.

را‘‘ کے ایجنٹوں کیخلاف کارروائی

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کی سرگرمیاں پاکستان میں بہت زوروشور کیساتھ ایک عرصے سے جاری ہیں، ان کا ذکر اخبارات میں آتا رہا ہے مگر یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کورکمانڈرز کانفرنس نے 5 مئی کو اِس کا نوٹس لیا اور اس پر اظہارِتشویش کیا اور کہا کہ عسکریت پسندوں سے پاک پاکستان کے قیام پر پوری قوم پُرعزم ہے، اس سلسلے میں سیکورٹی ادارے جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ قابل تعریف ہیں اور بقول کورکمانڈرز کانفرنس کے وہ قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دینگے۔

انہوں نے مجرموں اور اُنکے سہولت کاروں کیخلاف کارروائی تیز کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ، دنیا بھر میں اسے ایک غیر معمولی بیان مانا گیا کہ ایک عرصہ دراز سے ’’را‘‘ کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں، افغانستان میں امریکہ کے زیرسایہ قائم حامد کرزئی کی حکومت اِس سلسلے میں بھارت کو سہولتیں فراہم کرتی رہی۔ وہاں کئی قونصل خانے صرف اسلئے کھولنے کی اجازت دی گئی کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دیں۔ انہوں نے نہ صرف فاٹا بلکہ بلوچستان میں اپنی نرسریاں قائم کرلیں جو مسلکی لڑائی کرانے اور بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور فنڈز فراہم کرنے میں پیش پیش رہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ جہاں پاکستان معاشی، سیاسی اور فوجی اعتبار سے مضبوط ہورہا ہے وہاں پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف ’’ضربِ عضب‘‘ کے حوالے سے جو کارروائیاں کیں اس سے دہشتگردوں کو راہ فرار اختیار کرنا پڑی، اب وہ اسکول کے بچوں اور نہتے اور کمزور لوگوں پر حملہ کرکے اپنے آپ کو بزدلوں، ظالموں اور سفاکوں کی صف میں کھڑا کررہے ہیں۔

پاکستان کی مسلح افواج، ایف سی اور رینجرز نے فاٹا، شمالی و جنوبی وزیرستان میں اُن کی فیکٹریوں اور اُن کے محفوظ ٹھکانوں پر حملہ کرکے اُن علاقوں کو اِن دہشتگردوں سے پاک کردیا مگر جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ اپنی بزدلی کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتے، جیسے انہوں نے اورکزئی ایجنسی میں بچوں پر فٹ بال کھیلتے ہوئے 6 مئی 2015ء کو خود کش حملہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ہمارے سیکورٹی ادارے مستعد تھے۔ بچوں پر حملہ کرنا یا ایسا سوچنا بھی ایک بزدلانا، سنگدلانہ اور سفاکانہ فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، پھر بلوچستان میں ’’را‘‘ نے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے اداروں نے صورتِ حال کو صحیح طریقے سے جانچ لیا ہے اور وہ اُن کے ٹھکانوں اور اُن کے حمایتوں کی اسی طرح نشاندہی کرچکے ہیں جیسا کہ کراچی میں ہوا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے گمراہ لوگوں کی اداروں نے پہلے تلاش مکمل کی اور اُس کے بعد کارروائی کی جس میں اُن کا نقصان کم اور پاکستان دشمن عناصر کا نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح ایک ایس ایس پی رائو انوار نے کراچی کی ایک جماعت کے بارے میں سوال اٹھائے اور جواباً اس جماعت کے قائد نے کئی ایسی باتیں کیں جس سے ہر پاکستانی کی دل آزاری ہوئی۔

اگرچہ انہوں نے معافی مانگ لی، مرکز اور صوبہ سندھ نے قبول بھی کرلی، ممکن ہے پنجاب بھی اسے قبول کرلے مگر صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا نے اُن کے خلاف قراردادیں پاس کر ڈالیں۔ خود اُن کی جماعت کے لوگوں نے یہ کہا ہے کہ وہ ’’را‘‘ کی سرگرمیوں کے خلاف ہیں اور پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایسے لوگوں اور ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کے حق میں رائے دی جن کی بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی سے تعلق ہو۔ دنیا میں بھارت ایک ایسا ملک ہے جس نے اب تک پاکستان کو قبول نہیں کیا، ہمارے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے ، ڈرانے یا دھمکانے سے باز نہیں آتا، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس نے پاکستان کو چھیڑا تو اسکو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی سخت کارروائی سے گریز نہ کیا جائے کیونکہ ہم بھارت کو اِس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرے اور ایسی صورت میں جب پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور چین کی حمایت سے پاکستان کی کمزور معیشت درست حالت میں آگئی ہے اور ایسی صورت میں کہ جب بھارت ہم سے کسی طرح بھی بہتر نہیں رہا ہے۔

یہ بات صاف طور پر ساری دُنیا نے تسلیم کرلی ہے کہ پاکستان اور بھارت کی معاشی اور ملٹری طاقت ہم پلہ اور ہم وزن ہوگئی ہے بلکہ کئی معاملات میں تو پاکستان کی فوجی صلاحیت اور اِس کے دفاعی ہتھیار بھارت کے مقابلے میں بہتر ہوگئے ہیں۔ پاکستان فضائی میدان میں ایک دفعہ پھر بھارت سے بہتر پوزیشن میں آگیا ہے۔ پاکستان کے F-17 تھنڈر طیارہ انتہائی جدید طیارہ ہے، جس میں جدید ریڈار اور جدید آلات لگے ہوئے ہیں۔ پھر اُس کے میزائل ایسے ہیں جس نے بھارت کی برتری کو توڑ کر رکھ دیا ہے جو دشمن کی سرحدکے اندر جاکر 600 سے 800 کلومیٹر کے فاصلے تک ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 400 کلومیٹر تک طیارہ باآسانی جاسکتا ہے اور 300 سے 400 کلومیٹر تک کروز میزائل جو F-17 تھنڈر سے داغا جاسکتا ہے۔ پاکستان ’’رعد‘‘ کروز میزائل انتہائی سبک رفتار، نظر نہ آنے والا اور بے آواز ہے۔ اِسکے ساتھ ساتھ ’’شاہین III میزائل‘‘ بھارت کے جزیرہ انڈیمان اور نکوبار جہاں اُنکے ایٹمی اثاثہ جات رکھے ہیں وہاں تک مار کرسکتا ہے جس سے اُن کی دوسرے حملے کی صلاحیت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

اسی طرح ہمارے ’’آواکس‘‘ طیارے پھر کم فاصلے پر مار کرنے والے ’’انصر‘‘ میزائل جو ایٹمی اسلحہ لے کر ہدف کو 60 کلومیٹر سے160 کلومیٹر تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یعنی اُن کا کولڈ اسٹارٹ ڈوکرائن کہ پاکستان کے کمزور حصوں میں گھس کر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا جائے، کی موت واقع ہوچکی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بھارت مشرقی سرحدوں سے ہم پر دبائو ڈالنے، ڈرانے یا وار کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ سزا پائے گا۔

اب بھارت کی پاکستان کے اندر مداخلت کرنے کی صلاحیت ختم کرنا انتہائی ضروری ہے جس کو ختم کرنے کا بیڑا آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کورکمانڈرز کانفرنس میں اٹھالیا ہے۔ ہم اُن کے اِس قدم کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھارت کی مداخلت کو پوری طاقت سے روکا جائے اور اچھی حکمت عملی بناکر اسے اِس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ نہ صرف یہ کہ بھارت پر سفارتکاری اور اقوام متحدہ کے ہر ادارے کے ذریعے دبائو بڑھایا جائے بلکہ اُن کے یہاں کارندوں اور سہولت کاروں کو بھی تختہ دار پر لٹکایا جائے۔ یاد رہے کہ اس ادارے نے کئی روپ دھارے ہوئے ہیں، اُس کو اب ہر روپ میں پہچان لیا گیا ہے تو بلاتاخیر اُس کے خلاف کارروائی کر دینا چاہئے، پاکستانی عوام خصوصاً کراچی اور بلوچستان کے عوام کو پاکستانی اداروں سے تعاون بڑھانا چاہئے، چھوٹی سی چھوٹی خبر اور اطلاع کو قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچایا جائے تاکہ دشمن کا جال توڑا جاسکے اور دہشت گردی اور مداخلت کاری کے ناسور کا خاتمہ ہوسکے۔ پاکستان عظیم لوگوں کا ایک عظیم ملک ہے اور پاکستان کے عوام محب وطن ہیں، وہ کھل کر دشمن کے خلاف صف آرا ہوں تو اُن کی قدرومنزلت میں اضافے کا باعث ثابت ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.