.

رستم غزالہ کیوں قتل ہوئے؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سابق سیاسی سکیورٹی چیف (سراغرساں ادارے کے سربراہ) رستم غزالہ پُراسرار حالات میں مارے گئے ہیں۔وہ گذشتہ دوعشرے کے دوران شام کی سب سے بدنام شخصیت رہے تھے۔

بشارالاسد رجیم کی دوسری شخصیات کی اموات کا اگر ذکر کیا جائے تو قدرتی اسباب کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سنہ 2005ء میں غزالہ کے پیش رو غازی کنعان بھی قتل ہوگئے تھے لیکن تب شامی حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے خودکشی کی تھی۔اسی طرح دو سال قبل ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ جامع جامع بھی مارے گئے تھے۔وہ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قاتلوں میں سے ایک تھے۔

شام دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سرکاری عہدے داروں کو غائب کردیا جاتا ہے یا وہ غائب ہوجاتے ہیں اور پھر شامی حکومت ان کی خودکشی یا پراسرار حالات میں موت کا اعلان کردیتی ہے۔رستم غزالہ کے بارے میں مُنھ در مُنھ گردش کرنے والی کہانیوں کے مطابق انھیں تشدد کرکے موت کی نیند سلایا گیا ہے۔نیم سرکاری ذرائع نے بھی یہی اطلاع دی ہے۔

مختلف سرکاری ذرائع نے مختلف کہانیاں بیان کی ہیں۔ان میں سب سے مضحکہ خیز کہانی یہ ہے کہ انھیں ایک اور سرکاری عہدے دار رفیق شہادہ کے ساتھ تنازعے کے بعد مارا پیٹا گیا تھا کیونکہ مؤخرالذکر نے اپنے آبائی شہر درعا میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائی پر اصرار کیا تھا۔

میں نہیں جانتا کہ ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اتنے احمق ہیں کہ وہ اس طرح کی کہانیوں پر یقین کر لیں گے۔اس معاملے میں سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ''قاتل''شہادہ کو اپنے اس ساتھی کی جگہ عہدے پر تعینات کردیا گیا تھا جس کا انھوں نے اپنے ہاتھوں سے قصہ پاک کیا تھا۔

کوئی اخفا نہیں

اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ رستم غزالہ کو جیل میں تشدد کرکے موت سے ہم کنار کیا گیا ہو۔شامی حکومت قتل کی اسٹوری کو چھپانا نہیں چاہتی تھی۔اگرچہ کہ اس نے ان کے قتل سے متعلق متضاد افواہیں شائع کی تھیں۔

شامی رجیم اپنے عہدے داروں کی پراسرار ہلاکتوں کا اس انداز میں اعتراف اور اعلان کرتا ہے تاکہ وہ دوسرے اعلیٰ عہدے داروں میں خوف وہراس پھیلا سکے۔دونوں مقتول شخصیات غزالہ اور کنعان نے سنہ 2000ء میں سابق وزیراعظم محمود الزعبی کو قتل کردیا تھا۔

چنانچہ غزالہ کے قتل کی بہت سی وجوہ موجود ہیں۔ان کی موت کا تعلق لبنان کے المدینہ بنک کی سربراہ رنا قلیلات سے بِھی تعلق ہوسکتا ہے۔وہ لبنانی ہفتہ روزہ الشراع میں اپنے اعترافات کی اشاعت کے بعد ملک سے بھاگ کر برازیل چلی گئی تھیں۔انھوں نے غزالہ اور ان کی اہلیہ کی بلیک میلنگ کا بھانڈا پھوڑا تھااور یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ان سے لاکھوں،کروڑوں ڈالرز اینٹھ لیے تھے۔

رنا نے ایسی بہت سی خوفناک کہانیوں کا انکشاف کیا تھا کہ مقتول غزالہ انھیں اور بنک کے عملے کو لبنان میں قیام کے دوران کیسے ڈرایا دھمکایا کرتا تھا۔تاہم شامی رجیم نے کبھی اپنے ایسے عہدے داروں کو کوئی سزا نہیں دی تھی بلکہ اس کے بجائے اس نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور انھیں اپنے تفویض کردہ علاقوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر نوازا تھا۔خواہ انھوں نے کوئی بھی طریق کار اختیار کیا ہو۔

غزالہ کی موت کی پُراسراریت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس امر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ان سے ہیگ میں قائم لبنان کے بارے میں خصوصی ٹرائبیونل نے پوچھ تاچھ کی تھی۔یہ ٹرائبیونل لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کررہا ہے اور مشتبہ افراد کے خلاف مقدمے کی سماعت کررہا ہے۔رستم غزالہ کا نام بھی مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔

رفیق حریری کی بم دھماکے میں موت میں ملوّث بہت سے شامی عہدے داروں کو بڑے پراسرار حالات میں ہلاک کردیا گیا ہے۔ان ہی کی طرح رستم غزالہ کی بھی پراسرار حالات میں موت واقع ہوئی ہے۔تیسرا امکان یہ ہے کہ انھوں نے شامی رجیم سے منحرف ہونے کا فیصلہ کرلیا ہو اور یہ ان کے قتل کی سب سے مناسب وجہ ہوسکتی تھی۔

شامی رجیم کے بہت سے لیڈر قتل کردیے گئے ہیں یا وہ لاپتا ہیں اور اس رجیم کے بہت تھوڑے ارباب اختیار زندہ بچے ہیں۔بشارالاسد اپنے ایرانی اتحادیوں کی مدد سے بحالی کے ایک نئے دور کی تیاری کررہے ہیں تاکہ وہ ایک نئے سیاسی مرحلے میں ملک کی قیادت کرسکیں۔اس کے لیے وہ یہ جواز پیش کررہے ہیں کہ وہی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑسکتے اور انھیں شکست سے دوچار کرسکتے ہیں۔غزالہ کے قتل سے لوگوں کو یہ بھی باور ہوگیا ہوگا کہ شامی رجیم کتنا ظالم اور سفاک ہے۔تاہم وہ عوام کو کبھی یہ بات باور نہیں کرائی جاسکتی ہے کہ رجیم تبدیل ہوچکا ہے۔

------------------------------------------------------------------------------------

(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے خیالات سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو /العربیہ نیوز کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.