.

آزادی صحافت اور پاکستان

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ روز دنیا بھر میں آزادی صحافت کا دن منایا گیا اور پاکستان کے اندر بھی آزادی صحافت کا دن منایا گیا ہے ۔ لیکن صرف دن ہی منایا جا رہا ہے ۔ جو حقائق ہیں بڑے ہی خوفناک ہیں ۔ صحافت کے حوالے سے 180 ممالک میں سے پاکستان کی پوزیشن 159 ہے ۔

یہ ایسی ہی حالت ہے جیسی پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی ہے ۔ 9 نمبر پر ہے بنگلہ دیش کے پیچھے اور آنے والے دنوں میں چیمپئن ٹرافی کے میچ شاید پاکستان نہ کھیل پائے جو ہم اتنے عرصے سے کھیل رہے تھے ۔

ہم دنیا بھر میں صحافت کے میدان میں بھی ٹاپ 10 یا 20 کے اندر موجود نہیں ہیں ۔ تین چار بڑے مسئلے جن کے اوپر فوکس کرنا ضروری ہے ۔ ایک بڑا مسئلہ اس انڈسٹری کے طریقہ کار سے ہے ۔ ہم نے یہ دیکھا کہ پاکستان کے اندر انڈسٹریز نے تو بڑی ترقی کی ، مالکان نے بڑی ترقی کی ۔ جو صحافی ہیں چند ایک ٹاپ پوزیشن پر انہوں نے بھی بڑی ترقی کی۔ لیکن جو ورکرز ہیں وہ مستفید نہیں ہو پائے ۔

ایک تو ہم نے انڈسٹری کے حالات کو دیکھنا ہے ، لوگوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں ، ان کو تنخواہیں نہیں ملتی ، ان کی سیکیورٹی موجود نہیں ہے ، ان کی انشورنس نہیں ہے ۔

دوسرا یہ کہ ہمیں اپنی اجتماعی ساکھ کے بارے میں دیکھنا ہو گا ، یقینا ایک ایسا معاشرہ جس کے اندر بہت ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے ، ہر ادارے کے اوپر تنقید ہو رہی ہے وہاں پر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری طرف کوئی بات نہ کرے ، بات کرنی چاہیئے ۔ سوشل میڈیا نے حالات تبدیل کرکے رکھ دیئے ہیں ، لیکن ہمارے اندر بہت سارے ایسے لوگ آ گئے ہیں جو چھاتا بردار ہیں ، جن کی کوئی کمنٹ منٹ نہیں ہے ۔ جو پاور پولیٹکس کرتے ہیں ۔

ہمیں یہ کہنے دیجیئے کچھ لوگ کسی نہ کسی کی جڑیں لیکر اس انڈسٹری کے اندر آئے ہوئے ہیں ۔ ہمیں ان کے اوپر بھی نظر رکھنی ہے ۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ تنقیدی سوال کرنا صحافی کا بنیادی حق ہے ۔ ہم آپ کی مرضی کے مطابق سوال تراش نہیں سکتے ۔ آپ کی پسند کے لیڈر کو ہم تعریفوں سے نواز نہیں سکتے ۔ ہم سوال کریں گے جو اچھا صحافی ہے اس کا سوال تنقیدی سوال ہو گا ۔ اگر سیاسی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر سوال پوچھنے لگ گئے تو وہ صحافت نہیں ہو گی ۔

سننے والے کو بھی ، پڑھںے والے کو بھی اور دیکھنے والے کو بھی اپنے کان اور آنکھیں کھولنے ہوں گے ۔

چوتھا معاملہ یہ ہے کہ جو صحافیوں کو خطرات درپیش ہیں اس کے اندر ریاست کی بھی بہت بڑی زمہ داری ہے ۔ سیاست کی بھی بہت بڑی زمہ داری ہے اور جو ماحول ہم نے بنادیا ہے جس کے اندر پر تشدد رویے ، گالم گلوچ ، ہر کسی کے اوپر الزام تراشی ان لوگوں کے ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جو صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔

یہ ریاست کی ذمہ داری ہے صحافیوں کو درپیش خطرات سے محفوظ رکھے،اگر ہم نے یہ نہیں کیا تو ہمارا نمبر 160 واں ہو جائے گا اگلے سال خدا نخواستہ ، اور بدنامی ہر طرف ہو گی ، صحافی صحافت کرنے کے باوجود نہ تو اپنے آپ کو محفوظ تصور کرے گا اور نہ ہی اس کی وجہ سے ملک کی عزت ہو گی ۔

بہ شکریہ سچ ڈاٹ ٹی وی

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.