.

’’بھارت سے تجارت یا عِشق؟‘‘

اثر چوہان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

29 اپریل کو ’’ بھارت سے تجارت میں پاکستان کو مسلسل خسارہ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ ’’ نوائے وقت ‘‘ کے ایڈیٹوریل نوٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی ) کی پاکستان مخالف پالیسیوں کے باعث 9 ماہ کے دَوران بھارت سے تجارت میں 24 کروڑ ڈالر سے زائد کمی آئی اور پاکستان کا خسارہ 81 کروڑ 82 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا‘‘۔ ایڈیٹوریل نوٹ میں یہ بھی لِکھا ہے کہ ’’بھارت کے ساتھ تجارت کا بُھوت ہمارے حکمرانوں کے سروں پر عرصۂ دراز سے سوار ہے جِسے اب بی جے پی کے انتہا پسند حکمران آہستہ آہستہ اُتار رہے ہیں‘‘۔ بُری یا خبِیث رُوح کو ’’بُھوت‘‘ کہا جاتا ہے۔ استاد مسرؔور شاعر تھے۔ تاجر یا سیاستدان نہیں تھے جب اُن کے سر پر عشق کا بُھوت سوار ہوا تو انہوں نے فریقِ دوم سے مخاطب ہو کر کہا؎

’’ اے پری دَش، ترا غُصّہ ہے بلا
سر سے یہ بُھوت، اُترتا ہی نہیں‘‘

25 مئی 2014ء کو ایوانِ کارکُنانِ تحریک پاکستان لاہور میں، نظریۂ پاکستان فورمز کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطبے میں مجاہدِ تحریکِ پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی (مرحوم) نے کہا تھا کہ ’’ہمیں اپنے اندر وطنِ عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی نگہبانی کے جذبات پیدا کرنا ہوں گے بلکہ اپنی صفوں میں موجود اُن ’’بھارتی شردھالوئوں‘‘ پر بھی کڑی نظر رکھنا ہوگی جو مسئلہ کشمیر کو پسِ پُشت ڈال کر ہمارے ازلی دشمن بھارت سے ’’دوستی اور تجارت کا راگ‘‘ الاپ رہے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کے صدارتی خطبے پر ’’نوائے وقت ‘‘ ’’بھارتی شردھالُوئوں‘‘ کا ’’راگ بیوپار‘‘ کے عنوان سے میرا کالم 27 مئی2014ء کو شائع ہوا تھا ۔ ہندی زبان کے لفظ ’’شردھالُو‘‘ کا مطلب ہے عقیدت مند، مُرید مطیع اور فرماں بردار۔
مرزا غالب نے کہا تھا؎

’’ مَیں کُوچۂ رقِیب میں بھی سَر کے بل گیا‘‘

26 مئی 2014ء کو ہمارے کشمیری وزیراعظم میاں نواز شریف شری نریندر مودی کی وزارتِ عظمیٰ کی حلفِ وفاداری کی تقریب میں شرکت کے لئے دِلّی تشریف لے گئے تھے ۔ موصوف نے معراجِ رسولؐ کی شب، قائداعظم کے پاکستان کے بجائے، دِلّی میں گُزاری۔ اُن کی وزیراعظم مودی سے 50 منٹ ’’ وَن ٹووَن‘‘ ملاقات بھی ہوئی۔ اگلے روز بین الاقوامی میڈیا پر خبر آئی کہ ’’بھارتی وزیراعظم شری مودی نے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو "Man of the Peace" ( مردِ امن) کا خطاب دے دِیا تو پاکستان کے مُحِبّ وطن حلقوں کو حیرانی ہوئی۔ اس بات پر کہ ’’کیا بھارت کے مُتعصّب اور بھارتی مسلمانوں کے قاتل وزیراعظم شری مودی کو عِلم تھا کہ وزیراعظم پاکستان مسئلہ کشمیر کو ’’ کُھو کھاتے‘‘ ڈال کر وقت بے وقت ’’راگ تجارت‘‘ الاپنے کا پُختہ ارادہ کئے ہُوئے ہیں؟ لیکن بھارتی حکمرانوں سے ہمارے وزیراعظم کی توقعات پُوری نہیں ہُوئیں ۔ شاعر نے کہا تھا؎

’’ تم رکھ نہ سکے اپنی وفائوں کا بھرم بھی
تُم نے میرا اُمّیِد سے کم ساتھ دِیا ہے‘‘

کل (29 اپریل کو ) وزیراعظم نواز شریف کا انٹرویو میڈیا کی زینت بنا۔ جنابِ وزیراعظم کہتے ہیں ’’ہم جموں و کشمیر سمیت تمام وسائل کے حل کے لئے، بھارت سے تعمیری بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن بھارت نے یک طرفہ طور پر مذاکراتی عمل کو روک دِیا ہے اور اب اُس سے مذاکرات کی بحالی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ‘‘۔ اور کریں راگ تجارت کا الاپ! 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات میں وفاق اور (پاکستان کے سب سے بڑے صوبے) پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو ’’بھاری مینڈیٹ‘‘ مِلنے کے بعد میاں نواز شریف کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ’’عوام نے مسلم لیگ (ن) کو بھارت سے دوستی اور تجارت کے لئے ووٹ دئیے ہیں‘‘۔ 23 جون 2013کو وزیراعظم نواز شریف کے دفتر میں ’’پاک انڈیا جائنٹ بزنس کونسل‘‘ کے اجلاس میں بھارتی وفد میں چند پنجابی کاروباری شخصیات بھی شامِل تھیں، ایک بھارتی پنجابی بزنس مین نے صُوفی شاعر حضرت میاں محمد بخش کا ایک مِصرع غلط پڑھا تو وزیراعظم نواز شریف نے اُس کی تصحیح کر دی…

’’ ٹُٹّے دِل کدی نہیں ملدے‘‘
بھاویں گُھٹّ گُھٹّ جَپھّیاں پائیے‘‘

یعنی ’’جب رنجش یا کسی اور وجہ سے دو انسانوں کے دِل ٹوٹ جائیں تو وہ نہیں جُڑ سکتے خواہ وہ کتنی ہی گرم جوشی سے ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے رہیں‘‘۔ بھارتی کاروباری پنجابی شخصیت نے ہمارے کاروباری وزیراعظم پر حضرت میاں محمد بخش کا مصرع غلط پڑھ کر واضح کردِیا تھا کہ ’’پاکستان اور بھارت میں تجارت تو بڑھ سکتی ہے اور خواہ دونوں ملکوں کے تاجر کتنی ہی ’’ گُھٹ گُھٹ جپھّیاں‘‘ ڈالتے رہیں لیکن 1947ء میں پیدا ہونے والی دِلوں کی دراڑ ختم نہیں ہو سکتی!!

وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف بھی کشمیری ہیں۔ 24 اکتوبر 2013ء کو خواجہ صاحب کا حُبّ الوطنی کی عکاسی کرتا ہُوا بیان میڈیا کی زینت بنا جِس میں کہا گیا تھا کہ ’’بھارت نے ہمارے دریائوں پر 62 چھوٹے ڈیم بنا کر ہمارے پانی کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے لیکن ہم کسی کو اپنے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے‘‘۔ خواجہ محمد آصف کے پاس وزارتِ دفاع کا اضافی چارج بھی ہے۔ بھارت کو لگائی گئی اُن کی ’’تڑی‘‘ کو ایک سال اور 6 ماہ ہوگئے ہیں لیکن خواجہ صاحب نے ابھی تک پاکستان کے پانی کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے ’’ڈاکو مہاراج‘‘ کا کیا بگاڑ لِیا؟ 4 سال قبل برطانیہ کے سائنسی جریدے "The Nature" میں ایک مضمون شائع ہُوا تھا جِس میں کہا گیا تھا کہ ’’اگر بھارت نے پاکستان کے حِصّے میں آنے والے دریائوں سندھ، چناب اور جہلم پر ڈَیموں کی تعمیر جاری رکھی تو 2020ء تک پاکستان ریگستان بن جائے گا‘‘۔

ڈاکٹر مجید نظامی ہر دَور کے حکمرانوں کو یاد دِلاتے رہے ہیں کہ ’’قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور اِس شہ رگ کو بھارت کے پنجے سے چھڑانا ہو گا‘‘۔ کل (29 اپریل کو) ’’نوائے وقت‘‘ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ’’کشمیر ہائوس اسلام آباد میں مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور وہاں (ہندو) پنڈتوں کی آباد کاری کے حوالے سے گول میز کانفرنس منعقد ہوئی لیکن بیک وقت سابق صدر زرداری اور وزیراعظم نواز شریف کے اتحادی (وفاقی وزیر کے برابر مراعات کے حامل) چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرنا مناسب نہیں سمجھا‘‘۔

دراصل ’’کشمیر‘‘ مولانا فضل الرحمن کا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔ اِس لئے کہ اُن کی اولین ترجیح تو پورے لائو لشکر کے ساتھ ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کی تقریبات میں شرکت ہے… پاکستان، بھارت سے تجارت کرے یا نہ کرے؟ یہ بھی مولانا صاحب کا مسئلہ نہیں۔ کہانی کے مطابق بلخ، بخارا کا شہزادہ عزّت بیگ (جو بعد میں مہینوال کے نام سے مشہُور ہوا)، گجرات کی سوہنی کمہارن کے عِشق میں مُبتلا ہوگیا تو وہ ہر روز، اُس کے دیدار کے لئے ، اُس کے کمہار باپ کی دُکان سے مہنگے داموں مٹی کے برتن خرید کر سستے داموں فروخت کر دیا کرتا تھا (اور بقول مِیر تقی مِیر) اِس عاشقی میں وہ اپنی ’’عِزّتِ سادات‘‘ بھی گنوا بیٹھا ۔ ہمارے خُوبرو کشمیری وزیراعظم کو بھارت سے تجارت یا عِشق میں کیا مِلے گا؟ وہ خود جانتے ہوں گے ۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.