.

آدھی بیوہ: آدھی بیوی

ریاض احمد سید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ کس کہانی کا عنوان ہے، نہ افسانے کا موضوع، بلکہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جو مقبوضہ کشمیر میں ربع صدی سے جاری و ساری ہے۔ جس کا تعلق کلیتہً صنف نازک سے ہے، اور جن کی تعداد ڈھائی ہزار سے کسی طور بھی کم نہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو بیاہی ہوئی ہیں اور اکثریت بال بچوں والی ہے، مگر ان کے شوہر برسوں سے مفقود الخبر ہیں۔ معمول کے مطابق وہ روٹی روزی کی تلاش میں یا کسی کام کاج کے لئے گھر سے نکلے اور پھر لوٹنا نصیب نہیں ہوا۔ ایسے بدنصیبوں کی بھی کمی نہیں، جنہیں گھروں سے اٹھا لیا گیا۔ اس سارے عرصے میں وارث اپنی سی کرچکے، مگر بے سود۔ وہ تو ایسے گم ہوئے کہ گویا زمین نگل گئی یا آسمان نے اچک لیا۔ یوں تو یہ گمشدگیاں مقبوضہ کشمیر میں ہر جگہ ہورہی ہیں، مگر زیادہ تر کا تعلق کپواڑہ ضلعی سے ہے۔ جس کی سرحد آزاد کشمیر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

کپواڑہ ضلع میں ایک بستی تو ایسی بھی ہے کہ لوگ اس کا اصل نام تک بھول چکے۔ ہر کوئی اسے درد پورہ کے نام سے جانتا ہے۔ حتٰی کہ مغربی اخبار نویسوں نے بھی اپنی سہولت کے لئے اسے Abode of Pain کا نام دے رکھا ہے۔ اس بستی کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ شاید ہی کوئی گھر ہو، جس کا کوئی نہ کوئی مرد مفقود الخبر نہ ہو۔ جنہیں دن کو چین ہے نہ رات کو سکون اور پیاروں کی راہ تکتے تکتے جن کی آنکھیں پتھرا چکیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان کا یہ کرب کب ختم ہوگا، اور ختم ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ بھارتی فوج ان پر غداری کا الزام دھرتی ہے کہ وہ پاکستان کے لئے جاسوسی کرتے ہیں اور سرحد پار سے آنے والوں کو پناہ دیتے ہیں۔ نتیجتاً پورے گائوں کے مرد اٹھا لئے گئے، اور دردپورہ یتیموں اور بیوائوں کی بستی بن کررہ گیا ہے۔ شروع شروع میں غیرملکی میڈیا والوں کو دیکھ کر ان کی ڈھارس بندھتی تھی کہ شاید ان کے دکھوں کا مداوا کرسکیں۔ مگر اب تو وہ ان کی شکل دیکھنے کے بھی روا دار نہیں۔ دور ہی سے کوسنے دینے لگتے ہیں کہ تم نے ہمارے لئے کیا کیا؟ یہی نا، کہ ہماری تصویریں اور کہانیاں بیچ کر پیسے کماتے ہو اور ہمیں تماشہ بنایا ہوا ہے۔

اسی درد پورہ کے ایک باسی دولت شاہ کی داستان مغربی میڈیا میں خاصی مقبول رہی ہے۔ جس کے لئے کپواڑہ یا سری نگرجانا معمول کی بات تھی۔ اکلوتی بیٹی حاجرہ کا جہیز اکٹھا کرنے میں اسے ان شہروں کے کئی چکر لگانا پڑے تھے۔ کپواڑہ تو پیدل کا راستہ تھا، البتہ سری نگر سو کلو میٹر کے لگ بھگ تھا۔ مئی 1993ء کی اس صبح وہ پو پھٹتے ہی بیدار ہوگیا تھا۔ آج اسے جہیز کی بچی کھچی خریداری کے لئے سری نگر جانا تھا، اور وہ پہلی بس پکڑنا چاہتا تھا، تاکہ شام گہری ہونے سے پہلے لوٹ آئے۔ شادی میں صرف تین دن باقی تھے۔ دولت شاہ کو گھر سے گئے 22 برس ہوچکے، وہ ابھی تک نہیں لوٹا۔ جانے زمین کھا گئی یا آسمان نے اچک لیا۔ ماں نے حاجرہ کی رخصتی طے شدہ تاریخ پر کردی۔

کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ دیر سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں۔ گزشتہ ستمبر حاجرہ نے اپنی پہلوٹی کی بیٹی بھی بیاہ دی۔ جس کے نانا کا ابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں۔ دولت شاہ کی بیوی کا انتظار بدستور جاری ہے۔ وہ راتوں کو دروازہ کھلا چھوڑ کر سوتی ہے اور معمولی سی آہٹ پر بھی چونک اٹھتی ہےکہ شاید اس کا سہاگ پلٹ آیا۔ برطانوی رپورٹر لیوٹس کے ایک سوال Why was she hoping against hope? کہ وہ امید کے خلاف پرامید کیوں ہے، کے جواب میں 64 سالہ عفیفہ نے کہا تھا ’’کیونکہ ہم نے اسے زندہ سلامت رخصت کیا تھا، وہ مرا نہیں غائب ہوا ہے۔ اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتار دیتے تو صبر آجاتا، اب تو عالم یہ ہے کہ روز جیتے ہیں اور روز مرتے ہیں۔ اس عذاب سے اللہ کسی دشمن کو بھی نہ گزارے‘‘۔

ان بدنصیب خواتین کا المیہ یہ ہے کہ وہ بیوہ ہیں نہ سہاگن۔ ان کے شوہروں کو گھر کی راہ دیکھے مدتیں بیت گئیں۔ مگر آس کی امید کی ڈوری نہیں ٹوٹی۔ ایسے میں وہ دوسری شادی بھی نہیں کرسکتیں۔ ان میں وہ خواتین بھی شامل ہیں، جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھیں۔ ہاتھوں کی مہندی بھی نہ اتری تھی کہ اس المیے کا شکار ہوگئیں۔ ان کے بال بچے بھی نہیں۔ مگر ایک موہوم سی امید کے ساتھ بندھی بوڑھی ہوتی جارہی ہیں۔ بعض تو اس تصور سے بھی خوفزدہ ہیں کہ اگر دوسرے نکاح کے بعد پہلا شوہر آگیا، تو کیا ہوگا؟ اس حوالے سے اننت ناگ میں ہونے والا ایک واقعہ زبان زد عام ہے، کہ عقدثانی کے اگلے ہی روز پہلا شوہر لوٹ آیا تھا، تو خاتون کو عقدثانی فسخ کرانے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑے تھے۔ ایک مدت تک علماء کرام یہی طے نہ کرسکے کہ شوہر کتنا عرصہ غائب رہے، تو بیوی دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ چار برس سے لے کر 90برس کی مدت تک کے فتوے آتے رہے۔ خدا خدا کرکے دسمبر 2013ء میں چار برس کے حق میں فیصلہ ہوگیا۔ مگر سماجی اور معاشرتی بندھن اس قدر طاقت ور ہیں کہ اجازت کے باوجود شاید ہی کسی آدھی بیوہ نے یہ آپشن استعمال کیا ہو۔ درد پورہ کی ہی ایک خاتون کا اس حوالے سے تبصرہ چشم کشا ہے۔ کہ یہاں تو کنواریوں کو کوئی نہیں پوچھتا، عقدثانی والیوں کے لئے بر کہاں سے آئیں گے؟

یہ بے حد پسماندہ اور لاعلم لوگ ہیں اور ازخود کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ ایسے میں انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں ان کی دستگیری کرتی ہیں، اور انہیں اس نہ ختم ہونے والی اذیت سے نجات دلانے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک تنظیم نے 2009ء میں 2700 کے لگ بھگ اجتماعی قبروں کی نشاندہی کی تھی۔ اور مطالبہ کیا تھا کہ انہیں کھول کر سب کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ یوں بہت سے گم شدگان کی شناخت ہوجائے، اور انتظار کی سولی پر لٹکنے والوں کو قرار آجائے۔ مگر بیل منڈھے نہ چڑھ پائی تھی، کیونکہ مقتدر حلقے مذہب کو بیچ میں لے آئے تھے کہ ایسا کرنے سے میتوں کی بے حرمتی ہوگی۔ خلق خدا کو سو فیصد یقین ہے کہ گم شدگان لوٹ کر آنے والے نہیں۔ بھارتی فوج انہیں کب کا ٹھکانے لگاچکی۔ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو 68 برس ہونے کو آئے۔ سات لاکھ سے زائد بھارتی سپاہ وادی میں موجود ہے۔ جس کے کارن بھارت ایک ناقابل رشک ورلڈ ریکارڈ بھی بن اچکا۔

گینئز بک آف ریکارڈز میں درج ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں متعین فوجیوں کا تناسب دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ کشمیری مسلسل نشانہ ستم بھی ہیں اور آزادی کے لئے ان کی جدوجہد بھی جاری ہے۔ بھارت اپنی ساری توانائیاں کشمیریوں کی تحریک حریت کو دہشت گردی ثابت کرنے کےلئے صرف کرتا آیا ہے۔ اور اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ یہ تو دو کروڑ جیتے جاگتے انسانوں کی آزادی اور حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ جس کا وعدہ سلامتی کونسل کے علاوہ بھارت نے بھی کر رکھا ہے۔ بھارت اس حقیقت کو بھی مسلسل فراموش کرتا آیا ہے کہ آزادی کی تحریکیں ظلم سے کمزور ہونے کے بجائے توانا ہوتی ہیں۔ تنازع کشمیر اس خطے کی ہی نہیں، بلکہ ایک چیختی چنگھاڑتی عالمی حقیقت ہے۔ جس سے مزید چشم پوشی دنیا بھر کی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

امریکہ سمیت بعض عالمی طاقتیں بوجوہ بھارت کی مٹھی چاپی میں مصروف ہیں۔ اسے سلامتی کونسل کی مستقل نشست کی نوید سنائی جارہی ہے۔ ہند یاترا کے دوران صدر اوباما بھی یہ عندیہ دے چکے۔ ناطقہ سر بگریبان ہے کہ دنیا کی اجتماعی دانش کو کیا ہوگیا؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بے حرمتی کرنے والا ملک اسی ادارہ کی مستقل رکنیت کا حقدار کیونکر ہوسکتا ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی بھارت کا ٹریک ریکارڈ قابل فخر نہیں، اور پھر ہمسایوں کے ساتھ نئی دہلی کا معاندانہ رویہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اور تو اور وہ تو جنوبی ایشیا کی دوسری بڑی اور جوہری طاقت پاکستان کے ساتھ مذاکرات تک کا روادار نہیں۔ یہ لچھن عالمی طاقتوں کے نہیں ہوتے، اور واشنگٹن سمیت نئی دہلی کے سب ہی مربیان اس حقیقت سے اچھی طرح سے آگاہ ہیں۔ ویٹو کے اختیار سے لیس سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت بھارت کو عطا کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دودھ کی رکھوالی بلے کو سونپ دی جائے۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.