.

سائبر کرائمز قانون کے مسودے پر نظر ِ ثانی کی ضرورت

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت انٹر نیٹ کی بے قاعدہ مگر ہر آن وسعت پذیر دنیا میں ہونے والے سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لئے ایک قانون بنانے جا رہی ہے۔ اس کارروائی کا آغاز پی پی پی حکومت کے دوران 2010ء میں ہی ہوگیا تھا مگر اس میں تیزی مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کے دوران اُس وقت دیکھنے میں آئی جب قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے قانون سازی کی منظوری دے دی۔

سائبرز کرائمز کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت اور اہمیت سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ زیادہ تر ممالک نے اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ آج کل دنیا بھر میں کاروباری اور مالی امور میں انٹر نیٹ کا استعمال بے حد بڑھ چکا ہے۔ علم، معلومات، پروپیگنڈہ، حقائق اور مفروضات کی ترسیل کا موثر ترین ذریعہ ہونے کی وجہ سے اس نے نجی اور عوامی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ مذہب، اخلاقیات اور سیکولر اقدار پراس کا اثر بہت گہرا ہے۔ جرائم پیشہ افراد، دغاباز، دہشت گرد، شورش پسند اور خبطی افراد اسے من پسند ہتھیارکے طور پر استعمال کرتے ہوئے پبلک اور پرائیویٹ زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرکے اسے اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

نجی زندگی کے بارے میں حاصل کی گئی معلومات کا منفی استعمال کرتے ہوئے وہ اہم شخصیات کو بدنام کرتے ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر سائبر کرائمز کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی ضرورت پر کسی کو اعتراض نہیں، لیکن خرابی اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب آمر حکمران، جاہل افراد، انتہا پسند، پارسائی کے دعویدار اور ایسے رہنمااور ادار ے ، جو خود کو ریاست کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے، ایسے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ یہ صورت ِحال اُس وقت مزید سنگین ہوجاتی ہے جب ان قوانین کواندھا دھند نافذ کرنے کی کوشش میں شہریوں کوآئین میں دی گئی آزادی اور بنیادی حقوق کچلے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے مجوزہ بل میں انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کی حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ یہی وجہ ہے سول سوسائٹی کے مختلف گروہ اس تجویز کی مخالفت کررہے ہیں۔

آغاز سے ہی اس بل پر مختلف جماعتوں کے درمیان اتفاق ِ رائے کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ فی الحال قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں شامل پی ایم ایل (ن)سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس بل کے مسودے پر دستخط کیے ہیں۔ اس بات کی کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں کی گئی کہ مختلف جماعتوں کے کولیشن اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی طرف سے منظورکردہ ڈرافٹ، جس کی تیار ی میں عالمی ضابطوں کا خیال رکھا گیا تھا، کو آخری لمحات میں کیوں مسترد کردیا گیا۔ اب حکومت نے بہتر سمجھا ہے کہ مزید بحث اور اس کی وجہ سے ہونے والی تاخیر سے بچنے کے لئے موجودہ بل کو منظر ِ عام پر نہ لایا جائے۔

اس بل میں شامل کچھ مخصوص شقیں تشویش کا باعث ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے افراد ، جن پرکسی بھی قسم کے جرائم میںملوث ہونے کا الزام ہو ، کو ’’گلوری فائی‘‘ کرنا جرم کے زمرے میں آئے گا، چاہے ان افراد پر جرم عدالت میں ابھی ثابت ہونا باقی ہو۔ اس طرح یہ قانون اُس مشہور اصول۔۔۔ جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان کو بے گناہ سمجھا جائے گا۔۔۔ کی پامالی کرتا ہے۔ چنانچہ ناپسندیدہ میلز، مزاحیہ مواداور سائبرا سپیس کا جائزہ لینے والے عمل کی نگرانی کرنے والی شقوںکا محتاط جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میںخاص طور پر ویب سائٹس کو بلاک کرنے اور مواد ہٹانے کا اختیار کسی کو سونپنے سے پہلے بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادی ِ اظہار اور معلومات تک رسائی کا حق خود کو دوسروں سے پارسا سمجھنے والے افسران ، قدامت پسند افراد اور آمرانہ سوچ رکھنے والے سیاست دانوں کے ہاتھ گروی نہیں رکھے جاسکتے۔ اسی طرح دانشور، تخلیق کار، فن کار، نقاد اور شارع اس قانون کی گرفت سے باہر رکھنے ہوں گے ورنہ تمام تحقیقی اور تخلیقی کام رک جائے گا۔ ایسی اصطلاحات ، جیسا کہ ’’اسلام کی عظمت‘‘، ’’قومی سلامتی‘‘، ’’پاکستان کی سالمیت‘‘، ’’نظریہ ٔ پاکستان‘‘ہیں،ان پر مختلف افراد کا اپنا نقطہ ٔ نظر ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ان کی تشریح پر اس قانون کی گرفت نہیں ہونی چاہیے۔ سب سے پریشان کن وہ شق ہے جو ’’دوست ممالک ‘‘پر تنقید کرنے کو جرم قرار دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی تعلقات کی دنیا میں دوست اور دشمن مستقل نہیں ہوتے ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ جہاں کسی اصطلاح کی تشریح یا قانون کے دائرہ کار کے بارے میں ابہام پایا جائے تو وہاں عدالتیں ، ہمیشہ کی طرح آئین کے مطابق، مداخلت کریں گی۔یہ بظاہر درست اقدام معلوم ہوتا ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب کسی شخص کوحکام گرفتار کرکے لاک اپ میں بند کردیں تو وہ آسانی سے انصاف نہیں لے سکتا۔ چنانچہ بہتر ہے کہ پہلے ہوم ورک کرلیا جائے تاکہ اس قانون کا کسی طور پر غلط استعمال نہ ہونے پائے ، ورنہ یہ قانون شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دے گا۔ اسی طرح کے بہت سے قوانین کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جن کی وجہ سے امن پسند شہریوں پر زد پڑی اور پھر اُنہیں (قوانین کو)ختم کرنے کے لئے عدالتوں میں لڑائی کرنا پڑی۔

اس وقت پاکستان میں موبائل فون کے 130 ملین اور انٹر نیٹ کے پندرہ ملین صارفین ہیں۔ اگلے پانچ برسوں کے دوران ہر پاکستانی، چاہے وہ تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ، جوان ہو یا بچہ، مرد ہو یا عورت، کے ہاتھ میں کسی نہ کسی قسم کی android device ہوگی۔ وہ اس کے ذریعے دنیا بھر سے رابطے میں رہے گا۔ انٹر نیٹ کی اسپیڈ اور سہولت بڑھے گی اور اس کے نرخوں میں کمی آئے گی۔ ان حالات میں حکومت ایسا خام قانون کیسے بنا سکتی ہے جس کی وجہ سے ہر پاکستانی کی زندگی متاثر ہو؟ چوالیس صفحات پر محیط ڈرافٹ کو تیرہ صفحات پر محدود کرنے پر خوشی سے پھولی نہ سمانے والی حکومت کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ ایسی کوشش کرے جس سے نہ صرف سائبر کرائم کی سرکوبی ہو بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر بھی زد نہ پڑے۔ پی ایم ایل (ن) کی حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر سول سوسائٹی کے نمائندوں کو دعوت دے کراس قانون کے مسودے کا جائزہ لینے کا موقع دے۔ اس میں یقینا بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ اگر ہمیں کسی بل پر قومی اتفاق ِر ائے کی ضرورت تھی تو وہ یہی ہے۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.