آئین نو…UNREPORTED INDIA

ڈاکٹر مجاہد منصوری
ڈاکٹر مجاہد منصوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

نئی دہلی دنیا کے مصروف ترین نیوز اسٹیشنز(خبری مراکز) میں سے ا یک ہے جہاں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ عامہ(ٹی وی، ریڈیو، خبر رساں اداروں اور اخبارات و جرائد) کے بیوروز اور نمائندگان کی تعداد 200 سے بھی زائد ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہئے کہ عالمی آبادی کا چھٹا حصہ بھارتیوں پر مشتمل ہے، پھر یہ انتخابات کے انعقاد میں تسلسل کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ بھارتی صحافی خود بھارت کو آزادی اور غیر جانبداری سے رپورٹ کریں، پھر عالمی میڈیا کی بھی پیشہ ورانہ ضرورت ہے کہ وہ عالمی آبادی کے چھٹے حصے پر محیط بھارت کی صورتحال کے ان حقائق کو مسلسل اور مفصل رپورٹ کرے جس کا تعلق انسانی دلچسپی کے امور خصوصاً عوام الناس کی حالت، ان کی آزادی و خود مختاری اور بنیادی حقوق کی حالت سے ہے۔ یہ ہی نہیں جائے وقوع اور عالمی سیاست میں جنوبی ایشیاء کی اہمیت نے بھی نئی دہلی میڈیا حب بنادیا ہے ۔ چین اور پاکستان کی ہمسائیگی ، مسئلہ کشمیر، پھر خود بھارت، چین اور پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے اور بحر ہند کے شطرنجی ماحول کی ایک اپنی اہمیت ہے۔

ابلاغ عامہ کے ایک طالبعلم اور میڈیا کریٹک کی حیثیت میں خاکسار کا نوٹس ہے کہ نئی دہلی بیسڈ عالمی میڈیا، بری طرح پیشہ ورانہ بحران میں مبتلا….نئی دہلی کے تعلقات عامہ سے بلند درجے پر متاثر اور تھیوری آف پولیٹکل اکانومی کا شکار ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت کرنا مشکل نہ ہوگا کہ کسی غیر ملکی صحافی کی نئی دہلی میں تقرری اس کی پیشہ ورانہ اہلیت میں کمی کا باعث بنتی ہے کیوں؟ اس کے جواب میں تشکیل پانے والے خاکسار کے تحقیقی مفروضے (HYPOTHESIS) کے انڈیکیٹر دلچسپ اور ایک سے زائد ہیں۔ صرف اس سوال پر ہی تحقیق ہو کہ پورے جنوبی ایشیاء کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے یہ تو نئی دلی بیسڈ میڈیا بری طرح لاپروائی کا شکار ہے ہی، وہاں کی تحریک آزادی میں جو کچھ ہوچکا ہے اور ہورہا ہے اسے رپورٹ کرنے میں اس میڈیا کی پیشہ ورانہ لاپروائی فلیش پوائنٹ (جیسا کہ سابق امریکی صدر کلنٹن نے اسے قرار دیا تھا)، کشمیر کی رپورٹ میں بھارتی حکومت کی پیدا کی گئی رکاوٹیں اور انہیں کشمیر کو رپورٹ کرنے کو ایک ’’پرخطر اقدام‘‘ کا ابلاغ اس کی واضح مثال ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بننے والی جدید عالمی تاریخ میں دہشت گردی کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ اقوام متحدہ کی قرار داد پر عملدرآمد کرانے والی تحریک کے جرم میں تحریک چلانے والوں کی خواتین کو ریاستی فوجیوں نے گینگ ریپ جیسی دہشت گردی کرکے تحریک ختم کرنے کا حربہ استعمال کیا گیا ہو اور یہ لاکھوں فوج کی تعیناتی سے پیدا ہونے والے اور اس کے خلاف حق خود ارادیت کو تسلیم کرانے کی مزاحمت کے ماحول میں ہوا۔ میڈیا اتمام حجت کے طور پر ا ور نئی دہلی میں اپنی موجودگی کے حوالے سے ضرور کوئی ڈھیلی ڈھالی اور لو پروفائل رپورٹ سے اپنا دفاع کرلے تو کرلے لیکن واقعات کی نوعیت ا س میں تسلسل اور انسانی اعتبار سے تشویش کے حوالے سے دیکھا جائے تو نئی دہلی کا عالمی میڈیا اس حوالے سے اپنی پیشہ ورانہ موت کے قریب معلوم دیتا ہے۔

پھر کشمیر ہی نہیں، چار سال قبل تک بھارت میں بھارتی آئین کے خالق ڈاکٹر ایمبیڈ کر (جنہوں نے مرنے سے پہلے بدھ مت قبول کرلیا تھا) کے اچھوت پیروکاروں نے ماس کنورژن(اجتماعی تبدیلی مذہب) کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کے تحت ممبئی میں 50 ہزار اور پونا میں بھی اس سے زائد اچھوتوں نے ہندو مت سے نجات حاصل کرکے بدھ مت کی قبولیت کی۔ یہ سالانہ سلسلہ جاری تھا کہ راشٹریہ سیوک سنگ انہیں اس راہ سے ہٹانے پر سرگرم ہوگئی، پھر گجرات قتل عام کے بڑے ملزم نریندر مودی کو پویتر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ بھارت میں جیسے سینکڑوں انتہا پسندانہ سرگرمیوں کے نتیجے میں گاندھی نہرو کا سیکولر ازم ٹھکانے لگا اور ہندو بنیاد پرستی سر چڑھی اتنا کہ بھارتی میڈیا اس کا ایجنٹ بن کر کیسےاس کا معاون بنا؟ صحافتی اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کے اس پہلو کو مسلسل رپورٹ کرنا بہت دلچسپ اور پیشہ واریت کا بڑا تقاضا نہیں تھا؟نئی دلی بیسڈ میڈیا کے نزدیک نہیں تھا۔

نتیجہ یہ ہے کہ آج جبکہ مودی، بین الاقوامی میڈیا کے پیشہ ورانہ طور پر سوئے رہنے سے برسراقتدار آگئے ہیں تو ،حکمران پارٹی کی دیدہ دلیری کا گراف کا اندازہ لگالیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر زبردستی ہندو بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی کانگریس میں بھارت میں بنیادی حقوق کی پامالی کے اس حصے کا ذکر تو ہوا ہے لیکن کانگریس اور امریکی انتظامیہ کی طرف سے بعد از رپورٹ تشویش کا اظہار ناپید ہے، اس کی بھی بالواسطہ اور کسی حد تک ذمہ داری نئی دہلی بیسڈ بین الاقوامی میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ بھارت کی مشرقی ریاستوں آسام ،ناگا لینڈ، منی پور میں ’’بھارتی‘‘ شہری جس طرح شہری حقوق سے محروم ہیں، اس صورتحال کو نئی دہلی میں تعینات کتنے ٹی وی چینل اور دوسرے نمائندگان وہاں جاکر رپورٹ کرنے کے اہل ہیں۔ جتنی ان کی حکومتیں بھارت سے اپنے تعلقات اور مفادات کے حوالے سے بھارت میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اپنی آئینی ضمانتوں کی پامالی سے قطعی لاپروا ہیں، اتنا ہی نئی دلی کا عالمی میڈیا اس صورتحال کو رپورٹ کرنے سے غافل ہے۔

آج بھی بھارت کے دور دراز علاقوں میں اچھوتوں کے ساتھ جو سلوک سماجی سطح پر ہورہا ہے وہ بھارتی میڈیا تو نیشنلزم کے جذبے سے رپورٹ نہیں کرتا کہ اس کی قوم پرستی رولنگ کلاس اور حکومتی پالیسیوں تک ہی محدود ہے۔ جس پر یہ توازن بھی قائم نہیں رکھ سکتا بلکہ پروفیشنلزم قربان کردیتا ہے۔ کپیسٹی کے اعتبار سے پاکستانی یونیورسٹیوں، ریجنل اسٹڈی کے تحقیقاتی اداروں، خصوصاً اساتذہ اور ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کے لئے یہ خالی پڑا ہوا بہت بڑا اور نیا ریسرچ ایونیو ہے کہ وہ بالی وڈ کلچر میں لپٹے بھارت کے اپنے (اور کسی حد تک انٹرنیشنل میڈیا) میں پیش کی گئی تصویر کے پس پردہ اصل حقائق اور انہیں رپورٹ کرنے میں نئی دہلی بیسڈ میڈیا کی لاپروائی یا مجبوری کو اپنی تحقیق کا موضوع بنائیں.

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں