.

China’s Leap Forward

جی این مغل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاف کیجئے گا میں نے اس کالم کا عنوان انگریزی میں لکھا ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزی لفظ leap کے معنی چھلانگ ہوتے ہیں‘ میں نے اس کا عنوان ’’چین کی چھلانگ‘‘ لکھنے سے اس وجہ سے پرہیز کیا کہ یہ لفظ چھلانگ کسی حد تک تقدس سے عاری ہے‘ میرا شمار ان پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو چین کا بہت احترام کرتے ہیں کیونکہ چین نے شروع سے ہی ایک اچھے دوست کا ناطہ نبھایا ہے‘ مجھے اس وقت اس بات کا خیال آیا کہ چین نہ فقط اس ریجن میں مگر شاید دنیا کے ایک وسیع علاقے میں ایک ہزار سال کی چھلانگ لگا رہا ہے،میرے ذہن میں یہ خیال اس وقت پیدا ہوا جب پاکستان، چین اقتصادی راہداری پر حال ہی میں چین کے صدر اور پاکستان کے وزیر اعظم نے دستخط کئے ،مگر مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی تھی کہ چین اور پاکستان کے سربراہوں کی طرف سے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے باوجود ایسا محسوس ہوا کہ نہ فقط پاکستان مگر چین کی طرف سے اس وسیع معاہدے کے سارے خطوط ظاہر نہیں کیے جا رہے ہیں، مگر شاید اس معاہدے کے کچھ اہم پہلوئوں کی پردہ داری کی جارہی ہے حالانکہ ان اندیشوں پر مکمل اعتبار نہیں کیونکہ پاکستان میں چین کے بارے میں انتہائی مثبت رائے ہے اور چین کے بارے میں اس قسم کے اندیشے نہیں ہیں کہ وہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کی ڈپلومیسی پر یقین رکھتا ہے، اس کے برعکس پاکستان بھر میں اور خاص طور پر ملک کے چھوٹے صوبوں میں اس معاہدے کے حوالے سے موجودہ حکومت کے کردار کے بارے میں کافی تحفظات پائے جاتے ہیں.

اس قسم کے تحفظات کاکے پی کے حکومت، بلوچستان حکومت اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کی طرف سے علی الااعلان اظہار کیا گیا ہے‘ ان وجوہات کی بنا پر میں اس جستجو میں لگ گیا کہ مختلف ذرائع سے اس معاہدے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تفصیلات جمع کروں، ان کوششوں کا اتنا نتیجہ ضرور نکلا ہے کہ کچھ بیک گرائونڈ حقائق ہاتھ لگے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب بھی کافی حقائق سامنے آنے ہیں، بہرحال جتنی بھی تفصیلات ہاتھ لگی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ کوئی ایسا ویسا معاہدہ نہیں ہے، اس سلسلے میں پاکستان کے اصل عزائم کیا ہیں؟ کیا ان عزائم کا دائرہ سارے ملک کے لئے ہے یا فقط ایک خاص صوبے تک محدود ہے، بہرحال چین کے حوالے سے یہ محسوس ہوا کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوا تو چین اس ریجن بلکہ دنیا کے ایک وسیع حصے میں کم سے کم ایک ہزار سال کی چھلانگ لگائے گا، یہ اچھی بات ہے، اصولی طور پر پاکستان کے عوام کو اس کو خوش آمدید کہنا چاہئے کیونکہ ایک تو چین ایک قابل اعتماد دوست ہے، وہ اگر پاکستان کی اقتصادی ترقی اور اس کی دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے مدد کرتا ہے تو اس میں کوئی دھوکہ نہیں ہوگا.

اس میں کوئی شک نہیں کہ جو مثبت حقائق اس معاہدے کے حوالے سے سامنے آئے ہیں ان کے مدنظر دنیا جو اس وقت ایک سپر پاور کے شکنجے میں ہے شاید اس سے باہر آسکے، مگر ساتھ ہی یہ اندیشے بھی پیدا ہوتے ہیں کہ کیا امریکہ اس معاہدے کو کامیاب ہونے دے گا، ان ساری باتوں کے باوجود اس معاہدے کے حوالے سے جو بھی حقائق اب تک کچھ محدود حلقوں میں ظاہر ہوئے ہیں، ان کا گہرائی سے جائزہ لینے سے کچھ اندیشے بھی جنم لیتے ہیں، لہٰذا بہت ضروری ہے کہ نواز شریف حکومت سارے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا اجلاس طلب کریں اور اس اجلاس میں اس معاہدے کے جو بھی ظاہری یا خفیہ (اگر ہیں) حقائق ہیں وہ پیش کریں اور اس سلسلے میں اس معاہدے کی اس بین الصوبائی اجلاس سے منظوری لیں، میں ویسے بھی کافی عرصے سے اس بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ پاکستان کے چھوٹے صوبوں سے گزشتہ 63 سال سے جو سوتیلی ماں کا رویہ اختیار کیا گیا ہے وہ اب ختم ہونا چاہئے اور پاکستان کو ایک حقیقی وفاق کے طور پر چلایا جائے، اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ اول سی سی آئی کا دائرہ بڑھایا جائے اور دوئم کچھ اہم وفاقی وزارتوں کے خصوصی بورڈ بنائے جائیں جن کے چیئرمین وزیراعظم ہوں اور ان کے ممبران میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ہونے چاہئیں، ان وفاقی وزارتوں میں خاص طور پر وزارت خارجہ، دفاع اور وزارت خزانہ ضرور ہونی چاہئیں،یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ اس پاک، چین معاہدے کے مختلف پہلوئوں پر اب تک کے پی کے اور بلوچستان نے اعتراض کیے ہیں جبکہ سندھ نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے‘ ہوسکتا ہے کہ اس کا سبب یہ ہو کہ واقعی اس معاہدے میں سندھ کے حوالے سے کوئی منفی شقیں نہیں ہیں اگر ایسا ہے تو یہ اچھی بات ہے، اگر یہ درست بات ہے تو سندھ کے عوام نواز شریف حکومت اور سندھ حکومت کو ضرور شاباش دیں گے مگر سندھ کے کئی عوامی حلقوں میں یہ اندیشے جنم لے رہے ہیں کہ شاید سندھ کی حکمران پارٹی کے اصل تے وڈے سربراہ کچھ ایسے پھندوں میں پھنس چکے ہیں کہ نہ وہ اصل حکمرانوں کو ناراض کرسکتے ہیں، نہ نواز شریف کی ٹیم کو ناراض کرسکتے ہیں اور نہ سندھ کے سارے اینکر پرسن کے انتہائی قابل احترام بھائی کو کسی طور پر ناراض کرنے کا سوچ بھی سکتے ہیں.

ان وجوہات کی بنا پر سندھ کے لوگ دن رات مذکورہ پاک چین معاہدے کے سارے پہلوئوں تک رسائی کی کوشش کررہے ہیں، سندھ کے لوگ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ اس معاہدے کے تحت بلوچستان کی بندرگاہ گوادر کو ترقی دیکر ایک اہم بحری مرکز کی حیثیت دی جائے گی جہاں سے چین اور پاکستان جہاز رانی کے ذریعے مڈل ایسٹ، یورپ اور حتیٰ کہ مشرق بعید سے رابطہ کرسکیں گے، مگر اس کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ بحری بندرگاہیں متعلقہ صوبوں کے حوالے کی جائیں، پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس سلسلے میں ایک مثبت قدم ضرور اٹھایا تھا جب ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے گوادر بندرگاہ بلوچستان حکومت کے حوالے کی گئی تھی مگر ایک نوٹیفکیشن کی کیا حیثیت ہے، اس فیصلے کی اہمیت تب ہوگی جب آئین میں ترمیم کرکے بشمول گوادر بندرگاہ کے ملک کی ساری بندر گاہیں متعلقہ صوبوں کے حوالے کی جائیں، یہاں مجھے ایک اہم رائٹ اپ بھی یاد آرہا ہے جو دو تین ماہ پہلے چین کے ایک ممتاز جنگی ماہر نے چین کے ایک ممتاز اخبار میں شائع کیا تھا‘ اس رائٹ اپ میں چین کے اس ممتاز جنگی ماہر نے پیش گوئی کی تھی کہ جلد دنیا میں تیسری عالمی جنگ شروع ہوسکتی ہے، اس سلسلے میں انہوں نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ یہ عالمی جنگ زیادہ تر سمندر میں لڑی جائے گی اور یہ بھی کہا کہ اس کا نشانہ چین ہوگا.

کوئی بات یقین سے تو نہیں کی جاسکتی کہ اس پیش گوئی کا اس پاک چین معاہدے سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے یا نہیں، مگر ساتھ ہی ان اندیشوں کو بھی یہ یک جنبش قلم رد بھی نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کے سارے جنگی اور اقتصادی ماہرین اس معاہدے کے بارے میں تمام معلومات حاصل کرکے ان کے ہر پہلو کا گہرائی سے جائزہ لیں، ساتھ ہی سندھ کے اندر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ وضاحت کی جائے کہ اس معاہدے میں سندھ کی کیا حیثیت ہے اور اس کے کن علاقوں اور بحری بندر گاہوں کو ترقی دی جائے گی کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک مرحلے پر سندھ کو اس معاہدے سے ایک فاصلے پر رکھا جائے گا اور اسے اور کراچی کو کچھ عالمی اور سیاسی قوتوں کے رحم و کر م پر چھوڑ دیا جائے گا۔

سندھ کے اندر یہ رائے بھی پیدا ہورہی ہے کہ اس وقت سندھ کی ساری سیاسی جماعتیں کم و بیش زیرو بن چکی ہیں اور ایک رائے یہ بھی بنتی ہوئی نظر آرہی ہے کہ سندھ کے سارے دانشور اور مختلف شعبوں کے ماہرین ایک جگہ جمع ہوکر سندھ کے مستقبل کے بارے میں سوچیں.

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.