.

حرمین شریفین کی پاسبانی کیوں ضروری ہے ؟

رانا عبد الباقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کور کمانڈرز کانفرنس میں دو اہم مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے زور دیکر کہا کہ پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے انتہا پسندی کے رجحان کو ختم کرنا ضروری ہے جبکہ یمن کی جنگ کے بارے میں اُنہوں نے درست تجزیہ کیا کہ اگر یمن کا جھگڑا جاری رہا تو خطے کی سیکیورٹی پر اِس کے سنجیدہ اثرات ثبت ہو سکتے ہیں ۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف نے ترکی کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے ترک صدر ایران تشریف لے گئے اور پھر اِسی نسبت سے ایران کے وزیرِ خارجہ پاکستان تشریف لائے ۔ درحقیقت یہ تمام سفارتی سرگرمیاں یمن میں بیرونی ذرائع سے حوثی قبائل کی شورش کو جدید ہتھیاروں سے مسلح کرنے کے پس منظر میں کی گئی ہیں جسے زیر بحث لاتے ہوئے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ایک متفقہ قرارداد میں یمن میں منصور ہادی کی آئینی حکومت کے خلاف برسرپیکار حوثی قبائل اور سابق صدر عبداللہ صالح گروپ کو ہتھیار سپلائی کرنے پر پابندی عائدکی گئی ہے ۔ مقتدر بین الاقوامی میڈیا کیمطابق حوثی قبائل کو جدید اسلحہ کی فراہمی اور تربیت دینے میں ایرانی ذرائع پیش پیش ہیں جبکہ سعودی عرب یمن میں جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر مسلح حوثی باغیوں کی جانب سے یمن کے دارلحکومت صنعا کے صدارتی محل پر قبضے کے بعد سعودی سرحدوں کے قرب میں پیش قدمی کو خطے اور سعودی عرب کی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔یمن میں جاری چومکھی لڑائی خود یمن کی سلامتی اور یکجہتی کیلئے بڑا خطرہ ہے ۔

بہرحال یمن کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور سعودی عرب کے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کیلئے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے متفقہ قرارداد کی منظوری سے سعودی اتحاد کی یمن میں دفاعی و قانونی حیثیت ضرور مسلمہ ہو گئی ہے۔ سعودی مذہبی و سیاسی دانشور بحرین اور عراق میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرو رسوخ کی روشنی میں یمن میں زیدی فکر سے متعلق حوثی مسلح بغاوت کو سعودی عرب اور خطے کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔ اگر سعودی عرب ایران تعلقات کے حوالے سے تاریخ کے جھروکوں سے دیکھا جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب ایران تعلقات دوسری جنگ عظیم سے قبل اور بعد میں بھی کسی حد تک اُترائو چڑھائو کا شکار رہے ہیں ۔ مغربی طاقتوں کیلئے تیل کی دولت سے مالا مال یہ دونوں ہی ملک اہمیت کے حامل رہے ہیں گو کہ 1929ء میں دونوں ملکوں نے دوستی کے معاہدے کے تحت خطے میں ایک دوسرے کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا لیکن دوسری جنگ عظیم کے موقع پر خلیج کی ریاست بحرین پر دعوے کو مستحکم کرنے کیلئے ایران نے لیگ آف نیشن میں بھی درخواست دائر کی تھی، چنانچہ ایران سعودی تعلقات میں قدرے کشیدگی کی فضا برقرار رہی لیکن لیگ آف نیشن کی جگہ اقوام متحدہ کے نئے چارٹر کے جنم لینے پر یہ قضّیہ پس پشت چلا گیا ۔

بالآخر 1961ء میں سیاسی و سفارتی کوششوں سے سعودی عرب اور بحرین کے مابین تیل کی دولت میں شراکت کے حوالے سے اسٹریٹیجک معاہدے پر دستخط ہوگئے ۔ دریں اثنا ، 1979ء میں ایران میں امام خمینی کے اسلامی انقلاب کے ظہور پزیر ہونے پر اسّی کی دہائی میں مکہ و مدینہ میں حرمین شریفین کی حدود میں ایرانی حجاج کی جانب سے سیاسی نعرے لگانے اور احتجاجی جلوس نکالنے پر جنہیں سعودی حکومت نے سختی سے کچل دیا تھا سعودی ایرانی تعلقات میں کافی کشیدگی دیکھنے میں آئی ۔ سعودی مذہبی دانشوروں کا خیال تھا کہ ایران امام خمینی کے شیعہ اسلامی انقلاب کو ہمسایہ ملکوں میں پھیلانا چاہتاہے جس کے نتیجے میں ہمسایہ مسلم ممالک سیاسی خلفشار کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ سعودی ایرانی فقیہی اختلافات بڑھے تو پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ امن و امان میں شدت پسندی کا عنصر داخل ہوا جس نے وقت گزرنے کیساتھ ساتھ فرقہ وارانہ دہشت گردی کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ بہرحال ، ایران سعودی تعلقات میں تو چند برسوں کی سفارتی کوششوں سے بہتری کی فضا قائم ہو گئی تھی۔

البتہ ، نوے کی دہائی میں کویت پر عراقی صدر صدام حسین کی بے حکمت مسلح یلغار کے بعد جب امریکہ و برطانیہ نے عراق میں تیل کے مغربی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے فوجی مداخلت کی تو اِس کے نتیجے میں عراق میں عرب کلچر کی جگہ ایرانی اثر و رسوخ کو پزیرائی ملی۔ البتہ عراق سے مغربی افواج کی واپسی پر سنی شدت پسندوں نے بھی انتہا پسند داعش تنظیم کے نام پر مسلح دہشت پسندوں کا روپ دھار لیا۔ چنانچہ عراق و شام میں داعش انتہا پسندی کے جنم لینے کے بعد اب یمن میں مبینہ طور پر ایرانی حساس ہتھیاروں اور موثر تربیت سے لیس حوثی باغیوں کی جانب سے یمن کی آئینی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوششیں کوخطے کی سیکیورٹی بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی کیلئے ایک نئے خطرے سے تعبیر کیا جا رہا ہے جس کیلئے سعودی عرب پاکستانی افواج کی مدد کا طالب ہے ۔

اِس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جب مسلم امّہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو فقیہی اختلافات کے باوجود اِس سے مراد دین اسلام میں داخل تمام فرقوں سے لی جاتی ہے جن میں بالخصوص اہل سنت اور اہل تشیع شامل ہیں ۔ گو کہ اسلام کے قرونِ اولیٰ کے دور کے بعد ہی اسلامی معاشرے میں شیعہ سنی تفریق محسوس کی جاتی رہی ہے لیکن فقیہی اختلافات کے باوجود قرون وسطیٰ اور جدید دور میں بھی مسلم ممالک میں مسلمان فرقوں کے مابین باہمی سماجی میل جول، کاروبار اورشادیوں کے مثبت پہلوئوں کے باعث مسلم امّہ میں معاشرتی توازن بدستور قائم رہا چنانچہ حرمین شریفین کی حرمت کی پاسبانی کیلئے دین اسلام میں شامل تمام فرقے ہمیشہ ہی اسلامی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیںاور جب بھی کسی طالع آزما طاقت کی جانب سے اسلامی سرزمین کو اگر خدشہ لاحق ہواتو دین اسلام کی یہی یکجہتی حرمین شریفین کی پاسبانی کیلئے متحرک رہی ہے۔حقیقت یہی ہے کہِ سعودی عرب کے فرمانروا جنہیں حرمین شریفین کا کسٹوڈین ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ،دورِ جدید میں مسلم امّہ کی نگاہ کا مرکز ہیں چنانچہ سعودی سرزمین کی سلامتی کو اگر کوئی خطرہ لاحق ہو تو یہ پاکستان ہی نہیں بلکہ تمام مکاتبِ فکر سے جُڑی مسلم امّہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِس عظیم اسلامی ورثہ کی سرزمین کی پاسبانی کرے۔

درحقیقت اسلامی ثقافت کی یکجہتی کی لڑی میں پروئے تمام ہی مسلمان بالخصوص سنی وشیعہ ، فقیہی اختلافات کے باوجود اسلامی ملکوں میں صدیوں سے پُرامن زندگی گزارتے آئے ہیں۔یہ بھی درست ہے کہ اسّی کی دہائی کے اوائل میں ایران میں امام خمینی کے اسلامی انقلاب کے اقتدار میں آنے کے بعد اُس وقت فقیہی اختلافات میں شدت پسندی کا عنصر داخل ہوا تھا جب ایرانی حجاج کی بے حکمتی کے سبب حج کے متبرک موقع پر سیاسی نعرے بازی کے ذریعے حرمین شریفین میں سعودی حکومت کی کسٹوڈین کی حیثیت اور اقتدار اعلیٰ کو چیلنج کیا گیا۔

اِسی بے حکمتی کے باعث سعودی عرب ایران تعلقات میں اسّی کی دہائی میں وسیع تر خلیج پیدا ہوئی تھی جس پر سفارتی ذرائع سے چند برسوں میں ہی قابو پا لیا گیا تھا لیکن یمن میں حوثی زیدی قبائل کی مبینہ تربیت اور ایرانی اسلحہ کی سپلائی سے حالات ایک مرتبہ پھر پریشان کن صورتحال اختیار کر گئے ہیں۔ پاکستان خطے میں ایٹمی صلاحیت سے مالا مال ایک اہم اسلامی طاقت ہے چنانچہ موجودہ صورتحال میں غیر جانبدار فکر اختیار کرنے کے بجائے ہمارے اربابِ اختیار کو غور و فکر کے دھاروں کو کھولتے ہوئے مسلم امّہ کو درپیش مسائل پر قابو پانے کیلئے جدوجہد سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے کیونکہ فقیہی خلیج کے نام پر اسلامی دنیا میں ممکنہ خلفشار کا تمام تر فائدہ اُٹھانے کیلئے اسرائیل اور بھارت کے ناپاک عزائم روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ پاکستانی عوام بہرحال سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خدشات کے پیش نظر حرمین شریفین کی پاسبانی کیلئے سعودی مملکت کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں

۔----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.