پاکستان کا اسٹرٹیجک کمپاس

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

20 اور 21اپریل 2015ء کو چینی صدر شی چن پنگ کے دورے نے پاکستان کو دُنیا میں ایک اچھے مقام پر لاکھڑا کیا ہے، یہ ایک غیرمعمولی دورہ تھا۔ لندن کے ایک معتبر ادارہ ’’مرکز نشاۃ ثانیہ‘‘ نے لکھا ہے کہ چینی صدر کے دورے نے پاکستان کو Midas Touch کے مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ وہ جس چیز کو بھی ہاتھ لگائے وہ سونا بن جائے۔ اس ادارے کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اصلاح راتوں رات ہوگئی وہ ایک غیرمستحکم ریاست سے مستحکم بن گیا اور ایک ناکام ریاست سے ایک کامیاب ریاست کے طور پر دُنیا کے سامنے نمودار ہوا۔ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے اسٹرٹیجک اتحادی بن گئے، چین کو پاکستان کے ذریعے ایک نیا راستہ مل گیا اور پاکستان کو وہ کچھ مل گیا جس کی اُسے ضرورت تھی، پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی تیسرے ملک کی سرحد حائل نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نئی بساط بچھ گئی ہے اور چین کے سڑک اور پٹی کے تصور نے قدم جمالئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ چین کا آدھی دُنیا سے رابطہ ہوجائے گا جو پاکستان کا اللہ کے بعد تحفظ کا ضامن ہوگا۔ آپریشن ضربِ عضب نے اور جنرل راحیل شریف کی فوجی قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائی کی اس سے چین کا پاکستان کے مستقبل پر اعتماد بڑھ گیا۔ تمام فرسودہ اور جھوٹے پروپیگنڈے اور تصورات ردی کی ٹوکری کی نذر کردیئے گئے کہ پاکستان دُنیا کا خطرناک ترین ملک ہے یا وہ دہشت گردی کو پالتا ہے، اگرچہ ضربِ عضب نے چین کے پاکستان پر اعتماد کو مستحکم کیا۔ اِس سے پہلے بھی چین کےلئے پاکستانی راستے کا استعمال ایک منفعت بخش سودا تھا کیونکہ اُس کو ہزاروں کلومیٹر کے سفر سے بچاتا ہے، کاشغر سے گوادر کی بندرگاہ تک کا راستہ کوئی دو ہزار کلومیٹر ہے، اس لئے چین نے ایک سال پہلے ہی یہ عزم کر لیا تھا کہ وہ پاکستان کے سارے دکھ، خطرات اور مسائل کو اپنے ذمہ لے لے گا۔

ہم نے اِس کی تفصیل اپنے ایک کالم میں ’’چین کا عالمی نظام‘‘ میں قارئین کرام کی خدمت میں پیش کردی تھی۔ چنانچہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی متاثر کن کامیابی نے پاکستان کو ایک عہد سے دوسرے عہد میں داخل کردیا۔ پاکستان نے امریکی اتحادی کے طور پر جو خدمات سرانجام دیں وہ قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھی گئیں بلکہ اُن کی نظر میں ہم ہمیشہ کھٹکتے رہے۔ امریکہ نے ہمارے ساتھ سول ایٹمی معاہدہ کرنے سے گریز کیا جبکہ بھارت کو پسند کیا۔ امریکہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شامل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اور کئی راستے نکال کر اُس کو نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شامل کرنے کی کوشش کررہاہے۔ پاکستان کا امریکہ کیساتھ محبت اور نفرت کا رشتہ قائم تھا۔ پاکستانی امریکہ سے ہمیشہ خوفزدہ رہے، وہ اُسے بے اعتماد ساتھی تصور کرتے تھے اور امریکہ بھی پاکستان پر اعتماد کرنے کو تیار نہ تھا اور وہ پاکستان کو سزا دینا چاہتا تھا، پاکستان پر کئی سخت حملے کئے، کہا جاتا ہے کہ 2005ء کا زلزلہ، 2010ء کا سیلاب، گیاری سیکٹر پر تودہ گرنا، 2 مئی 2011ء کو ایبٹ آباد کا واقعہ اور 26 ستمبر 2011ء سلالہ پر حملہ اُس کی ناراضگی اور سزا دینے کے طریقے تھے اور زلزلے میں اس نے ہارپ ٹیکنالوجی استعمال کی۔

گیاری سیکٹر میں لیزر کا استعمال کیا گیا جبکہ سلالہ پر حملہ اُس کی ننگی جارحیت کا اظہار تھا۔ اِسکے مقابلے میں دُنیا میں کوئی کھڑا ہونے کو تیار نہیں تھا۔ اب چین نے پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرکے نہ صرف اپنے آپ کو چھپا سپر پاور ثابت کیا ہے بلکہ پاکستان اور چین طویل عرصے تک اتحادی بن گئے ہیں ۔ امریکہ روس کو بھی یوکرائن کے معاملے میں دیوار سے لگا رہا ہے، چین اُس کی مدد کو پہنچا اور اُس کا تیل خرید کر روس کو تباہی سے بچایا۔ چین کے دورئہ پاکستان کا ایک اہم سنگ میل یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاشی اور ملٹری عدم توازن گھٹ گیا ہے، وہ بھارت کے برابر پہنچ رہا ہے۔ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار پہلے ہی سے موجود ہیں اس نے شاہین III میزائل کا تجربہ کرکے بھارت کی دوسرے ایٹمی حملہ کی صلاحیت پر کاری ضرب لگائی ہے۔

300 کلومیٹر تک مار کرنے والا بے آواز اور ریڈار پر نظر نہ آنیوالا کروز میزائل بنا لیا ہے۔ ڈرون براق اور برق میزائل کے تجربے نے پاکستان کی صلاحیتوں کو اُجاگر کیا ہے۔ صرف اسی پر ہی موقوف نہیں آواکس طیارے اور دیگر اسلحہ سازی میں پاکستان کی پیش رفت نے اُسکو کافی حد تک مضبوط بنادیا تھا۔ اس طرح پاکستان نے Make India کے جواب میں Make Pakistan کے تصور کو روشناس کرایا۔ پھر چین نے پاکستان کو آٹھ آبدوزیں اور 50 مزید F-17 تھنڈر طیارے دینے کا اعلان کرکے پاکستانی دفاع کو وسعت دیدی ہے۔ معاشی اعتبار سے پاکستان کا مالی خسارہ 4.7 رہ گیا تھا، وہ اب گھٹ جائے گا جبکہ بھارت کا یہ خسارہ 2014ء میں 7 فیصد تھا۔ کہا جارہا ہے کہ پاکستان کا مال عالمی مارکیٹ میں اب سستا ہوجائے گا وہ اپنی تباہ حال معیشت کو استوار کرسکے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چین کسی وقت بھی پاکستان کو برکس ممالک میں شامل کرلے گا۔

اس دورے کی وجہ سے افغانستان میں استحکام پیدا ہونے کی امید بھی ہوگئی ہے۔ پاکستان اور چین مل کر طالبان کو راضی کریں گے کہ وہ افغان حکومت سے صلح کرلے۔ امید ہے ایسا ہوجائے گا اس لئے کہ افغانستان کا استحکام تینوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ بلوچ باغیوں کو بھی اس گرڈ میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ توقع ہے کہ یہ کوشش بارآور ہوگی، گوادر بندرگاہ پر اگر چین کی نیوی پاکستانی نیوی کے ساتھ مل کر کھڑی ہوگی تو خلیج اومان میں بہت سے ممالک کی مداخلت کاری کو روکا جاسکے گا۔ اہم ترین تبدیلی اس دورے سے یہ ہوئی ہے کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کا Compass خود ایجاد کرلیا ہے۔ پاکستان کی پالیسی دوراندیشی پر مبنی اور اسٹرٹیجک تعلقات کی حامل ہوگئی ہے۔ پہلے وہ مغرب سے تعلق رکھتا تھا اور اُسکے عوام اگرچہ امریکہ سے نفرت تو نہیں کرتے تھے مگر کافی پریشان رہتے تھے اور امریکہ پاکستانیوں کو رسوا کرنے سے بھی باز نہیں آتا تھا مگر اب پاکستان اپنی مرضی اور مفادات کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی وضع کررہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں اس طرح نہیں پڑا جس طرح سعودی عرب چاہتا تھا۔ یہ پاکستانی پارلیمنٹ کا فیصلہ تھا اور مقبول عام تھا۔ اس طرح پاکستان نے اسٹرٹیجک کمپاس بنا ڈالا کہ کس طرح چلنا ہے اور کس طرف جانا ہے۔ چین اور روس اس سلسلے میں پاکستان کے ممد و معاون ہیں۔ خطے میں طاقت کا توازن پاکستان کی طرف جھکے گا۔ چین پاکستان کے تعاون سے امریکہ کا روس پر دبائو، ایشیائی بحرالکاہل پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئیگی۔ پاکستان ایران گیس پائپ لائن ڈال دی جائیگی۔ اس کے باوجود پاکستان سعودی عرب کی مدد میں کوئی کوتاہی نہیں کریگا اور بھارت کے ساتھ امن کی پالیسی کو اپنائے گا۔ چین بھارت کو خطرہ نہیں سمجھ رہا ہے بلکہ صرف وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ امریکہ کی گود میں نہ جا بیٹھے جبکہ پاکستان چین تعاون سے خطے کے چھوٹے ممالک جن میں سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال شامل ہیں کو تقویت ملے گی کہ وہ چینی بگی میں سوار ہوجائیں۔

چین کے صدر کے دورئہ پاکستان سے جنوبی ایشیائی ممالک کی سانسیں رک گئی ہیں۔ چین نے سارے خطے کے ممالک کو بہت بڑا پیغام دیا ہے کہ چین سے دوستی کا مطلب جیت ہی جیت ہے۔ البتہ امریکہ اِس اتحاد میں اپنی ٹیکنالوجی سے رخنہ ڈالنے کی کوشش ضرور کرتا رہیگا۔

----------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں