہوتا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے امام کعبہ کو عشائیہ دیا اور اس عشائیے میں اپنے خاندان کے لوگوں اور پیاروں کو مدعو کرلیا حالانکہ یہ لوگ تواپنی بے پناہ دولت کی وجہ سے حرم کی زیارت کرتے ہی رہتے ہیں ۔ یہ اہم موقع تھا اور حکومت پنجاب کو لاہور جیسے شہر میں دانشوروں ،کالم نگاروں اور سینئر صحافیوں کے ساتھ کم از کم ایک نشست ضرور رکھنی چاہئے تھی، آن دی ریکارڈ سوال جواب چاہے نہ ہوتے، اسے ایک بریفنگ ، ظہرانے یا عشائیے کا ہی نام دے دیا جاتا۔

امام کعبہ خالد الغامدی یہاں حکمرانوں کے ساتھ پبلک ریلیشننگ سے کہیں زیادہ سعودی عرب میں حرمین شریفین کے ایشو پر غیر جانبداری کے تاثر اور خیال کی نفی کے لئے تشریف لائے اور یہی وجہ ہے کہ وہ نمازوں کی امامت کررہے اور ہر مقام پر ہزاروں، لاکھوں کو کامیابی کے ساتھ اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کرتی تو بہت سارے کالم نگار اور اینکر پرسن ان کی بات کو اپنے کالموں اور پروگراموں کے ذریعے آگے بڑھا رہے ہوتے، رائے عامہ ہموار کر رہے ہوتے۔ یہ حکومت کی کمزوری اور غلطی کا نتیجہ ہے کہ امام کعبہ کو یہاں حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے عوامی سفارت کاری کرنا پڑ رہی ہے۔ امام کعبہ کی جامعہ اشرفیہ جیسے تاریخی ادارے میں آمد اور نماز کی امامت اس ادارے کے مہتممین کے لئے اعزاز کا باعث ضرور ہے مگر اصل میں جامعہ اشرفیہ والے حکمرانوںکی وہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں جس میں انہوںنے کوتاہی کا مظاہرہ کیا ہے۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.