.

ٹوئٹر اور فیس بُک کے دہشت گرد!

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ابے او بالآخر تُوپیسے لے کر بِک گیا…تُو بھونکنے والا ک اورمنافق ہے …تیرے تو ماں باپ کا بھی پتہ نہیں…تُو ایک ک کی اولاد ہے …ایم کیو ایم نے تجھے خریدلیا ہے…تیرے بارے میں سب کو پتہ ہے کہ تُو کیا ہے اور تُو کس کا غلام ہے…ایک سیاسی یتیم سے زیادہ تیری کوئی اوقات نہیں ہے…پی ٹی آئی نے گھاس نہیں ڈالی جب ہی تو ہمارے خلاف بکواس کررہا ہے …وغیرہ وغیرہ …(گو کہ مجھے اپنی والدہ کے لئے یہ لفظ لکھتے ہوئے کس قدر تکلیف ہورہی ہے یہ میں ہی جانتا ہوں مگراللہ کی قسم! یہ مؤرخ کا فرض ہے کہ تاریخ درست لکھے، اِسی لئے ہر لفظ کاریکارڈ پر لانا ضروری ہے، ہم نے غلط تاریخ کی وجہ سے اپنے اوپر ہی کئی ستم ڈھائے ہیں)

یہ وہ کسیلے،کڑوے اور اخلاقیات پر بلغم تھوکتے زہریلے جملے ہیں جو این اے 246 کے ضمنی انتخاب پر ’’ایماندارانہ تجزیہ‘‘ لکھنے کے بعد پی ٹی آئی کے ’’لکھے پڑھے‘‘…’’تجربہ کار‘‘…’’برداشت کے عظیم پیامبر‘‘…اور ’’اچھے گھرانے‘‘ کے دعوے داروں نے’’تصوراتی اور جھوٹی دنیا ‘‘ یعنی سوشل میڈیا کے ٹوئٹر یا فیس بُک پر پوری قوت سے میرے خلاف ’’اُگلے‘‘ اور کیونکہ میں فیس بُک پر ہوں اور نا ہی ٹوئیٹر پر لہٰذا میرے بعض ’’مشتعل چاہنے والوں‘‘ نے مختلف طریقوں سے رابطہ کر کے مجھے ’’اسکرین شاٹس‘‘ اِرسال کئے اور اپنے شدید غم وغصے کا یہ کہہ کر بھی اظہار کیا کہ ’’بہت خاموش رہ لئے آپ! یا تو جواب دیجئے یا پھرٹیلیویژن پرآکر کہہ دیجئے کہ جس کا جیسا جی چاہے وہ اِس غلاظت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرے ‘‘…

عرض یہ ہے کہ میں اِن گِری ہوئی باتوں کو ’’اُٹھانا‘‘ نہیں چاہتا…یہ کوئی نوالہ تو ہے نہیں جسے اُٹھا کر صاف کرنے کے بعد کھالیا جائے اور سنت پر عمل بھی ہوجائے بلکہ ایک سچے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(جو کہ میں نہیں ہوں،کہ یہ راہ آسان نہیں بہت کٹھن ہے)کا یہی کام ہے کہ وہ جاہلانہ کلام اور بدبودار مغلظات کو سننے کے بعد صرف مسکرائے اور گندگی باہر نکالنے والوں کے لئے ہدایت کی دعا کرے…گو کہ میرے بھائی نعیم الحق صاحب نے بھی جذبات میں آکر بہت کچھ کہہ ڈالا ہے مگر میں اُن کا اُسی طرح احترام کرتا رہوں گا جیسا کہ پہلے کیا کرتا تھا،میرے دوست عمران اسماعیل صاحب بھی بہتے ہوئے کافی آگے نکل گئے ہیں لیکن مجھے ہمیشہ وہیں پائیں گے جہاں اُنہوں نے مجھے چھوڑا تھا اور اِسی طرح خان صاحب کے ’’ذاتی احترام‘‘ میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوگی کیونکہ وہ ایک بڑے انسان ہیں اور اُنہیں اللہ نے عزت دی ہے اور جسے اللہ عزت دے اُس کی ذات کو کبھی ہدف نہیں بنانا چاہئے …البتہ عمل پر تنقید،اقدامات پر سرزنش،پالیسیوں سے اختلاف اور طریقہ کارپر تحفظات…صرف میرا ہی نہیں بلکہ ہر ایک پاکستانی کا بنیادی،آئینی،جمہوری،اخلاقی اور سماجی حق ہے …بالکل اُسی طرح جس طرح’’ آپ‘‘ اور آپ کے ’’چاہنے والے‘‘ اِس حق کو جس طرح جی چاہے استعمال کرتے ہیں…

میں نے اگر این اے 246 کے بارے میں ’’حقائق ‘‘ لکھے تو کیا جرم کیا؟ نتائج نے بتلادیا کہ یہ جن کی نشست تھی اُن ہی کے پاس رہی بلکہ ایک انچ بھی آگے نہیں سِرکی… اور جہاں تک ’’ووٹ کم‘‘ پڑنے پر ’’عزتِ انصاف‘‘ بچانے کا تعلق ہے تو بھائی صاحب! (عارف علوی صاحب عموماً اِسی طرح مخاطب کرتے ہیں) ووٹ کم نہیں پڑے… بہت زیادہ پڑے ہیں کیونکہ یہ ’’عام انتخاب ‘‘نہیں ’’ضمنی الیکشن‘‘ تھا…پورے ملک میں عام تعطیل تھی اور نا ہی ووٹروں کو گھر سے باہر نکالنے کی میڈیا نے کوئی ’’باقاعدہ مہم‘‘شروع کررکھی تھی … اگر یاد ہو تو 2013ء کے عام انتخابات میں تمام میڈیا ہاؤسز اور بالخصوص ’’جیو نیوز‘‘ اِس عمل میں پیش پیش تھا اور ہر دس منٹ کے بعد اسکرین پر یہ درخواست مختلف انداز سے ناظرین کو یاددہانی کرارہی تھی کہ ’’ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ دینے کےلئے گھروں سے باہر نکلیں، نوجوان اِس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں…اپنے ووٹ کے حق کو ضائع نہ ہونے دیجئے…پولنگ اسٹیشنز کے باہر آپ کی قطاریں ہی ملک میں حقیقی جمہوریت کا فیصلہ کریں گی‘‘ اور نہ جانے کیا کیا کہا جارہا تھا …یہاں تک کہ ’’مسٹر جیم‘‘ بھی مسلسل ’’نوجوان ووٹرز‘‘ کو جگانے کے لئے اسکرین سے لمحہ بھر بھی اوجھل نہ ہوئے جس کے نتیجے میں پورے ملک میں ’’ٹرن آؤٹ‘‘ غیر معمولی رہا اور کئی حلقوں میں لاکھوں کی تعداد میں ووٹ پڑے…

اِس ضمنی انتخاب میں اُمیدواروں اور میڈیا کی توجہ ’’ذاتی حملوں کی تشہیر‘‘ …’’زندہ لاش پر تبصروں‘‘…اور’’پورا مہاجر یا آدھا مہاجر‘‘کے سوال پر ہی مرکوز رہی،کسی نے بھی ووٹرز کو باہر نکلنے کی ترغیب نہیں دی لہٰذ جتنے بھی نکلے وہ ’’بہت‘‘ نکلے ہیں صاحب!عام اور ضمنی انتخاب کے فرق کا موازنہ کیا جائے تو حاضری 55فیصد تک بن جاتی ہے جنابِ والا…اور اگر ’’اُنہیں‘‘ ووٹ کم پڑے ہیں تو ’’آپ‘‘ کو کون سے زیادہ پڑگئے؟بقول شخصے کہ واقعی کراچی خوف سے آزاد ہوگیا جس کا واضح ثبوت پی ٹی آئی کو پڑنے والے ووٹوں میں کمی ہے اور لوگوں نے بے خوف ہوکر ایم کیوایم کو ووٹ دے ڈالے…دیکھئے جناب! میں پھر گزارش کرتا ہوں کہ میرا ایم کیوایم سے اب کوئی تعلق نہیں ہے ،کبھی ہوا کرتا تھا اور میں نے چھپ کر نہیں بلکہ اعلانیہ اِس جماعت کو خیر باد کہا ہے لیکن اگر کوئی یہ چاہتاہے کہ ایم کیوایم چھوڑنے کے بعد مجھے اِس میں صرف برائیاں نظر آنا چاہئیں تو اُس سے بڑا فریبی،چلتر باز،جھوٹا اور مکار کوئی اور ہوہی نہیں سکتا…

ایک عرصے تک میں MNA بن کرعزت حاصل کروں،پھر وزیر بن کر جھنڈے والی گاڑی میں اِتراتا پھروں اور جیسے ہی ’’بوجوہ‘‘ اُس جماعت سے علیحدہ ہوجاؤں تو مجھے ٹھپے،دہشت گردی ، بربریت ،ظلم ،خوف …سب ہی نظر آنا شروع ہوجائیں اور میں اُن تمام ایام کو فراموش کردوں جب عوام کے دکھ درد اور مسائل حَل کرنے کا اِسی جماعت نے مجھے شعور عطا کیا تھا…کم از کم شیخ لیاقت اور محمودسلطانہ کے خون سے یہ توقع نہ رکھی جائے تو بہتر ہوگا!…میں آج بھی ختم نبوت اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی سے کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں ہوں بلکہ اِس پر جینے کے بجائے مرنے کو ترجیح دوں گا کیونکہ Convinced ہوں کہ میرا راستہ درست ہے …لیکن چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کر کے یہ شور کرنے کو بھی قطعاً تیار نہیں کہ شہر میں سونامی آگیا ہے …ابھی پی ٹی آئی کو یہاں بہت محنت کی ضرورت ہے ،ایم کیو ایم نے جس طرح لوگوں کے دلوں میں گھر کیا ہے آپ کو بھی کچھ ایسا ہی کرنا ہوگا دوستو! انتخابات ٹوئٹر یا فیس بک پر نہیں بلکہ عوام کے درمیان ہوتے ہیں،حیران ہوں کہ برداشت کا درس دینے والے Virtual World میں جذبات کا اظہار کرتے ہوئے آپے سے کیوں باہر ہوجاتے ہیں؟

کیوں چاہتے ہیں کہ جیسا آپ سوچ رہے ہیں اُسی کو درست مان لیاجائے ؟بقول آپ کے اگر ایم کیوایم مخالفت برداشت نہیں کرتی تو معذرت کے ساتھ کپڑے اُتارنے میں تو آپ بھی کسی سے کم نہیں بلکہ اگر سوشل میڈیا پر اِس کا مقابلہ کرالیاجائے تو آپ کے ’’ایکسپرٹس ‘‘اُس اُس زاویے سے مخالفین کو ننگا کرینگے کہ شرم بھی کچھ دیر کیلئے شرما جائے… بھائی صاحب! پہلے اپنے آپ کو درست کے جئے، لوگوں سے رابطے بڑھائیے، تنظیمی ڈسپلن بہتر کیجئے، نہاری کھانے کے علاوہ بھی علاقے میں آیا جایا کیجئے اور جن سے ووٹ مانگنے جائیں اُنہیں ’’زندہ لاشیں‘‘ کہنے سے اجتناب برتیئے …ذرا دیکھئے تو سہی کہ 95 ہزار لاشوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
اور ساتھ ہی ساتھ برائے مہربانی میری شخصیت اور میرے رویے کو آپس میں خلط ملط مت کیجئے کیونکہ میری شخصیت میں خود ہوں اور میرا رویہ دراصل ’’آپ ‘‘ ہیں…!!

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.