.

امام کعبہ کی کامیاب سفارت کاری!

اسرار بخاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قلبی عقیدت سے سرشار جن کے روئیں روئیں سے والہانہ پن ٹپک رہا تھا جن کی آنکھوں میں محبت نمی بن کر جھلک رہی تھی روحانی کیفیات میں ڈوبے جذبوں کا سمندر تھا جو انسانوں کی شکل میں جامعہ اشرفیہ کی وسعتوں میں سما گیا تھا۔ لگتا تھا ٹائم مشین نے خاکہ کعبہ کی وجد آفریں فضا میں پہنچا دیا ہے توسنِ تخیل نے صحن کعبہ میں پہنچا دیا ہے تب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر خالد الغامدی نماز مغرب کی امامت فرما رہے تھے انکے خوبصورت انداز تلاوت سے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے قرآن سماعت کے راستے دلوں میں اتر رہا ہے مگر جامعہ اشرفیہ میں تو نماز ظہر تھی جس میں جہری تلاوت نہیں ہوتی لیکن اس خیال نے ہی ہر شخص پر سرشاری کی کیفیت طاری کر رکھی تھی کہ اسکی نماز کا امام وہ ہستی ہے جسے رب کائنات نے اپنے سب سے مقدس ترین گھر کی امامت کا منصب جلیل عطا کر رکھا ہے کیا بھلا کوئی شخص جو اس کا اہل نہ ہو اس کا مستحق ہو سکتا ہے۔

نہیں ہر گز نہیں یہ تو سوچنا بھی گستاخی کے سوا کچھ نہیں۔ ایک حج اور پانچ عمروں کے دوران اس عاجز کو سینئر امام الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس، شیخ ڈاکٹر سعود الشریم سمیت بشمول الشیخ ڈاکٹر خالد الغامدی تقریباً تمام آئمہ حضرات کی امامت میں نمازیں ادا کرنے کی سعادت ملی۔ شیخ السدیس کی امامت میں تو بادشاہی مسجد لاہور میں بھی نماز ادا کرنے کی سعادت ملی تب پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی تھے۔ شاہی قلعہ میں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جہاں شیخ سے قریبی ملاقات کا موقع ملا ایک روز قبل بحریہ ٹاؤن کی مسجد میں ڈاکٹر خالد الغامدی نے نماز جمعہ کی امامت کی۔ پاکستان کی اس سب سے بڑی مسجد کی وسعتیں سمٹ گئی تھیں۔ ہفتہ کے روز نماز مغرب میں بادشاہی مسجد نمازیوں کو پوری طرح اپنے دامن نہ سمیٹ سکی اسی روز فجر کی نماز منصورہ میں والہانہ جذبوں کے ساتھ ادا کی گئی۔

جامعہ اشرفیہ میں ممتاز سکالر ڈاکٹر الیاس نے جب عربی زبان میں کہا ’’اے ارض مقدس ہم تیری آواز پر لبیک کہتے ہیں تو فضا لبیک، لبیک کے وجد آفریں نعروں سے گونج اٹھی۔ امام کعبہ کے دورے میں سعودی نائب سفیر بدر العیتی، مکتب دعوۃ الارشاد کے ڈائریکٹر محمد بن سعد الاوسری اور قاری محمد حنیف جالندھری انکے ہمراہ رہے۔ جامعہ اشرفیہ پہنچنے پر مولانا فضل رحیم، مولانا اسعد عبید، مولانا ارشد عبید، حافظ اجود عبید، مولانا مجیب الرحمن انقلابی اور دیگر علماء نے پرجوش استقبال کیا۔ اس موقع پر سابق صدر رفیق تارڑ، جسٹس (ر) خلیل الرحمن، مفتی انیس الرحمن، مولانا اشرف علی تھانوی اور دیگر علماء سینئر صحافی بھی موجود تھے۔

امام کعبہ کے مختلف مقامات پر خطابات میں جو خاص بات اس عاجز نے محسوس کی وہ یہ کہ ایسے وقت جبکہ ان کا ملک حالت جنگ میں ہے انہوں نے محبت، امن اور امت مسلمہ میں اتحاد و بھائی چارہ کی بات کی۔ شاید یہ بعض کیلئے باعث حیرت ہو کہ جس ایران کے آرمی چیف علی رضا بوردستان نے چند روز قبل سعودی عرب پر حملے کی دھمکی دی جو حوثیوں کا پشتی بان ہے اس ایران کیلئے بھی خیرسگالی کے جذبات کا اظہار یوں کیا کہ ایران سمیت تمام امت مسلمہ کو اور مسلمانوں کو مسالک سے بلند تر ہو کر اسلام دشمنوں کی سازشوں کیخلاف متحد و منظم ہونے کی تلقین کی بلاشبہ یہ انکے عظیم منصب کا تقاضا ہے۔ خانہ کعبہ میں ہر روز ایرانی بھی انکی امامت میں نماز ادا کرتے ہیں مجھے ذاتی طور پر قلق سا رہا کہ ڈاکٹر خالد الغامدی کسی مسلک کی شناخت نہ رکھنے والی بحریہ ٹاؤن کی مسجد، جماعت اسلامی کے منصورہ، دیو بندیوں اور اہلحدیثوں کی مساجد میں تشریف لے گئے۔ انہیں کسی بریلوی مسلک کی مسجد میں بھی لے جایا جاتا، سنی تحریک کے لوگ تو متشددانہ رویہ رکھتے ہیں لیکن بھائیوں جیسے قاری زوار بہادر اور ادارہ صراط مستقیم کے ڈاکٹر اشرف جلالی، جامعہ نعیمیہ کے مولانا راغب نعیمی اعتدال کی شاہراہ کے مسافر ہیں۔ امام صاحب سے رابطہ کرتے تو یقیناً انہیں مایوسی نہ ہوتی۔

لاہور اور اسلام آباد میں ہزاروں بریلویوں نے بھی ان کی اقتداء میں نمازیں ادا کی ہیں بلکہ میں تو یہ گمان بھی رکھتا ہوں کہ اگر جامع المنتظر میں دعوت دی جاتی تو ضرور شرف قبولیت پاتی۔ آخر خانہ کعبہ میں بھی تو شیعہ انکے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں تاہم یہ ان کی آمد سے قبل اگر شیڈول کا حصہ بن سکتا، البتہ کچھ نعروں میں احتیاط برت لی جاتی حضرت امام شافعیؒ جب حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مزار پر حاضر ہوئے اور ملحقہ مسجد میں نماز ادا کی تو روایت ہے نہ آمین بالجہر کہی نہ رفع یدین کیا بعد میں شاگردوں نے پوچھا تو فرمایا ’’مجھے صاحب مزار سے حیا آئی کہ وہ اس کے قائل نہ تھے‘‘ کیا یہ رواداری صرف ان بزرگوں تک ہی محدود تھی یا بعد میں آنیوالے لوگوں کیلئے بھی اس میں کوئی سبق پوشیدہ ہے۔

یمن میں حوثیوں کی بغاوت اور سعودی عرب کے حوالے سے خبروں نے پاکستان میں عوامی سطح پر اضطراب کی لہر دوڑا دی تھی تاہم اس صورتحال میں رائے عامہ کو بیدار کرنے میں جماعۃ الدعوۃ کے حافظ سعید نے بہت فعال کردار ادا کیا۔ تحفظ حرمین شریفین کانفرنسوں اور ان کے طوفانی دوروں نے امام کعبہ کی آمد سے قبل ہی ایک مثبت ذہنی فضا پیدا کر دی تھی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.