ہمارا سپہ سالار

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

بھارت جیسے جنم جنم کے دشمنوں کے نشانے پر شب و روز کرنے والا یہ ملک پاکستان اپنی قومی غیرت اور جانباز فوج کی طاقت سے ہی زندہ ہے اور اپنے سے کئی گنا بڑے دشمنوں اور اپنے اندر کے بعض غداروں کا بیک وقت ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے لیکن اندر اور باہر کے خطروں کی یلغار کبھی کوئی گہرا زخم بھی دے جاتی ہے جس کی کسک زندگی کا حصہ بن جاتی ہے جیسے سقوط ڈھاکا کا سانحہ۔ ہمارا ملک ہمارے اندرونی خلفشار اور ہمارے بعض لیڈروں کی ہوس اقتدار کی وجہ سے دو ٹکڑے ہوگیا اور کسی کامیاب منصوبے کے تحت دنیا کی تاریخ کا پہلا پیدائشی مسلمان ملک بیٹھے بٹھائے آدھا ہو گیا۔

انتہا یہ ہوئی کہ اقتدار اعلیٰ فوج کے سربراہ کے پاس تھا مگر اس کے دیکھتے دیکھتے اقتدار اس کے پاؤں تلے سے کھسک گیا اور اس حال میں کہ جو اس اقتدار کے طلب گار تھے وہ کامیاب ہو گئے۔ وزارت عظمیٰ کا حقیقی دعوے دار ملک سے الگ کر دیا گیا باوجود اس کی اکثریت کے اور نمبر دو وزیراعظم بن گیا جس کے ساتھ پاکستانیوں کی اکثریت نہیں تھی۔ یہ کہانی پاکستان کے ہر شہری کو ازبر ہے کیونکہ اس کے کانوں سے وہ الفاظ بار بار ٹکراتے رہے جو سقوط ڈھاکا کا اصل سبب تھے۔ ہماری فوج کی قیادت یعنی سربراہی بلیک ڈاگ وہسکی بنگال کی بلیک بیوٹی اور پنجابی سرخ و سپید بانہوں میں دم توڑ گئی۔

پاکستان کو دو ٹکڑے اور ادھ موا کرنے والے ملکی اور غیر ملکی کامیاب لوگوں کو ان کے جرم کی ایک سزا تو قدرت نے دے دی اور ان کی گردنوں کا سقوط کر دیا گیا دوسری سزا اس قوم نے نفرت کی صورت میں دی جو جاری ہے اور جاری رہے گی لیکن اس سانحے میں سب سے زیادہ دکھ پاکستان کے کسی گروہ کو ہوا تو وہ اس ملک کی فوج تھی جس کا مقصد ہی ملک کی حفاظت تھی اور اس کے ہر سپاہی کے دل پر پاکستان نقش تھا۔

ملک ہی نہیں ٹوٹا فوج کا دل بھی ٹوٹ گیا ان دنوں کسی فوجی سے ملاقات ہوتی تو اول تو اس سے اس سانحے کی تعزیت نہیں کی جاتی تھی کہ زخم تازہ کرنے والی بات تھی لیکن ایسی کوئی بات ہو ہی جاتی تو ہر فوجی اپنے ڈسپلن کے شکنجے میں کسا ہوا مجبور دکھائی دیتا کہ وہ بے بس تھا اس کے کمانڈر جو کچھ کر رہے تھے اس کی تعمیل اس کا فرض تھا۔ ایک مارشل لاء کے نتیجے میں سقوط ڈھاکا ہوا اس کے بعد مارشل لاؤں میں جو برسوں پر محیط رہے ان میں پوری قوم کا مزاج ہی بدل گیا۔ 1947 والی قوم کہیں گم ہو گئی اور اس کی جگہ ایک محکوم اور حرص و ہوس کی ماری قوم پاکستان کی قوم بن گئی۔

ایک ڈری سہمی قوم جو جان کی پناہ مانگتی رہی۔ خدا کرے میں یہ سچ کہہ رہا ہوں کہ برسوں بعد فوج کا سپہ سالار ایک سچے فوجی کی صورت میں قوم کے سامنے طلوع ہوا۔ ایک میجر کا بیٹا اور ایک نشان حیدر کا بھائی خود پوری زندگی کے شب و روز فوج کے آس پاس یا فوج کے اندر کسی فوجی کا اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے۔

اس جرنیل کا قد کاٹھ ایک صحیح فوجی کا اور اس کی گفتگو اور نشست و برخاست کا انداز ایک جرنیل کا۔ پاکستانیوں نے اپنے خواب کریدے تو انھیں ان میں سے یہ فوجی زندہ و پایندہ ملا۔ اب تک وہ دن رات اس جرنیل کو دیکھ رہے ہیں اور خدا کا شکر ادا کر رہے ہیں لیکن کچھ اور بھی سوچتے ہیں۔ وہ اس کی زندگی کے بارے میں سخت متفکر ہیں۔

پاکستان کے دشمن اسے زندہ دیکھ نہیں سکتے کیونکہ یہ ان کے ارادوں کی چلتی پھرتی موت ہے۔ کوئی دن بلکہ کوئی لمحہ نہیں جاتا کہ پاکستان کی فوج کے اس سربراہ کو کسی نہ کسی مسئلے سے دوچار نہ دیکھیں اور مسئلے بھی ایسے کہ عام پاکستانی ڈر جاتا ہے۔ ایک پورا گروہ پاکستان دشمنوں کی شہہ پر بلکہ ان کی بھرپور مدد کے ساتھ پاکستان کے لیے ایک مشکل بن رہا ہے اور ہماری سیاسی حکومت جس کی یہ اصل ذمے داری ہے اس صورت حال کو صرف مسکرا کر دیکھ رہی ہے اور اس کے ہر عذر کو قبول کر رہی ہے۔

یہ الجھی ہوئی صورت حال میرے لیے ایک قومی خطرہ ہے۔ سول حکومت اور فوج کے درمیان بظاہر وہ یگانگت اتنی واضح نہیں جتنی ایک پاکستانی توقع کرتا ہے کیونکہ پاکستان کے مسلمان فوج کے بارے میں ایک خاص ذہن رکھتے ہیں۔ ان کے مذہب کی تاریخ حکمرانی سے شروع ہوتی ہے اور اس حکمرانی کی سب سے بڑی وجہ اور ذریعہ فوج رہی ہے۔ حضور پاکؐ بذات خود فوج کا حصہ رہے اور جنگ میں حصہ لیتے رہے۔

حضور پاکؐ کی زندگی ایک فوجی اور سول حکمران کی زندگی تھی۔ حضور پاکؐ کی طرف سے کسی پسندیدہ فوجی مسلمان کا اعزاز اور لقب فوجی ہوتا تھا یعنی اللہ کی تلوار۔ ہمارے خلفائے راشدین اپنی افواج کے سپہ سالار بھی تھے۔ غرض فوج جہاد اور تلوار ہماری تاریخ کا ایک مستقل حصہ ہے۔ فوجی ہمارے ملازم نہیں ہوتے وہ ہمارے مجاہد ہوتے ہیں اور محافظ بھی لیکن ہمارے سویلین حکمران کبھی ایسے عظیم لوگ ہوتے تھے کہ فوج کے کمانڈر اور سپہ سالار اپنے آپ کو ان کے ماتحت سمجھتے تھے۔ طویل واقعہ ہے کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کو خلیفہ وقت حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کی فوج سے برطرف کر دیا۔

قدرتی طور پر اللہ کی تلوار (سیف اللہ) حضرت خالدؓ کو اس کا رنج تھا۔ وہ برطرفی کے بعد واپس آ رہے تھے کہ دوران سفر کسی پڑاؤ پر انھوں نے اپنی تلخی کا ذکر کیا۔ ایک سپاہی بھی جو مسافر تھا کہنے لگا جناب آپ کی باتوں سے بغاوت کی بو آ رہی ہے۔ یہ سن کر حضرت خالدؓ نے جواب دیا کہ دیکھو جب تک عمر ہے تب تک بغاوت نہیں ہو سکتی۔ حضرت خالد کی اس بات کی اصل وجہ یہ تھی کہ حضرت عمرؓ کی حکومت اس قدر انصاف کی حکومت تھی کہ اس میں بغاوت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔

تو یہ تھے ہمارے سویلین حکمران اور ان کے ماتحت فوجی جرنیل۔ یہ وہ روایات تھیں جو ہماری تاریخ کا حصہ ہیں اور ہمارے دلوں کے ہیرو ہیں خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی ایسے جرنیل اس لیے اگر ہم جنرل راحیل شریف میں کسی خوابوں کے جرنیل کو زندہ دیکھتے ہیں تو غلط نہیں ہیں اور ہم دن رات دست بدعا ہیں اپنے سپہ سالار کی سلامتی اور خیریت کے لیے ہم پاکستانیوں میں اگر کوئی خطرے میں ہے تو وہ ہمارا جرنیل ہے جس سے ہم نے نہ جانے کتنی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ خدا انھیں کسی غلط فہمی سے بچائے خوشامدیوں سے دور رکھے اور جنگ کے میدان میں سرخرو کرے، ہمیں کسی فوجی حکمران کی نہیں قائد اور سپہ سالار کی ضرورت ہے۔ فوجی حکمران ہم بہت دیکھ چکے ہیں دل بھر چکا ہے۔

وضاحت اور معذرت

معلوم نہیں کیسے جماعت اسلامی کے حلقوں تک ایک فرضی خبر پہنچی ہے کہ میری کوئی ہمشیرہ انتقال کر گئی ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ محترم امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور سیکریٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ کے علاوہ چند احباب کے تعزیتی خطوط موصول ہوئے ہیں۔ میں ان کی محبت کا بے حد مشکور ہوں اور ان کی مسلسل مہربانی کا طلب گار ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے مہربانوں کو سلامت رکھے اور انھیں اپنے دینی مقاصد میں کامیاب کرے۔ میں ان کا شکر گزار ہوں اور ان کو جو زحمت ہوئی اس کی معذرت کرتا ہوں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں