.

یمن جنگ کے محور

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن بحران میں متعدد فریق ملوّث ہیں مگر ان میں بڑے محور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی فورسز اور حوثی ایک جانب ہیں اور یمنی حکومت ،جو اس وقت بیرون ملک قائم ہے اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد دوسری جانب ہیں۔وہاں القاعدہ بھی موجود ہے۔

ان محوروں کے ہوتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب تک صالح اور حوثیوں کی جنگی صلاحیتوں کو ختم نہیں کردیا جاتا،اس وقت تک یہ جنگ کئی مہینے اور شاید کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ایسا نہ صرف فوجی طاقت کے استعمال کے ذریعے کیا جانا چاہیے بلکہ فوجی اور قبائلی قوتوں کو بھی حکومت کی حمایت کی جانب راغب کیا جانا چاہیے کیونکہ فی الوقت تو اس معاملے میں علی عبداللہ صالح کو برتری حاصل ہے۔

اب جنگ صرف دارالحکومت صنعا اور عدن تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ یہ یمن کی اکیس میں سے دس گورنریوں میں لڑی جارہی ہے۔یعنی آدھے ملک میں لڑائی جاری ہے۔مزید برآں حوثیوں نے سعودی عرب کے سرحدی شہروں پر گولہ باری کرکے ایک نیا محاذ کھول لیا ہے۔اس کی بالکل آغاز سے توقع کی جارہی تھی کیونکہ یہ سعودی مملکت کے خلاف سماجی اور پروپیگنڈا دباؤ ڈالنے کے لیے ایک اہم حربہ ہے۔

ایرانی کردار

درایں اثناء ایرانی اور ان کے اتحادی میڈیا کے ذریعے صورت حال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انھوں نے جنگ کے واقعات کی بھرپور کوریج شروع کررکھی ہے۔وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یمن ہی ایک ایسی دلدل ہے جہاں سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کے دوسرے تنازعات کی نسبت زیادہ مصروف رکھا جاسکتا ہے۔

علی صالح اور حوثی کیمپ کی ہتھیاروں اور تجربہ کار جنگجوؤں کے ذریعے مسلسل حمایت کی کوششیں کی جارہی ہیں۔تاہم یہ کوششیں اب تک تو بحری اور فضائی ناکا بندی کی وجہ سے ناکامی سے ہی دوچار ہوئی ہیں۔

اس تنازعے کو ایک واضح فتح کے ساتھ ختم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ متعدد فریقوں کی موجودگی میں قریب قریب ناممکن ہے یا پھر ایسی کافی فتوحات حاصل کر لی جائیں کہ جس سے مخالف فریق بات چیت پر مجبور ہو جائے۔ دراصل موخرالذکر حکمت عملی ہی اس جنگ کا بڑا مقصد ہے۔جنگ کا دوسرا منظر نامہ تو تمام فریقوں کے تھک ہار جانے تک جاری رہ سکتا ہے کیونکہ انھوں نے افغانستان کی طرح ابھی تک اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

حوثیوں کو سرحدی چوکیوں پر حملوں اور ان کے ہمسایہ سعودی شہروں کی جانب گولہ باری سے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔دونوں ملکوں کے درمیان ایک طویل سرحد میں جغرافیہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔حوثیوں کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ سعودی عرب کے شمال سے جنوب کی جانب لڑتے ہوئے مارچ کرسکیں۔

آگ کے شعلے بھڑکانا

وہ سرحد پار گولہ باری کرکے اور سرحد کے نزدیک واقع سعودی علاقوں میں روزمرہ معمول کی شہری زندگی میں رکاوٹیں کھڑی کرکے آگ کے شعلے بھڑکائے رکھ سکتے ہیں۔تاہم اس سے جنگ کا سیاسی راستہ تبدیل نہیں ہوگا۔

اس جنگ کا سب سے اہم پہلو اس کی شدت نہیں بلکہ یمن کی داخلی تقسیم اور قبائلی اتحاد ہیں۔اس بات کی کوششیں کی جارہی ہے کہ یمن کے مختلف قبائل کو علی عبداللہ صالح اور حوثیوں کی حمایت سے دستبردار ہونے اور قانونی حکومت میں شمولیت پر آمادہ کیا جاسکے کیونکہ وہی یمن کے اتحاد اور آزادی کی علامت ہے۔

---------------------------------------------------

(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے خیالات سے العربیہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.