.

میڈیا میں شناخت کا بحران

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزری 20ویں صدی اپنے آخری ربعہ میں (اختتام 25سال میں) ’’ابلاغ کی صدی‘‘ کہلائی جانے لگی تھی۔ ترقی یافتہ دنیا کے تھنک ٹینکس اورچوٹی کے علمی و تحقیقی حلقے اس پر متفق تھے کہ جو حیران کن ترقی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہوئی، اتنی تیزی سے اورانسانی تہذیبی ارتقاء میں انقلاب برپا کرنے والی ایسی ترقی کسی اورفیلڈ میں نہیں ہوئی۔ اسی کی بدولت دنیا میں ابلاغ عامہ کے عمل میں ایسے ایسے معجزات برپا ہوئے کہ ماس کمیونیکیشن کی سائنس کا بانی پروفیسر ولبر شریم اس شعبے کی ترقی کی وضاحت یوں کرتا ہے کہ ’’اگرانسانی تہذیبی ارتقاء کی عمرگھڑی کے ڈائل میں گھنٹے کی سوئی کے ایک چکر لگانے کے وقت کے برابر ہے توماس کمیونیکیشن (بطور علم) کی پیدائش 11بجکر 59منٹ اور 59ویں سکینڈ پر ہوئی ہے‘‘۔

ولبر شریم نے یہ وضاحت 80ء کے ابتداء میں کی جبکہ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی آنے میں ابھی بارہ تیرہ سال رہتے تھے۔ ’’سیٹلائٹ کمیونیکیشن‘‘ نے میڈیا کی طاقت اور اہمیت کو یکدم کتنے ہی گنا بڑھا دیا جبکہ یہ تو اپنے ابتدا سے ہی ’’معاشرے کا آئینہ‘‘ کہلایا جارہا تھا اوراس طرح اس کی اہمیت پہلے بھی کم نہ تھی۔ لیکن جب دنیا کے زیادہ سے زیادہ ملکوں (بشمول پاکستان) میں پہلی بار محمد علی کلے کے باکسنگ میچ کی کوریج لائیو دکھائی گئی، یعنی کھیل کے دوران ہی توابلاغ عامہ کی دنیا میںیہ ایک اور معجزہ برپا ہوا جیسے بولنے والے کی آواز پہلے (بیک وقت) ہزاروں میل بذریعہ ریڈیو براڈ کاسٹنگ پہنچانا ممکن ہوگیاتھا۔ پھر یہ کہ جو بولتا ہے اس کی تصویرٹی وی پر آئے گی اور واقعات کی ریکارڈڈ کوریج Visuales کے ساتھ ہوا کے دوش پر گھر گھر پہنچنے لگی، گویا جو ہوا، اسے صرف اخبار میں پڑھا ہی نہ جائے، بذات خود ٹی وی اسکرین پر دیکھا جائے۔ سیٹلائٹ کمیونیکیشن کا کمال یہ ہوا کہ ریکارڈڈ ہی کیوں، واقعہ جب ہورہا ہے، جہاں ہورہا ہے، وہیں سے ساتھ ساتھ ہوبہو بذریعہ فوٹیج دکھایاجائے۔

نکتہ یہ ہے کہ یہ معجزات اصل میں کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی پیش رفت (ایڈوانسمینٹ) سے ہوئے۔ یاد رکھا جائے کہ پیشہ ورانہ ابلاغ عامہ کی پریکٹس جس میڈیا (پہلے اخبارات اوراب مین اسٹریم میڈیا) کے ذریعے ہوتی، وہاں ابلاغ عامہ کے مختلف نوعیت کے پیغامات (خبریں، تبصرے و تجزیئے، معلوماتی فیچر، ڈرامے، کارٹون اور مزاحیہ و تفریح پروگرام وغیرہ) کی تیاری کے پیشہ ور پیغام سازوں (ایڈیٹر، رپورٹر، اینکر پرسن اداریہ و کالم نویس، ڈرامہ نگار، آرٹسٹ، فوٹو گرافر، کارٹونسٹ اور دوسرے اراکین ادارتی عملہ) کی ایک تربیت یافتہ، کوالیفائیڈ، منظم اور متحرک ٹیم دن رات اپنی اپنی پروڈکٹس کی تیاری میں سرگرم ہے، جنہیں میڈیا کے ایجنڈے کے طور پر میڈیا چینل (خواہ یہ اخبار و جریدہ ہے، ریڈیو یا ٹی وی) کے ذریعے عوام الناس تک پہنچایا جاتا ہے۔ یوں میڈیا آرگنائزیشن کے دو بڑے پوٹینشل، صحافتی پیغام سازی اور انہیں پیپل ایٹ لارج کو ڈلیور کرنا ہے۔

قارئین خصوصاً میڈیا لارڈز، صحافی حضرات، میڈیا اسکالرز،ا سٹوڈنٹس اور اساتذہ ابلاغیات غور فرمائیں کہ ابلاغ عامہ کی مختصر لیکن جدید تاریخ میں میڈیا ہائوسز اپنے ہر دو پوٹینشل میں کتنا عدم توازن کا شکار ہوگئے ہیں۔ گزشتہ صدی اگر اپنے آخری 25 سالوں میں ’’کمیونیکیشن سنچری‘‘ کہلائی تواس کا سبب کوئی صحافیوں کی پیغام سازی نہیں بلکہ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز پیشرفت ہے، جس نے واقعہ کے منظر اور اس کی رپورٹنگ کوساتھ ساتھ آپ کے گھر ٹی وی اسکرین تک پہنچا دیا، پھر صحافیوں کی پیشہ ورانہ مینجمنٹ اور ان کی سرگرمیوں میں اس ٹیکنالوجی نے جو حیران کن معاونت ممکن بنائی، اس نے پیشہ صحافت کو چار چاند لگا دیئے، مقدار او ر معیار دونوں کے حوالے سے، اس کے مقابل پیغام سازی کا ارتقاء کیا اتنا ہی تیز اور اس کے نتائج اتنے ہی معجزانہ اور باکمال ہیں؟ جتنے کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے؟ بلکہ دنیا بھر میں میڈیا کے ایجنڈے کا جائزہ لیاجائے تو 1980ء سے ہونے والی تحقیق کے نتیجے میں بار بار یہ ہی جواب آرہا ہے کہ میڈیا کے دوسرے پوٹینشل پیغام سازی، ارتقاء مختلف مراحل طے کرنے کے بعد جیسے محدود اور یکساں بھی ہوگیا ہے۔

یعنی انفرادی شناخت سے محروم یہ تودرست ہے کہ ’’خبر کو عام کردینے‘‘ سے شروع ہونے والا اخبار پھر واقعات و اطلاعات کے تجزیوں اورتبصروں کے مسلسل انتظام سے ’’رائے عامہ‘‘ جیسی طاقتور اورانتہائی مفید صحافتی صنف بشکل اداریہ، کالم، تجزیہ و تبصرہ لایا۔ پھراس نے وقت گزرنے کے ساتھ اخبار سے ہی شروع ہونے والی تفریح عامہ کو (ریڈیو اور ٹی وی کی ایجادات کے بعد) نئے نئے رنگ دے کر گھر گھر پہنچا دیا۔ حتیٰ کہ گھر تھیٹر، ڈرامے کے اسٹیج اور سینما ہائوس بن گئے لیکن میڈیا میں کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے اولین پوٹینشل (پاور آف چینل تو ایکسس پیپل ایٹ لارج) کے مقابل صحافتی اضاف کا محدود ارتقاء جو اب عشروں سے تقریباً رکا پڑا ہے، کچھ بھی تو نہیں۔ گویا میڈیا، اطلاعات کی فراہمی، رائے عامہ کی تشکیل اور رہنمائی، تفریح عامہ کی فراہمی اور تعلیمی عامہ (جومیڈیا کے ایجنڈے میں بے پناہ دستیاب معلومات کے مقابل بے حد مطلوب ہونے کے باوجود نہ ہونے کے برابر ہے) تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ گویا توپوں ٹینکوں سے کیڑے مکوڑے مارے جا رہے ہیں۔

خاکسار کا نوٹس ہے کہ میڈیا کے پہلے پوٹینشل (کمیونیکیشن ٹیکنالوجی) کو Contribute کرنے والوں نے اپنے کام و خدمات کو آگے بڑھانے کے لئے جتنا فوکس کیا، پیغام سازوں (صحافیوں) کی فوج تقلید، مفادات اور سست روی کا شکار ہوگئی۔ برس ہا برس سے میڈیا (ریڈیو اور ٹی وی کی ایجاد کے بعد ہی) اسی ایجنڈے (متذکرہ چار بنیادی مقاصد) کو لے کر چل رہا ہے، جس کی اصل میں تکمیل تو اخبار و جرائد ہی نے کردی تھی۔

یوں ایک دوسرے کی تقلید میں دنیا بھر کا میڈیا ایجنڈا یکسانیت کا شکار ہے۔ یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ یہ ’’انسانی معاشرے کا آئینہ‘‘ ہے جو تصویر ہے وہی دکھاتا ہے۔ یہ کیسے دکھا سکتا جبکہ ہر ملک میں خواہ آزادی صحافت نصیب ہے یا نہیں، میڈیا کے ایجنڈے پر طاقتور معاشرے کے پانچ سات طبقات (حکمراں و سیاست دان، بزنس وشو بزنس پیپل، اسپورٹس مین، مذہبی لیڈر اور دوسرے پریشر گروپس) حاوی ہیں۔ میڈیا باہمی تقلید میں بری طرح یکسانیت کا شکار ہو کر ابلاغی چینل اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے میں ناکام نہیں؟ اور جو روایتی کام کررہے ہیں وہ اپنے اتنےبڑے پوٹینشل (لمحے میں کروڑوں ارباہا لوگوں تک رسائی) کے باوجود روایتی ہی چار پانچ بنیادی مقاصد کو لے کر چل رہے ہیں۔ اس میڈیا میں ترقی پذیر دنیا کی اکثریتی دیہی آبادی کتنی جگہ پاتے ہیں؟ کم خوراکی، جہالت اور بیماریوں میں مبتلا طاقتور طبقات کے مقابل کتنے ہیںاور اس ایجنڈےکا وقت اور جگہ کتنی ہے؟

اتنی محدود اضاف صحافت، تخلیق اورارتقاء مرنہیں گیا؟ مرا نہیں تو لاغرتو ہے؟ کہ امریکی اور مغربی میڈیا بھی چکموں میں یا لالچ میں آکر عالمی امن کے لئے نہیں، بنیادی حقوں کے چارٹر کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر قتل و غارت اور جغرافیائی سرحدوں کے احترام کو پامال کرنے میں نہیں؟ رویوں کی تبدیلی، میڈیا کا مقصد نہیں ہونا چاہئے جبکہ رویے تبدیل ہوتے ہی فقط ابلاغ سے ہیں اورمیڈیا سرد جنگ کا سو فٹ ویپن ہی کیوں؟ تنازعوں کے حل میں مدد گار کیوں نہیں؟ اتنی باہمی تقلید ذرا سوچئے وما علینا الاالبلاغ۔
---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.