.

پاکستان میڈیا کے لئے خطرناک ترین ملک…

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے سال 2014ء کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صحافیوں کے بین الاقوامی اتحاد نے پاکستان کو میڈیا کے لئے خطرناک ترین ملک قراردیا اور پاکستان کئی سالوں سے میڈیا کے لئے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا جارہا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ سال 2014ء میں 14 صحافی اور میڈیا کے ملازمین جاں بحق ہوئے جس سے اظہار رائے کی آزادی کے تصور کی نفی ظاہر ہوتی ہے۔ 2014ء میں جو 8 صحافی مارے گئے ان میں لاڑکانہ کے شان ڈاہر گھمبٹ، خیر پور کے جیون ارائیں، کوئٹہ کے ارشاد مستوی ،اوستہ محمد جعفر آباد کے افضل خواجہ، حافظ آباد کے یعقوب شہزاد اور ندیم حیدر میانوالی کے شہزاد اقبال اور ایبٹ آباد کے ابرار تنولی شامل ہیں۔

گزشتہ سال کے مارے جانے والے میڈیا کے ملازمین کی تعداد چھ بتائی گئی ہے جن میں لاہور کے محمد مصطفیٰ ، کوئٹہ کے محمد عبدالرسول اور محمد یونس، کراچی کے وقار عزیز خاں، خالد اشرف ارائیں شامل ہیں۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اپنی رپورٹ میں سترہ جنوری کو کراچی اور 18 اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے واقعہ کو میڈیا پر حملوں کی بدترین مثالیں قرار دیا۔ سترہ جنوری کو کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں ایکسپریس کی ڈیجیٹل سیٹلائٹ نیوز گیدرنگ (ڈی ایس این جی) وین پر حملے میںایکسپریس نیوز کے تین ملازمین مارے گئے۔ 28 اگست کو نامعلوم حملہ آوروں نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل اور اے آر وائی نیوز کے ارشاد مستونی کے دفتر میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں اشارد مستوئی کے علاوہ رپورٹر عبدالرسول اور اکائونٹنٹ یونس خاں جاں بحق ہوگئے۔

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بلوچستان میں 30سے زائد صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں اور یہ اعداد و شمار صوبے کے پیچیدہ ماحول میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی ایک بار بھر واضع نشا ندہی کرتے ہیں۔جہاں زندگی کی بقاء کا انحصار باغی تنظیموں و فاداریاں تبدیل کرنے والے متحارب قبائل، انتہا پسند گروپوں، سیکورٹی فورسز، سیاسی جماعتوں اور عدالتوں کی موجودگی میں حساس، متوازن طرز عمل پر ہے۔ ان سب کے صحافیوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس وجہ سے کشیدگی زدہ علاقوں جیسے کہ خضدار میں جز وقتی نامہ نگاروں اور رپورٹروں کی تعداد کم ہورہی ہے۔ میڈیا کی کچھ رپورٹس کے مطابق ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں خضدار پریس کلب کے اراکین کی تعداد 20 سے بھی کم ہو کر سات اور قلات پریس کلب کے اراکین کی تعداد دس سے کم ہو کر صرف چار رہ گئی ہے۔ زیادہ تر صحافی یا تو صحافت چھوڑ چکے ہیں یا پھر کوئٹہ منتقل ہوگئے ہیں۔

’’میڈیا واچ ڈاگ‘‘ اور رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کی میڈیا کی آزادی سے تعلق رکھنے والی فہرست میں پاکستان 180 نمبروں میں سے159ویں نمبر پر ہے۔ گزشتہ سال اس گروپ کی فہرست میں پاکستان کا 158واں نمبر تھا۔ سیکورٹی کی غیر یقینی صورتحال، دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خطرے اور بے پناہ سیاسی رسوخ کو پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے فقدان کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 3 دسمبر کو فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جیو نیوز کی اینکر پرسن ماریہ میمن، رپورٹر عرفان اور حماد احمد کے ساتھ ناروا سلوک کیا ان پر لاٹھیاں برسائیں جبکہ وہ ان کی احتجاجی ریلی کی کوریج کر رہے تھے۔ 12 دسمبر کو کراچی میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جیو ٹیم کی رپورٹر سدرہ ڈار اور عمائمہ ملک اور کیمرہ مین زبیر میمن کو ہراساں کیا۔ جیو نیوز کی ٹیم پر پتھرائو کیا، بوتلیں پھینکیں سینئر تجزیہ کار مظہر عباس اور جیو نیوز کے عملے کو ہراساں کیا۔ لاہور میں اینکر پرسن ثناء مرزا، سہیل وڑائچ، رپورٹر جواد ملک، امین حفیظ، احمد فراز اور کیمرہ مین خواجہ عامر پر پتھرائو کیا گیا۔ کانچ کی گولیاں ماری گئیں۔ اس بدتمیزی پر رپورٹر ثناء مرزا اپنے آنسو نہ روک سکیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.