.

شمسی توانائی پاکستان کیلئے نعمت خدا وندی

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اندلس (اندلوسیا) ہسپانیہ کی سب سے زیادہ گنجان آباد اور خود مختار کمیونٹیز میں دوسری سب سے بڑی کمیونٹی ہے۔ اندلس خود مختار کمیونٹی کو سرکاری طور پر ہسپانیہ کی ایک قومیت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اندلس کے آٹھ صوبوں میں المریہ، کادیس، قرطبہ، غرناطہ، ہوئلوا، خائن، مالقہ اور اشبیلیہ کے صوبے شامل ہیں۔نئے ہزاریے کی پہلی دہائی میں اسپین میں توانائی کا بحران سر اٹھانے لگا تو توانائی کے دیگر متبادل ذرائع میں شمسی توانائی کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی، یوں اندلس میں شمسی طاقت سے بجلی پیدا کرنیوالے پہلے منفرد پلانٹ لگانے کا آغاز ہوا۔

اشبیلیہ سے قرطبہ کو جانیوالی سڑک سے گزرتے ہوئے ایک مرکزی مینارنور دور سے دکھائی دیتا ہے۔یہ مینار نور نہ صرف اسپین بلکہ یورپ کے سب سے بڑے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس مینار کو 2600 شمسی آئینے روشنی فراہم کرتے ہیں۔یہ دنیا کا پہلا پاور اسٹیشن ہے جو 24 گھنٹے روزانہ کام کر سکتا ہے، اس کے کام کا طریقہ کار بہت آسان ہے، شمسی پینل سورج کی روشنی کو مینار پر منعکس کرتے ہیں جس سے زمین تک پہنچنے والی سورج کی شعاعوں سے ایک ہزار گنا طاقت ور توانائی پیدا ہوتی ہے، اس توانائی کو ایک ٹینک میں پگھلے ہوئے نمکیات کے ساتھ 500 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت پر محفوظ کیا جاتا ہے۔ ان نمکیات کے ذریعے بھاپ پیدا ہوتی ہے جسے ٹربائنوں کو گھمانے اور بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس پراجیکٹ سے اتنی توانائی حاصل ہوتی ہے کہ اس سے اندلس کے کئی شہروں کے 30 ہزار گھرانوں کو سارا سال روشن ہی نہیں رکھا جاتا، بلکہ سردیوں میں گرمی پہنچانے اور گرمیوں میں سرد رکھنے کیلئے بھی یہ بجلی کافی ہوتی ہے۔ اسی بجلی سے تیس ہزار گھروں کے چولہے بھی جلائے جاتے ہیں۔یہ بجلی ماحولیات دوست بھی ہے کیونکہ شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کے دوران 30 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیسوں کے اخراج کی بچت ہوتی ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی زندگی کی نقل و حرکت کا خاصا انحصار توانائی پر ہے۔ آج جس بڑے پیمانے پر توانائی کا استعمال ہو رہا ہے اس سے خدشہ یہ ہے کہ توانائی کے ذخائر بہت دنوں تک ہمارا ساتھ نہیں دے سکیں گے، لیکن اس کرہ ارض پر توانائی کے ذخائر کی کوئی کمی بھی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر یہ کرہ ارض آبی یا موجی توانائی، ہوائی توانائی،پودوں سے پیٹرول کشید کرکے توانائی حاصل کرنے، جوہری توانائی، بائیو گیس اور ارضی حرارتی توانائی جیسی متبادل توانائیوں سے بھرا ہوا ہے۔

اسکے علاوہ کوئلہ، معدنی تیل اور برقاب توانائی حاصل کرنے کے تین اہم وسائل ہیں جن میں جوہری توانائی کا اضافہ ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا ہے۔لیکن توانائی کے یہ ذخائر اور ذرائع ماحول کو آلودہ بھی کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے دنیا بھر میں توانائی کے نئے متبادل تلاش کرنے کیلئے کام جاری ہے تاکہ توانائی کے حصول کیساتھ ساتھ ماحول کو بھی آلودگی سے بچایا جاسکے۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم تیل، کوئلہ، لکڑی اور گوبر کے علاوہ دھوپ، ہوا، پانی اور دیگر توانائی کے قدرتی ذرائع کا استعمال کریں۔

دریاؤں میں پانی کی کمیابی اور نئے ڈیم نہ بنائے جانے کے باعث پاکستان میں توانائی کا بحران انتہائی سنگین نوعیت اختیار کرچکا تھا،بیس بیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ تو پاکستان کو کئی صدیاں پیچھے دھکیلنے میں کوئی کسر ہی نہیں چھوڑی تھی لیکن اس صورتحال میں بہاولپور میں لگایا جانے والا پہلا شمسی پلانٹ خوشگوار ہوا کا جھونکا بن کر سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے منگل کے روز بہاولپور میں پاکستان کے پہلے 100 میگاواٹ کے شمسی بجلی گھر کا افتتاح کرکے پاکستان میں شمسی توانائی کے حصول کا آغاز کردیاہے۔ 500 ایکڑ رقبے پر پھیلا یہ شمسی بجلی گھر چین کی امداد سے 11 ماہ میں مکمل ہوا اور اس سے قومی گرڈ میں 100 میگاواٹ بجلی شامل ہو گی۔یہ شمسی پلانٹ 15 ارب روپے کی لاگت سے آزمائشی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے اور بیشتر اخراجات حکومت پنجاب نے برداشت کیے ہیں، یہ منصوبہ مجموعی طور پر ایک ہزار میگاواٹ کا منصوبہ ہے جو اگلے برس تک تین مراحل میں مکمل ہوجائے گا، پہلے مرحلے کے افتتاح کے ساتھ ہی تین سو میگاواٹ کے دوسرے مرحلے پر بھی کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف نے بجا طور پر کہا کہ پاکستان روشن اور سنہری دور میں داخل ہونے جارہا ہے، لیکن اس سنہری اور روشن مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع میں شمسی توانائی کو سب سے زیادہ اہمیت اور ترجیح دی جائے۔ اسکی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر سورج کی دھوپ (توانائی) اپنے آپ میں آلودگی سے پاک ہے اور بہ آسانی میسر ہے۔

پاکستان کو یہ سہولت حاصل ہے کہ سال کے 365 دنوں میں 250 سے لے کر 320 دنوں تک سورج کی پوری دھوپ ملتی رہتی ہے اور یہ کہ سورج کی گرمی ہمیں رات دن کے 24 گھنٹے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس میں نہ دھواں ہے، نہ کثافت اور نہ ہی آلودگی۔ دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہوسکتی ہے۔ اگرچہ کوئلہ توانائی کے حصول یا صنعتی ایندھن کا سب سے بڑا وسیلہ ہے، لیکن ان تمام ذرائع سے بجلی حاصل کرنا مشکل بھی ہے اور مہنگا ترین بھی ہے۔ ان تمام ذرائع میں شمسی توانائی ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سورج کی باہری سطح کا درجہ حرارت تقریباً 6ہزار ڈگری سیلسیس ہے اور اسکے مرکزی حصے کا درجہ حرارت ایک کروڑ ڈگری Celcius ہے جبکہ سورج کی سطح کے فی مربع سینٹی میٹر سے پچاس ہزار موم بتیوں جتنی روشنی نکلتی ہے اور زمین سورج سے نکلی ہوئی طاقت کا محض دوسو بیس کروڑواں حصہ ہی اخذکر پاتی ہے۔

آج محض اسپین یا پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں شمسی توانائی سے بہت سے کام لیے جا رہے ہیں۔ چاہے کھانا پکانا ہو، پانی گرم کرنا ہو یا مکانوں کو ٹھنڈا یا گرم رکھنا ہو۔ فصلوں کے دنوں میں دھان سکھانا ہو یا پائپوں کے ذریعے پانی کی سینچائی کرنی ہو۔شمسی توانائی کے ذریعے گھروں، ڈیریوں، کارخانوں، ہوٹلوں اور اسپتالوں میں پانی گرم کرنے کیلئے ایسے آلات لگائے جاسکتے ہیں، جو 100 لیٹر سے لے کر سوا لاکھ لیٹر تک پانی گرم کر سکتے ہیں، چونکہ دیہی علاقوں میں گھروں میں کھانے پکانے کیلئے زیادہ تر لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے اگر شمسی چولہوں کا استعمال کیا جائے تو دیہی علاقوں میں روزانہ کم سے کم دو کلو لکڑی فی گھرانہ کی بچت کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں اگر دو کروڑ خاندان مان لیے جائیں تو یوںروزانہ کم از کم چار کروڑ کلو لکڑی کی بچت بھی کی جا سکتی ہے۔

قارئین کرام! اندلس کے شمسی پلانٹ پر کی جانے والی سرمایہ کاری 200 ملین یورو سے زائد تھی اور یہ پلانٹ بنکوں سے قرض لے کرلگایا گیاتھا، لیکن اس پراجیکٹ کی صلاحیت دیکھ کر ماہرین نے فخریہ طور پر کہا تھا یہ پراجیکٹ آئندہ دس برسوں میں نہ صرف بینکوں سے لیا گیا تمام قرض لوٹا دیگا بلکہ اسکے بعد یہ پلانٹ1000 یورو کا نوٹ چھاپنے والی مشین بن جائیگا ۔پاکستان میں چونکہ اوسطا تقریبا 16 گھنٹے سورج کی روشنی موجود رہتی ہے، ماہرین کے مطابق سورج کی روشنی کو اگر صحیح طریقے سے استعمال میں لایا جائے تو پاکستان شمسی توانائی سے سات لاکھ میگا واٹ تک بجلی حاصل کر سکتا ہے۔

اگرقائداعظم سولر پارک اس (اندازے)کا عشر عشیر بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان سے توانائی کا بحران حل کرنے میں ثابت ہوگا بلکہ اندلسی پلانٹ کی طرح ریاست کیلئے پانچ ہزار روپے کا نوٹ چھاپنے والی مشین بن جائیگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.