.

چوتھا بچہ

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

محترم نجم سیٹھی کا شمار باخبر ذرائع میں ہوتا ہے۔ آپ کی براہ راست یا بالواسطہ رسائی فیصلہ ساز اداروں تک ہے چاہے وہ سمندر پار ہوں یا مقامی۔ اس لئے انکی دی گئی خبر بالعموم درست نکلتی ہے۔ تازہ خبر انکے ٹی وی پر پروگرام سے یہ معلوم ہوئی ہے کہ ایک نئی ایم کیو ایم بنائی جا رہی ہے۔

خبر کے درست ہونے میں شبہ کم ہی لگتا ہے، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس نئی ایم کیو ایم کی شناخت کیا ہو گی، یعنی یہ کیسے پہچانی جائے گی؟ اس سے پہلے بھی ایک نئی ایم کیو ایم بنائی گئی تھی جسکی شناخت اسکے نام کے ساتھ لگے حقیقی کے لفظ سے ہوتی تھی۔ یعنی ایم کیو ایم حقیقی۔ اب اس تیسری ایم کیو ایم کا پورا نام کیا ہوگا؟ فیصلہ سازوں نے یقینا پورا نام تجویز کر لیا ہوگا۔ ہو سکتا ہے نیا نام ایک کیو ایم (اصلی) رکھا جائے۔

ایم کیو ایم وہ ہوتی ہے جسکا قائد الطاف حسین ہو۔ ایم کیو ایم حقیقی اس لئے ناکام ہوئی کہ اسکے قائد کا نام الطاف حسین نہیں تھا، چنانچہ امید ہے کہ اس بار جو اصلی ایم کیو ایم بنائی جائے گی، اسکے قائد کا نام الطاف حسین ہوگا جسکے ساتھ بریکٹ میں (اصلی) بھی درج ہوگا۔ یعنی متحدہ قومی موومنٹ (اصلی) سربراہ الطاف حسین (اصلی)۔

یہ الطاف حسین تلاش کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔ ڈھیروں اصلی الطاف حسین مل جائیں گے۔ مل کیا جائیں گے، موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اصلی ایم کیو ایم کا قائد عشرت العباد کو بنایا جا سکتا ہے۔ اخبار میں بس ایک اشتہار اس مضمون کا دینا پڑے گا کہ : ‘‘ میں نے اپنا نام عشرت العباد سے بدل کر الطاف حسین (اصلی) رکھ لیا ہے۔ آئندہ مجھے اسی نام سے لکھا اور پکارا جائے۔ فقط الطاف حسین (اصلی) سابقہ عشرت العباد’’۔

ضروری نہیں کہ عشرت العباد ہی کو اصلی الطاف حسین بنایا جائے ۔ متحدہ کے سابق سیکٹر کمانڈر تعینات راولپنڈی جنرل مشرف کو بھی یہ ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ وہ اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی نبھانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ مثلا کارگل کی ذمہ داری، 12 مئی کے قتل عام پر راولپنڈی میں بھنگڑا فرمانے کی ذمہ داری، کشمیر کاز کو زندہ درتابوت کرنے کی ذمہ داری اور بہت سی ذمہ داریاں۔ لیکن کسی کے خیال میں وہ اگر پیرانہ سالی کے سبب زیادہ ذمہ داریاں نبھالنے کے قابل نہ رہے ہوں، (یہ محض بدگمانی ہے، ورنہ ابھی انکی عمر ہی کیا ہے) تو انکے ڈپٹی بریگیڈیئر ریٹائرڈ قریشی کو بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے۔ امید قوی ہے کہ ان سے فرمائش کی جائے تو وہ ہر گز انکار نہیں کریں گے۔ انکار تو شیخ رشید بٹ بھی نہیں کریں گے لیکن انہوں پھر لال حویلی کا نام بدل کر نائن زیرو رکھنا پڑے گا۔ وہ نہیں تو چودھری پرویز الٰہی ورنہ چودھری کامل الہی آغا تو کہیں گئے نہیں۔

ارے اصلی نام تو رہا جاتا ہے۔ مذکورہ حضرات میں سے کوئی بھی میرٹ پر پورا نہ اترے تو اپنے پاشا خان شجاعی سے بہتر کہاں ملے گا؟ دس بارہ برس تک تو انہوں نے ایم کیو ایم کی آبیاری کی ، پھر پنجاب سے ایک دیسی ایم کیو ایم بعنوان تحریک ‘‘ان۔ صاف’’ کھڑی کی۔ انکی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔ پاشا خان شجاعی سے یاد آیا، انکے پیر ومرشد ریمنڈ ڈیوس کو بھی تو آزمایا جا سکتا ہے۔ انکی پاکستان سے کمٹمنٹ تو حلقہ ہائے محب الوطنان میں ایک شامل ہے۔

یہ تو ہو گئی ایک منظر کی تکمیل ۔ اگلے منظر کے حوالے سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ موجودہ ایم کیو ایم کا کیا ہوگا۔ کیا اسے غیر اصلی قرار دے کر ممنوع قرار دے دیا جائے گا؟ مختلف اسمبلیوں میں قراردادیں آ رہی ہیں کہ اس جماعت پر پابندی لگا دی جائے، کیا اس مطالبے کو شرف قبولیت آنے والے وقت میں بخشا جائے گا یا شرف قبولیت پہلے ہی بخشا جا چکا ہے، قراردادیں بعد میں آئی ہیں؟ ایک اخبار کی قیاس آرائی ہے کہ پابندی جیسی صورتحال بن رہی ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ الطاف حسین نے را سے مدد مانگنے والی جو بات کی تھی وہ معافی کے قابل نہیں ہے۔ لیکن یہ وجہ تو بعد میں بنی۔ یعنی را سے مدد رات کو مانگی گئی جبکہ ایک ایس پی صاحب اس سے بارہ گھنٹے پہلے دن دہاڑے متحدہ کو را ایجنٹ کہہ کر اس پر پابندی لگانے کی سفارش کر چکے تھے۔

اور یہ ایس پی صاحب ایسے ایس پی ہیں کہ جنکی مثال پاکستان کیا، بھارت، بنگلہ دیش بلکہ سارے سارے ممالک میں نہیں ملے گی۔ سنا ہے کہ ڈیڑھ دو سو پٹھان بچے طالبان اور القاعدہ قرار دے کر انہیں مقابلوں میں پار کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اداکارائیں جو انکی ‘‘سفارشات‘‘ کی تکمیل سے انکاری کی مرتکب ہوئی تھیں، یا مزید تکمیل سے انکاری تھیں، یہ ایس پی صاحب انہیں بھی ہلاک فرما چکے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ جن تھانوں میں تعینات ہوتے ہیں ، وہاں سمگلنگ وغیرہ کے نقد آور کاروبار سو نہیں، ہزار گنا چمک اٹھتے ہیں۔ ایک اخبار نے تفصیل میں بتایا کہ شراب کی سمگلنگ، تیل کی چوری، قبضہ گروپ وغیرہ کے امور میں آپ کے ہاتھ پاؤں خوب چلتے ہیں اور اسی بدولت آپ ماشاء اللہ 'بلینائر کلب' میں شامل ہو چکے ہیں۔ ایسی بابرکت اور عظیم ہستی کی سفارش پر عمل ہونا ہی چاہیے۔

ضرور پابندی کا فیصلہ ایسی سفارش کی وجہ سے ہوا ہو گا ورنہ را سے تعلقات پاکستان کے خلاف بیانات ٹارگٹ کلنگ اور دوسرے کار ہائے خیر تو متحدہ عرصہ 20 سال سے کرتی چلی آ رہی ہے کبھی کوئی پتہ نہیں ہلا،؟ بلکہ ریاست نے قدم قدم پر پاسبانی کی۔

12 مئی کے قتل عام پر ریاست کو سربازار می رقصم ساری دنیا نے دیکھا ۔ دس بارہ برسوں میں ہزار کے لگ بھگ پولیس والے قتل کر دئے گئے، ہزار دو ہزار سیاسی مخالفین عبرتناک موت کا شکار بنا دئے گئے کہ سب اصولی طور پر بوجہ غدار ہونے کے موت کے حقدار تھے۔ ریاست کے کان پر کسی رینگنے والی شے نے رینگنا تھا نہ رینگی۔ اور ابھی سال بھر پہلے ایک فیکٹری میں 300 مزدور زندہ جلا دیئے گئے، باخبر ریاست بدستور بےخبر رہی۔ اب جو یکا یک پابندی کا ماجرا اٹھا ہے تو یہ بیس سالہ کارہائے نمایاں اسکا سبب ہرگز نہیں ہو سکتے۔ ضرور یہ اس ولی صفت ایس پی کی سفارش کا اثر ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ولی صفت ایس پی نے جو یہ سفارش کی تو اسکی وجہ وہ کشف ہوگا جو ان پر سمائے ملکوت سے نازل ہوا۔

بہر حال ، ریاست دو عشروں بعد تیسرا بچہ جنم دینے جا رہی ہے۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے، پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ ۔ خدا زچہ بچہ کو سلامت رکھے۔ الطاف حسین (غیر اصلی) نے کچھ سال قبل یہ لے اٹھائی تھی کہ پردہ نہ اٹھاؤ، پردے میں رہنے دو۔، لگتا ہے یہ لے وہ ہالہ ب گئی ہے جسے رسا نہیں باندھتے۔ اور ہاں تصحیح کر لیجئے تیسرا نہیں چوتھا بچہ۔ خدا جانے لکھتے ہوئے کیوں خیال نہیں رہا کہ تحریک ’’ان۔ صاف‘‘ بھی تو ہے۔ ایک باریش بچہ اور بھی تھا، بے چارہ چھلے ہی میں کینڈا کو انتقال فرما گیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’خبریں‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.