.

نئے انتخابات اور نئے رولز آف گیم

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آمریت جنرل ایو ب کی ہو، جنرل یحییٰ کی،جنرل ضیاء کی یا جنرل پرویز مشرف کی، ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہ ملک ایک نئے مارشل لاء کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جنرل ایوب کا مارشل لاء ملک کو دولخت کرنے کی بنیادبنا، جنرل یحییٰ کے مارشل لاء میں یہ افسوسناک عمل پایہ تکمیل کو پہنچا۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء نے ملک کو انتہاپسندی، مذہب فروشی اور فرقہ واریت کے تحفے دیئے جبکہ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء نے دہشت گردی کی آگ کو گھر گھر پہنچا دیا۔ جمہوریت کے تسلسل پر اصرار حب الوطنی کا اولین تقاضا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کونسی اور کیسی جمہوریت ؟۔ کون نہیں جانتا کہ پیپلز پارٹی کی جمہوریت نے ہمیں کرپشن کا تحفہ دیا، مسلم لیگ (ن) کی جمہوریت نے ہمیں خاندانی آمریت، منافقت اور غیرمحسوس مگر ناقابل تصور کرپشن کے تحفے دیئے جبکہ تحریک انصاف کی جمہوریت نے ہمیں ہٹ دھرمی، بدتہذیبی اور بدزبانی کا تحفہ دیا۔ افرادکے لحاظ سے دیکھیں تو پرویز مشرف کی محدود جمہوریت کے تحفے شوکت عزیز، ظفراللہ خان جمالی اور چوہدری شجاعت وغیرہ تھے۔

زرداری صاحب کی جمہوریت کے تحفے وہ خود ، سید یوسف رضاگیلانی، راجہ پرویز اشرف اور رحمان ملک وغیرہ تھے ۔ میاں نوازشریف کی جمہوریت کے تحفے ان کا خاندان اور اسحاق ڈار وغیرہ ہیں جبکہ عمران خان صاحب کی جمہور یت کے تحفے پرویز خٹک ، شاہ محمودقریشی اور اعظم سواتی وغیرہ ہیں۔ چوہدری برادران ہوں، زرداری خاندان ہو یا پھر شریف خاندان ، ان کی دولت سے یورپ اور برطانیہ کے بینک بھر گئے اور اثاثے برطانیہ سے امریکہ تک یا فرانس سے عرب دنیا تک پھیل گئے۔ خان صاحب ابھی براہ راست حکومت میں نہیں آئے لیکن ا س سے قبل بھی ان کے سب سے قیمتی اثاثے یعنی بچے (سابقہ اور موجودہ اہلیہ کے ) برطانیہ میں ہیں۔ اب ایک اور حوالے سے دیکھ لیجئے۔

شوکت عزیز، جمالی اور چوہدری شجاعت کی جمہوریت میں ایل ایف او اور اسی نوع کے دیگر ایشوز کا غلغلہ رہا اورپاکستان کے اصل مسائل (غربت،جہالت مہنگائی، بدامنی، انتہاپسندی ، دہشت گردی ، وسائل کی غیرمساوی تقسیم وغیرہ) کبھی ایک دن کے لئے بھی سیاست اور صحافت کے موضوعات نہ بن سکے۔ آصف علی زرداری کی جمہوریت کے پانچ سال ججز بحالی، آئینی ترامیم اور فوج کے ساتھ کشمکش میں گزرگئے اور اس میں بھی اصل ایشوز موضوع بحث نہ بن سکے۔ جب سے میاں نوازشریف کی جمہوریت کا آغاز ہوا تو سیاسی اور صحافتی افق پر دھاندلی، چار حلقے، دھرنے ، سول ملٹری تعلقات اور اسی نوع کے دیگر ایشوز چھائے ہوئے ہیں اور ملک یا عوام کو درپیش اصل مسائل کبھی بھی موضوع بحث نہ بن سکے۔ حالانکہ اس وقت تقریباً تمام بڑی جماعتیں اقتدار میں ہیں ۔اے این پی، بی این پی (مینگل) ، سندھی قوم پرستوں اور ایم کیوایم جیسی چھوٹی اور قوم پرست جماعتوں کے علاوہ سب قومی جماعتیں حکومت کررہی ہیں ۔ مسلم لیگ(ن) مرکز ، پنجاب ، فاٹااور گلگت بلتستان میں حکمران ہے ۔جے یو آئی مرکز میں حکومت میں حصہ دار ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پختونخوامیں جبکہ پختونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی بلوچستان میں حکمران ہیں لیکن کسی ایک جگہ بھی عوام کو کوئی حکومت کوئی ریلیف نہ دے سکی۔

لگتا ہے کہ بدانتظامی، بدعنوانی اور نااہلی میں مرکز اور باقی وفاقی اکائیوں کے درمیان مقابلہ ہورہا ہے اور اندر جھانک کر دیکھا جائے تو سب کا ایک دوسرے کے ساتھ ایک غیرمحسوس مک مکا بھی نظر آتا ہے اورشاید یہی وجہ ہے کہ کوئی ایک بھی احتساب کے نظام یا پھر گڈگورننس کے لئے حقیقی دبائو نہیں ڈال رہا۔ مسلم لیگ(ن) مرکز اور پنجاب میں اقتدار چھوڑنا تو درکنار اپنے خاندان سے باہر منتقل کرنے کو بھی تیار نہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ کہتی ہے کہ سندھ اور کے پی کے میں دھاندلی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کا اصرار ہے کہ پنجاب میں دھاندلی ہوئی ہے لیکن خیبرپختونخوا کی حکومت اور قومی اسمبلی کی سیٹیں چھوڑنے کو تیا رنہیں۔ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ پنجاب ، پختونخوا ، بلوچستان اور کراچی میں دھاندلی ہوئی ہے لیکن سندھ کی حکومت چھوڑنے کو تیار نہیں۔ دھاندلی کے الزام میں ممبران مسلم لیگ (ن) کے ممبران بھی نااہل ہوئے، تحریک انصاف کے بھی اور پیپلز پارٹی کے بھی۔

ٹریبونل کی طرف سے انتخابی بے قاعدگیوں کی بنیاد پر بعض حلقوں کے انتخابات سندھ میں بھی کالعدم قرار دیئے گئے ، پختونخوا میں بھی اور پنجاب میں بھی جبکہ بلوچستان اور فاٹا کے انتخابات میں دھاندلی کے ہونے کا تو ہر کوئی معترف ہے۔ اب جب کہ گزشتہ انتخابات کے دھاندلی زدہ اور موجودہ جمہوری نظام کے ناکام ہونے پر اتفاق ہے ۔تو پھر کیوں نہ دوبارہ انتخابات کرائے جائیں ۔ جب ہر کوئی دیکھتا ہے کہ تمام اہم جماعتوں کے مقتدر ہونے کے باوجود اصل مسائل زیربحث آرہے ہیں اور نہ ا ن کے حل کی طرف کوئی پیش رفت ہورہی ہے ۔ جب پارلیمنٹ بے اختیار ہے اور جب قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے اہم معاملات فوج کے سپرد ہیں تو پھر کیوں نہ نئے انتخابات کرائے جائیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ انتظام کے تحت دوبارہ انتخابات ہوں گے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ نیا سیٹ اپ موجودہ سیٹ اپ سے کیوں کر مختلف ہوگا؟اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ نئے انتخابات کے بعد دوبارہ یہی دھاندلی دھاندلی کا شور نہیں مچے گا اور سیاسی و صحافتی افق پر اسی طرح دوبارہ نان ایشوز غالب نہیں آئیں گے۔یہ ایک اہم سوال ہے اور یقینا اگر موجودہ آئینی ا سٹرکچر میں، موجودہ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ، موجودہ انتخابی قوانین کے تحت انتخابات ہوتے ہیں تو حکومت جس بھی جماعت کی آئے، ملک کے لئے نتائج ہر گز مختلف نہیں ہو ں گے ۔

یقینا بنیادی اصلاحات کئے بغیر دوبارہ انتخابات ہوئے اور پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو پورے ملک کا حال سندھ جیسا ہوگا،پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو پورے ملک کا حال پختونخوا جیسا ہوگا، مسلم لیگ(ن) اقتدار میں آئی تو پورا ملک اسی طرح بدحال ہوگا جیسا کہ اب ہے۔اس تناظر میں جمہوریت اور باالفاظ دیگر ملک کے بچائو کا واحد راستہ یہ ہے کہ فوری طور پر آئینی، انتخابی اور انتظامی اصلاحات کے لئے ایک قومی کمیشن بنایا جائے۔ وہ کمیشن حقیقی معنوں میں قومی کمیشن ہو جس میں تمام قومی اور علاقائی قوتوں کو نمائندگی حاصل ہو۔ اس میں فوج ، عدلیہ اور سول بیوروکریسی کو بھی نمائندگی ملنی چاہئے ۔ یہ کمیشن ہنگامی بنیادوں پر اٹھارویں آئینی ترمیم تیار کرنے والی کمیٹی کے طرز پر کام کرے۔ میرے نزدیک سینیٹ کے چیئرمین رضاربانی اس کمیشن کی سربراہی کے لئے موزوں ترین شخصیت ہیں لیکن مشاورت سے کسی اور کو بھی سربراہ بنایا جاسکتاہے ۔ یہ کمیشن ایک ماہ کے اندر اندر چند بنیادی امور کے لئے قانون سازی تجویز کرے۔پھر موجودہ پارلیمنٹ ان آئینی ترامیم کی منظوری دے اور اس کے فوراً بعد نئے انتخابات کرائے جائیں۔یہ کمیشن درج ذیل ایشوز سے متعلق اپنی تجاویز دے۔

(1) احتساب کا نظام ۔ ایسا نظام جو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کا بھی احتساب کرے اور جو موجودہ نیب کی طرح ڈرامہ بازی اور سیاسی بلیک میلنگ کا ذریعہ نہ ہو۔

(2) حکومت میں فوج کا آئینی کردار (بعض لوگوں کو یہ تجویز بہت تلخ لگتی ہے لیکن وہ سب اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ اس وقت عملاً ملک فوج ہی چلارہی ہے لیکن چونکہ اس کا یہ کردار آئینی نہیں اس لئے ذمہ داری میں وہ حصہ دار نہیں قرار پاتی ) ۔

(3) انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل ۔ وفاقی یونٹوں اور مرکز کے تعلقات ۔ صوبوں کے اندر اضلاع کے درمیان وسائل اور اختیارات کی تقسیم۔

(4) انتخابی نظام میں اصلاحات اور حقیقی معنوں میں خود مختار الیکشن کمیشن کا قیام

(5) عدالتی نظام میں بنیادی اصلاحات ۔

(6) ریاست اور مذہب کا تعلق اور سیاست میں مذہب کا کردار

(7) سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت لانے کے لئے قانون سازی

(8) مقامی حکومتوں کا ایسا نظام جس کو مستقبل میں کوئی بھی حکومت ختم نہ کرسکے۔

(9) نئے انتخابات کے لئے وقت کا تعین۔

یہ چند نمونے کی تجاویز ہیں جو اس وقت میرے ذہن میں آئیں۔ سیاسی قیادت مشاور ت کے ساتھ ان موضوعات میں کمی بھی کرسکتی ہے اور اضافہ بھی۔ کمیشن کے سوا کوئی اور طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ مدعا اصل میں یہ ہے کہ ملک کو چلانے اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لئے کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ موجودہ آئینی ا سٹرکچر اور موجودہ طرز حکومت کے ساتھ ملک کا چلنا ناممکن ہے ۔ معاملات اسی طرح چلتے رہے ۔ حکومتیں اسی طرح چلتی رہیں اور سیاسی و صحافتی افق پر قوم کے مسائل کی بجائے اسی طرح سیاسی شخصیات کے مسائل چھائے رہے تو جلد یا بدیر جمہوریت کا بوریا بستر گول ہوجائے گا اور مکرر عرض ہے کہ یہ ملک ایک اور مارشل لا کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.