.

جرنیلی عشق

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس‘عمرتریسٹھ برس‘ امریکہ کے چند سب سے طاقتورجرنیلوں میں سے ایک ‘ افغان جنگ کا امریکی ہیرو‘ جسے بعد میں سی آئی اے کاسربراہ بنا دیا گیا‘ امریکی صدر کی کابینہ کارکن ‘ایک بے حد با اثر شخصیت۔

پولا بروڈویل‘ عمر تقریباً چالیس برس‘ شادی شدہ‘ دو بچوں کی ماں‘ہاورڈ کے کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ میں عسکری امور کی محقق‘جنرل پیڑیاس کی گرل فرینڈ۔

Jill Kelly امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر تامپاکی رہائشی ایک شادی شدہ خاتون ہے ‘ عمر سینتیس برس ‘تین بچوںکی ماں ‘ شوہر کا نام اسکاٹ کیلی جو ایک سرجن ہے ‘جنرل پیٹریاس اور جنر ل جان ایلن سے قریبی خاندانی مراسم۔

جنرل جان ایلن ‘عمر باسٹھ برس‘ سابق امریکی جنرل اور کمانڈر ایساف‘ان جنرل صاحب کے بارے میں تحقیق کی جارہی ہے کیونکہ موصوف نے مس کیلی کو ’’نا مناسب‘‘ ای میلز بھیجی۔ پولا بروڈویل اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی پہلی ملاقات 2006ء میں ہوئی جب مس بروڈویل ہاورڈ میں عسکری امور پر تحقیق کر رہی تھیں ‘اس دوران وہ جنرل پٹریاس کی لیڈر شپ کے انداز سے بہت متاثر ہوئی اور اس نے فیصلہ کیا کہ جنرل پٹریاس کی لیڈر شپ پر ایک کیس اسٹڈی کی جائے ‘ 2008ء میں پولا بروڈویل نے جنرل پیٹریاس کواپنے ارادے سے آگاہ کیا‘ جنرل صاحب بہت خوش ہوئے اور انہوں نے فوراً ہی پولا کو واشنگٹن میں اپنی ٹیم سے ملنے کی دعوت دی جو اسی خوش دلی کے ساتھ قبول کر لی گئی۔

اکتوبر 2008ء میں جنرل پیٹریاس کو کمانڈر یو ایس سینٹرل کمانڈ نامزد کر دیاگیا‘یہ تعیناتی فلوریڈا کے شہر تامپا میں MacDill Air Force Base میں ہوئی‘ یہاں جنرل صاحب اور ان کی بیگم کی ملاقات مس کیلی سے ہوئی اور بہت جلد دونوں خاندانوں کے گہرے مراسم قائم ہوگئے‘ واضح رہے کہ مس کیلی امریکی فوجی کے سماجی حلقوں میں بہت جانی مانی شخصیت تھی اور ائیر بیس پر ان کا آنا جانا یوں تھا گویا اپنے گھر کے کچن کا چکر لگا کر آئی ہو‘ مس کیلی کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محترمہ نے اپنی بہن کے لئے‘جسے ایک مقدمے میں اچھے کردار اور شہرت کا سرٹیفکیٹ درکار تھا‘ یہ سرٹیفکیٹ اس وقت کے دو امریکی جرنیلوں پیٹریاس اور جان ایلن سے لکھوا کر عدالت کے منہ پر مارا۔ اس دوران پولا بریڈول اور جنرل پیٹریاس کافی قریب آ چکے تھے جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جنرل پیٹریاس پولا کو اپنے ساتھ افغانستان لے کر گیا جہاں جنگ کے دوران اس نے کئی ماہ تک جنرل کے ’’لیڈر شپ‘‘ انداز کا نہایت’’ قریب ‘‘سے مشاہدہ کیا ‘ اسی مشاہدے کے دوران 2010ء میں پولا پر آشکار ہوا کہ اس ببر شیر جرنیل پر تو ایک سوانح عمری لکھنی چاہئے‘ چنانچہ کتاب پر کام شروع ہوا‘ ستمبر 2011ء میں صدر اوبامہ نے جنرل پیٹریاس کو سی آئی اے کا چیف تعینات کر دیا‘ یہی وہ وقت تھا جب پولا بروڈویل اور جنرل پیٹریاس مکمل طور پر ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ہم فی الحال ان دونوں عاشقو ں کو یہی چھوڑ تے ہیں۔

مئی 2012ء میں مس کیلی ایف بی آئی میں اپنے ایک دوست کو شکایت کرتی ہے کہ کوئی نا معلوم شخص اسے ای میل کے ذریعے ہراساں کرنے کی کوشش کر رہا ہے ‘ایف بی آئی تحقیقات شروع کرتی ہے ‘جوں جوں تحقیقات آگے بڑھتی ہیں پتہ چلتا ہے کہ ای میل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ پولا بروڈویل ہے ‘ پولا کو اس بات کی فکر تھی کہ کیلی اور پیٹریاس خاندان کے تعلقات جس نہج پر ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کیلی اُس سے پیٹریاس کو لے اڑے،اسی لئے پولا نے کیلی کو نا معلوم ای میل بھیجی جس میں کیلی کو دھمکایا کہ پیڑیاس سے دور رہنا(گویا‘وہ صرف میرا ہے)!مزید تحقیقات میں ایف بی آئی کو یہ بھی پتہ چلا کہ پولا اور پیٹریاس کا نہ صرف معاشقہ چل رہا ہے بلکہ پیٹریاس نے پولا کو نہایت اہم خفیہ معلوما ت بھی فراہم کی ہیں۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی،ایف بی آئی کو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کا ایک اور جرنیل جان ایلن بھی کیلی پر ڈورے ڈالنے کی کوشش میں اسے نا مناسب ای میلز بھیجتا رہا ہے ۔

قصہ مختصر‘ جنرل پیٹریاس کو سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر مستعفی ہونا پڑتا ہے‘ مقدمہ چلتا ہے ۔دو دن پہلے اس مقدمے کا فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں جنرل صاحب سے پلی بارگین کر لی گئی ہے جس کے تحت انہیں ایک لاکھ ڈالر جرمانہ اور دو سال کے عرصے کے لئے probation (آزمائشی مدت) کے لئے رکھا گیا ہے ‘ مراد یہ کہ جنرل صاحب کو جیل کی ہوا نہیں کھانی پڑے گی۔

اس ساری کہانی میں تین باتیں اہم ہیں ۔پہلی ‘ امریکیوں نے ہمیں ہالی وڈ کی فلمیں دکھا دکھا کر ایسا رعب جما رکھا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے وہ کوئی ما فوق الفطرت لوگ ہیںجو انسانی جذبات اور فطری کمزوریوں سے ماورا ہیں ‘ اور خاص طور سے ان کی فوج اور خفیہ اداروں کے سربراہان تو کسی اور ہی دنیا کے باشندے ہیں جنہوں نے کام کے علاوہ کچھ اورسیکھا ہی نہیں ‘جبکہ حال یہ ہے کہ ایک جرنیل عورت کے عشق میں ایسے اندھا ہوا کہ خفیہ معلومات ہی اسے تھما دیں اور دوسراابھی اسٹارٹ ہی لے رہا تھا کہ انجن سیز ہو گیا۔یہ اسکینڈل ثبوت ہے اس بات کا کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کی خفیہ ایجنسی کا سربراہ بھی بطور انسان اتنا ہی کمزور ہو سکتا ہے جتنا کوئی بھی دوسرا شخص ۔

دوسری اہم بات اس سارے معاملے میں امریکی میڈیا کا رد عمل ہے ‘ امریکی میڈیا نے نہ صرف اس بات پر تنقید کی ہے جنرل صاحب کافی سستے چھوٹ گئے بلکہ انہیں اس بات کی فکر ہے کہ تحقیقات کے نام پر امریکی خفیہ ادارے کس طرح امریکی شہریوں کی نجی ای میلز اور دیگر کھاتوں کے جانچنے کا اختیار رکھتے ہیں ‘ اگر سیکورٹی کے نام پر یہ نا گزیر بھی ہے تو اس صورت میں بھی بہت سے لوگوں کی ایسی معلومات جن کا کسی معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں غیرضروری طور پر ان اہلکاروں کے ہاتھ لگتی ہے جس کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ ایک خاص سطح سے اوپر امریکہ میں بھی قانون کی عملداری اس طرح نہیں ہے جیسے ہم نے فرض کر رکھا ہے‘Eirc Holderجو امریکہ کا اٹارنی جنرل ہے،پیٹریاس کا دوست ہے جس نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ پیٹریاس پر کیسے اور کیا الزام لگایا جائے‘ جب یہ بات ایک دوست نے طے کرنی ہو تو پھر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں مقدمہ کیسے آگے بڑھے گا!یہی نہیں بلکہ امریکی سینیٹر جان مکین نے اٹارنی جنرل کو خط لکھا جس میں ان الفاظ میں پیٹریاس کی سفارش کی گئی: Congress and the American people cannot afford to have his voice silenced or curtailed by the shadow of a long-running, unresolved investigation marked by leaks from anonymous sources۔ ذرا سوچئے کہ یہ امریکہ ہے جہاں یہ مقدمہ زیر سماعت تھا کہ سی آئی اے کے چیف نے حساس اور خفیہ معلومات اپنی محبوبہ کو دیں اور اس بات کا اعتراف بھی کیا ‘اس کے بعد امریکی سنیٹر‘ اٹارنی جنرل کوباقاعدہ خط لکھ کر سفارش کر رہا ہے کہ ’’ہتھ ہولا رکھنا!‘‘اگر یہ حرکت کسی پاکستانی نژاد مسلمان امریکی اہلکار نے کی ہوتی تو!!!
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.