.

انصاف کی بسنتی

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اور آواز دب گئی۔ لاش گر گئی۔پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔اعلٰی شخصیات کے مذمتی بےانات بھی چل گئے اور شاید ایک اور اعلٰی سطح کاعدالتی کمیشن بھی بن جائے گا۔ہو گا وہی جو پہلے ہوتا آےا ہے یعنی کچھ بھی نہیں۔ مگر اس بار تو کسی نے عدالتی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کرنے کی بھی زحمت نہیں کی ۔سپریم کورٹ کے جج صاحبان پہلے ہی اپنے "قیمتی وقت"میں سے کمیشنز کی تحقیقات کو بہت وقت دے چکے ہیں۔ اےک سال سے جاری حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے علاوہ مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیا کم ہیں کہ سبین محمود کے قتل کی تحقیقات کا ذمہ بھی لے لیا جائے۔آخر تھانوں کے محرروں اور تفتیشیوں کا کام ان معزز ججوں سے کروائیں گے تو اعلٰی ترین قانون کی تعلیم کے استعمال میں وقت تو لگتا ہے ناں۔

اب ےہ بد بخت ٹارگٹ کلرز کو کون سمجھائے کہ انہیں اپنی کارروائیوں سے پہلے عدالتی کمیشنوں کی رپورٹوں کا انتظار کرنا چاہےے اور نہیں تو پہلے سے مکمل اور جاری شدہ عدالتی کمیشنوں کی روشنی میں اپنی حکمت عملی طے کرنی چاہیے اور اگر ایسا وہ نہیں کریں گے تو کیا عوام کی منتخب حکومت ایسا کرے گی؟ اب ٹارگٹ کلرز ہی عوام پر کچھ رحم کھائیں تو کھائیں ےہ حکومت تو کچھ نہیں کرنے والی۔انصاف کی بسنتی کے پیروں نے ناچنا بند کر دیا ہے اور عوام ماسٹر مائنڈ گھبر سنگھ کے ٹارگٹ کلر سامبا کے رحم و کرم پر لگتے ہیں۔ ہمارا المیہ ےہ ہے کہ ہمارے کچھ ادارے ،سےاسی جماعتیں اور غیر ملکی عناصر ایک دوسرے پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے انسانی خون کی سیاہی سے پیغام رسانی کا کام لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔اس سے بڑھ کر المیہ ےہ ہے کہ کسی قسم کی تحقیقات اس لئے منطقی انجام کو نہیں پہنچتی کہ ایک جھوٹے الزام کی تحقیقات میں بھی سچے الزامات کا پنڈورا بکس کھلنے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

ہماری بزدل سیاسی حکومتیں جو کام خود نہیں کر سکتی یعنی کہ حساس اداروں کے خلاف جھوٹے سچے الزامات کی تحقیقات، وہ کام ججوں کے ذریعے کروانا چاہتی ہیں۔اور تو اور ےہ عوامی حکومتیں مسلح سیاسی گروہوں کے خلاف کارروائی کے لئے بھی حساس اداروں اور نیم فوجی اداروں کی مدد کی محتاج ہوتی ہیں۔ہماری حکومتوں کی بے بسی اور لاچاری کا سب سے بڑا ثبوت تو آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کا قیام ہے۔ اس کی وجہ یقینا عدلیہ کی کمزوری بھی ہے۔لگتا ہے حکومت، فوج اور عدلیہ اپنے اپنے کونوں میں مورچہ زن اختیارات کی اپنی اپنی سلطنت کو محفوظ کرنے میں مصروف ہیں اور اس کام کے لئے اےک دوسرے کو اےک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔

اب ایسے میں کوئی شہری ان میں سے اےک پر تکیہ کر کے آزادی رائے کا استعمال کر لے تو انہیں کون تحفظ دے گا ان دہشت گردوں سے، جو ےا توہمارے عسکری اثاثے ہیں ، ےا پھر سیاسی اتحادی اور ےا کالے کوٹ والوں کے گاہک ۔اےسے میں غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے دہشت گرد اداروں کے درمیان اور اداروں سے متعلق شہریوں میں عدم اعتماد کو ہوا دےنے کے لئے بھی ٹارگٹ کلنگ کا ہتھےار استعمال کرتے ہیں۔ےہ غیر ملکی دشمن اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری حکومت، عدلیہ اور فوج شفاف تحقیقات کے عمل کو کبھی پورا نہ کر پائے گی اور عوامی شکوک و شبہات برقرار رہیں گے۔ جب تک ہم اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اقرار نہیں کریں گے تو پھر بہت سے ناکردہ گناہوں کا الزام بھی بآسانی ہم پر تھوپا جائے گا۔یہی بات اداروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

جب ہمارے کچے اداروں کے اردگرد اعتماد کی دیوار گرے گی تو غیر ملکی دشمن ہمارے صحن میں راستے تو بنائےں گے۔ ان اداروں کے اردگرد عوام کے اعتماد کی دیوار کو قائم رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ادارے آئین کے مطابق اپنی اپنی اوقات میں رہتے ہوئے خود کو احتساب کے لئے پیش کرتے رہیں۔

سبین محمود کے اصل قاتلوں تک پہنچنا بہت ضروری ہے مگر اسی طرح ضروری ان غلطیوں کا احاطہ کرنا بھی ہے کہ جس کے باعث آج شک کی نگاہ اپنے ہی اداروں کی طرف جا رہی ہے۔ اگر ماما قدیر کو لاہور یونیورسٹی میں بولنے سے نہ روکا جاتا تو ہمارے اداروں کی ساکھ کو اتنا نقصان نہ ہوتا جتنا آج ہو چکا ہے۔ ہمارے اداروں کی غلطیوں کا فائدہ ان کے سےاسی مخالفین اور غیر ملکی دشمن ہی اٹھائیں گے۔ اس کا حل اےک ہی ہے ، شفاف تحقیقات اور ان کا منطقی انجام صرف سبین محمود کے کیس میں ہی نہیں بلکہ دوسرے معاملات میں بھی۔ جہاں غلطیاں ہوئی ہیں انہیں تسلیم کر کے کارروائی کی جائے اور جہاں نہیں ہوئی انہیں ثابت کیا جائے۔ بلوچستان کے حوالے سے بھی حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے۔لاپتہ افراد کے مقدمات کو محض عدالتی ریمارکس کے ذریعے خبروں میں رہنے کا ذریعہ بنانے کی بجائے واضح اور دوٹوک فیصلے دئے جائےں۔

اس حوالے سے لاپتہ افراد کے مستقل کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اس کی سربراہی کسی ایسے عزت دار شخص کے حوالے کی جائے جو نوکری بازی کے بجائے حقائق اور انصاف پر ےقین رکھتا ہو۔اللہ تعالیٰ سبین محمود کی مغفرت فرمائے مگر جو لوگ اس کے قتل کے ذمہ دار ہیں اور جو ادارے اور حکومتیں ایسے معصوم لوگوں کے قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام ہیں ان کو بھی اپنی مغفرت کی فکر کرنی چاہیے۔ ہم معصوموں کے لئے مغفرت کی دعا کے ساتھ ساتھ ان کے قاتلوں اور ان کو پکڑنے اور ان کی نشاندہی میں ناکام اداروں اور شخصیات کے لئے کچھ دوا بھی کرنا ہو گی۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک پاکستان پر ان انسانی روحوں کا ساےہ ہے جن کے قتل ےا موت کے ذمہ دار انصاف کے کٹہرے تک نہیں لائے جا سکے۔ قائداعظم محمد علی جناح ، لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاءالحق، مرتضٰی بھٹو، بے نظیر بھٹو چند ایسی انسانی روحیں ہیں جو بے چین ہیں اور بھٹک رہی ہیں مگر شاید ےہ بھی اقرار کرتی ہیں کہ ان سے بھی کوتاہیاں ہوئیں۔ ےہ روحیں شاید چیخ چیخ کر ہمیں بتا رہی ہیں کہ اگر ان کے قاتلوں کو نہ پکڑا تو ہم بھی ان بے چین روحوں کی طرح بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں انسانوں اور بچ جانے والی زندہ لاشوں کی کوئی نہیں سنتا تو روحوں کی کون سنے گا؟ سبین محمود اگر زندہ بچ جاتیں تو نہ جانے کس پر الزام لگاتیں؟

زندہ بچ کر ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا کتنا مشکل ہے ےہ کوئی حامد میر سے پوچھے ےا پھر سپریم کورٹ کے ان معزز جج صاحبان سے جن پر مشتمل حامد میر کمیشن گزشتہ اےک سال سے خاموش ہے۔ مگر خاموش تو ہمارا پورا معاشرہ بھی ہے ۔آخر خاموشی ملزم کا قانونی حق بھی تو ہوتا ہے۔اور اےسے معاملے میں تو اےک لحاظ سے ہم سب ہی ملزم ہیں۔ بحیثیت مسلمان خاموشی گناہ سہی مگر بحیثیت ملزم خاموش رہنا ہمارا قانونی حق ہے۔ اس ملک میں زندہ رہنے کا حق نہ سہی خاموش رہنے کا حق تو خوب ملتا ہے اور اگر خاموش رہنا حق ہے تو پھر ےہ حق دلوانے والے یعنی خاموش کروانے والوں کا کیا جرم؟

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.