.

صدرِ پاکستان ممنون حسین کا دورۂ ترکی…

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صدر ِ مملکت ممنون حسین نے فتح ِ چناق قلعے کی صد سالہ سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی غرض سے ترک صدر رجب طیب ایردوان کی دعوت پر ترکی کا چار روزہ دورہ کیا۔ صدرِ پاکستان کےدورۂ ترکی پر روشنی ڈالنے سے قبل فتحِ چناق قلعے اور اس فتح کے ترکی کی تاریخ پرپڑنے والے اثرات کا مختصر سا جائزہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ چناق قلعے جسے انٹیک دور میں ٹرائے (Troy) اور پھر Dardanells کے نام سے یاد کیا جاتا تھا کا ایک حصہ جزیرہ نما گیلی پولی(جو یونانی لفظ Kallipolis سے مستعار لیا گیا ہے کے معنی خوبصورت شہر کے ہیں ) دراصل صوبۂ چناق قلعے کی ایک ڈسٹرکٹ ہے ۔ یہ جزیرہ نما ترکی کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور یہاں پر سے گزرنے والی آبنائے چناق قلعے (DardanllesStriat) دردانیال (جسے غلطی سے درۂ دانیال بھی لکھا جاتا رہا ہے ) بحیرہایجین کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے ۔ آبنائےچناق قلعے کی طوالت 40 میل اور وسعت ایک میل سے چار میل تک ہے۔

آبنائے چناق قلعے ایشیا کو یورپ سے الگ کرتی ہے۔ اس ا ٓبنائے کو ترکوں نے چودہویں صدی میں اپنی سر زمین میں شامل کرلیا تھا ۔ روس نے بحیرہ روم تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ ہی اس آبنا پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی اور 1833ء میں مصر میں محمد علی پاشا کی بغاوت کوکچلنے میں سلطنتِ عثمانیہ کا ساتھ دے کر اس نے سلطنت عثمانیہ سے کافی حد تک مراعات حاصل کرلیں جو یورپی ممالک کو ناگوار گزریں جس پر یورپی ممالک نے 1840ء میں لندن کنونشن میں سلطنتِ عثمانیہ پر دبائو ڈال کر ان مراعات کو منسوخ کروالیا اور 1914ء تک اس پر عمل درآمد جاری رہا ۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اتحادی( Allied) قوتوں( برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزیلینڈآئریش، فرنچ، کینڈین اور ہندوستانی ) اور محوری (Axes ) قوتوں (ترکی، جرمنی، بلغاریہ، آسٹریا اور ہنگری ) پر حملوں اور گیلی پولی کے ساحل کو یونان کے حوالے کرنے سے جنگ کا مرکز ترکی بن کر رہ گیا۔مملکت کے دفاع کے لئے کرنل مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں ایک ایسی جنگ لڑی گئی جس کی دنیا بھر میں کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔

کمال اتاترک نے اپنی ڈویژن کے فوجیوں کو محاذ پر مخاطب کرتے ہوئے یہ تاریخی جملے ادا کیے تھے ” میں تمہیں دشمن سے لڑنے کا نہیں بلکہ ملک کی خاطر مرنے ( شہید ہونے)کا حکم دے رہا ہوں” ۔ اتاترک کے اس حکم نے ترکوں کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ اسی جنگ سے اتاترک کی بہادری کی داستانیں دنیا بھر میں مشہور ہوئیں اور پھر اسی جنگ کے نتیجے میں اتاترک کے کمانڈر انچیف بننے کی بھی راہ ہموار ہ ہوئی۔ کئی ہفتے جاری رہنے والی اس جنگ میں اتحادی قوتوں کے ایک لاکھ سے زائد فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ترک شہدا کی تعداد بھی ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ اتحادی فوجوں نے اوپر تلے کئی محاذکھول دیے لیکن مصطفیٰ کمال اتاترک کی حکمتِ عملی نے اتحادیوں کے منصوبوں کو خاک میں ملادیا اور یوں ترکوں کو گیلی پولی یا چناق قلعے کی جنگ میں ایسی فتح نصیب ہوئی جس کی دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔

فتح چناق قلعہ کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر ترک صدر نے صدرِ پاکستان ممنون حسین اور دیگر 90 عالمی رہنماؤں کو اس خوشی کے موقع پر مدعو کیا۔ صدر ِپاکستان ممنون حسین کے یہ الفاظ : ” ترکوں کی خوشیاں ہماری خوشیاں ہیں‘‘ دراصل پوری پاکستانی قوم کی ترجمانی کر رہے تھے۔

صدر پاکستان کی ترکی آمد پر راقم نے صدر کا انٹرویو لینے کے لئے پاکستان کے پریس اتاشی عبدل اکبر اور سفیر پاکستان سہیل محمود سے ذاتی طور پردرخواست کی تھی جس کا انہوں نے مثبت جواب دیتے ہوئے اس انٹرویو کی راہ کو ہموار کیا اور صدر کے میڈیا ایڈوائزر فاروق عادل سے ملاقات بھی کروائی جن کے ساتھ ترکی کی صورت حال سے متعلق طویل نشست بھی ہوئی۔ یہ میری صدر پاکستان جناب ممنون حسین سے دوسری ملاقات تھی ۔ اس سے قبل میں حکومت ِ ترکی کی جانب سے وزیراعظم رجب طیب ایردوان (جو اس وقت وزیراعظم تھے) کے دورۂ پاکستان کے موقع پر مترجم کے فرائض ادا کر چکا تھا۔ لیکن اس بار صدرِ پاکستان سے مترجم کے طور پر نہیں بلکہ براڈکاسٹر کی حیثیت سےانٹرویو لینے کے غرض سے ملاقات کر رہا تھا۔ صدر ممنون حسین نے اس موقع پر مجھے یہ بتا کر ورطہ حیرت میں مبتلا کردیا کہ وہ میرے روزنامہ جنگ میں ہر ہفتے ترکی سے متعلق شائع ہونے والے کالم باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔

صدر پاکستان سے جب میں نے ان کے دورۂ ترکی سے متعلق سوال کیا تو انہوں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ترکی ہمارا برادر ملک ہے اور ترکی اور پاکستان کے تعلقات دنیا کے لئے ایک مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں معرکہ ہائے چناق قلعے میں ترکی کی شاندار فتح کی صدسالہ تقریب میں حصہ لینے اور اپنے برادرملک کی خوشیوں میں شریک ہونے کی غرض سے آیا ہوں ‘‘۔ صدر پاکستان نے فرمایا کہ ’’تقسیمِ ہند سے قبل چناق قلعے کی جنگ میں ہندوستان کی مسلمان خواتین نے اپنے زیورات تک اتار کر ترکی کو روانہ کردیے تھے جبکہ ہندوستان کے مسلمان مردوں نے بڑی تعداد میں اس جنگ میں ترکوں کے شانہ بشانہ حصہ لیا تھا۔ اس طرح ہندوستان کے مسلمان براہ راست ترکوں کی اس جنگ میں شریک تھے ۔

اُس وقت تحریکِ خلافت کے خالق مولانا شوکت علی جوہر اور مولانا محمد علی جوہر نے پورے ہندوستان میں ترکی کی حمایت میں مہم چلائی تھی اور انگریزوں کو مشکل میں ڈال دیا تھا” ۔ صدر مملکت نے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر کی والدہ ’’بی اماں ‘‘کے ایک نعرے کے بارے میں آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ’’بولی اماں محمد علی کی۔ جان بیٹا خلافت کو دے دو‘‘ صدر پاکستان نے فرمایا کہ بی اماں کے یہ الفاظ دراصل پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہے تھے۔ صدرِ پاکستان نے ترکی اور پاکستان کے تجارتی حجم کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ “دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان بڑے گہرے تعلقات موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے یہ تعلقات ابھی تک تجارتی حجم کو بڑھانے کے لحاظ سے اس سطح پر نہیں پہنچ سکے ہیں جہاں پر ان تعلقات کو پہنچنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ” تجارتی حجم کو بڑھانے کے لئے ترکی اور پاکستان کی حکومتیں اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم جلد ہی اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کی ٹریڈ انڈسٹری سے متعلق افراد کو دونوں ممالک کے دورے کروائے جائیں۔

جوائنٹ وینچر سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے میں بڑی مدد ملے گی۔ پاکستان میں ترک سرمایہ کار انرجی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں ۔ پاکستان ان کو اس سلسلے میں ہر ممکنہ سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان اور ترکی دونوں ہی سعودی عرب کا مکمل ساتھ دے رہے ہیں اور دونوں ممالک اس مسئلے کو مذاکرات اور پُرامن طریقے سے حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘‘۔ تاہم’’تنظیم اسلامی کانفرنس کو بھی اس سلسلے میں آگے بڑھنا چاہئے اور اپنا کردارا ادا کرنا چاہئے‘‘۔
انہوں نے بعد میں چناق قلعے میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب میں 21 ممالک کے صدور، 3 ممالک کی اسمبلی کے اسپیکرز، 3 نائب صدور، 5 وزرائے اعظم ، 29 وزراء کل 90 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔صدرِ پاکستان نے مختلف ممالک کے سربراہان سے دو طرفہ مذاکرات بھی کیے۔ بعد میں صدرِ پاکستان نے ترکی کے صدر رجب سے ملاقات میں پاکستان اور ترکی کی باہمی اقتصادی اورتجارتی شراکت داری کووسعت دینے پراتفاق کیا ۔

اور اس کےلئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ اس ملاقات میں ترکی صدر نے صدرِ پاکستان کو یقین دلایا کہ جلد ہی ترک کمپنیاں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے ، تعمیرات اور ڈیموں کی تعمیر کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کریں گی نیز داسو ڈیم منصوبے میں بھی ترک کمپنیاں بڑی گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ دونوں صدور نے علاقائی اور بین الاقوامی امور خصوصاً مشرق وسطی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.