اُف یہ بیویاں

مطیع اللہ جان
مطیع اللہ جان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے اعلٰی ترین عدالتی کمیشن کے معزز جج صاحبان دلائل میں مصروف اعتزاز احسن سے نظریں ہٹا کر کمرہ عدالت میں بیٹھے سینیئر وکلاء کی طرف بھی دیکھ رہے تھے۔ شاید ان کو بھی اس بات کا یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی بیرسٹر اعتزاز احسن ہیںجنہوں نے آئین ، قانون اور جمہوریت کی جنگ میں بے نظیر قربانیاں دیں۔ بات صرف اتنی سی تھی کہ بیرسٹر اعتزاز احسن کو پنجاب کے سابق صوبائی الیکشن کمشنر انور محبوب پر جرح کرنے کے لئے روسٹرم پر بلایا گیا تھا۔تاہم اعتزاز احسن نے این اے 124 میں انتخابی شکست کھانے والی اپنی اہلیہ کے کیس کے شواہد ریکارڈ پر لانے شروع کیے اور ان کے تمام دلائل کا محور بھی بقول ان کے وہ منظم دھاندلی تھی جس کا شکار چھ ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرنے والی ان کی اہلیہ بھی بنی۔

بہرحال بات تو اصول کی تھی نہ کہ ووٹوں کی تعداد کی مگر چیف جسٹس ناصر الملک، جسٹس ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز نثار کو بیرسٹر اعتزاز احسن کوبار بار یاد دلانا پڑا کہ وہ کسی الیکشن ٹریبونل میں انتخابی غداری پر بحث نہیں کر رہے بلکہ عدالتی کمیشن میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے گواہ پر جرح کرنے آئے ہیں۔تاہم اعتزاز احسن جنہوں نے اپنی اہلیہ کی انتخابی شکست سے متعلق ایک وائٹ پیپر بھی شائع کیا تھا ان کا اصرار تھا کہ بشریٰ اعتزاز کے حلقے میں جس طرح تھیلوں سے ردی برآمد ہوئی اور پریذائیڈنگ افسروں کے دستخط شدہ نتائج نہ ملے یہی حالات پورے ملک کے حلقوں کے بھی تھے۔ اعتزاز احسن کے دلائل کے دوران کمرہ عدالت میں موجود وکلاء اور صحافیوں کی بڑی تعداد ایک دوسرے کو دیکھ کر زیر لب مسکراتی نظر آئی جب کہ عمران خان، ڈاکٹر شیریں مزاری اور تحریک انصاف کی دوسری قیادت حسب معمول چیونگم چباتی نظر آئی۔

ایک صحافی نے سرگوشی کی کہ یہ کمرہ عدالت، واحد جگہ ہے جہاں عمران خان کئی گھنٹے خاموش رہ کر دوسروں کی بات دھیان سے سنتے ہیں ایک دوسرے صحافی نے کہا کہ اسی وجہ سے وہ چیونگم ساتھ لے کر آئے ہیں۔ اب صورتحال کچھ ایسی بنی کہ معزز جج صاحبان چودھری اعتزاز احسن کو گواہ پر براہ راست جرح کی جانب مائل کر رہے تھے اور بیرسٹر اعتزاز احسن ایک اچھے وکیل سے زیادہ خود کو ایک اچھا شوہر ثابت کرنے پرمصر تھے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ اچھا وکیل اپنے قریبی رشتہ داروں کا کیس کبھی بھی خود نہیں لڑتا کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے جذبات اسکی قانونی ذہانت اور مہارت پر حاوی ہو جاتے ہیں مگر پھر بیرسٹر اعتزاز احسن کے" جوتے میں پائوں ڈال کرـ ـ" سوچا جائے تو سمجھ آئے گی ان کا مئوکل کوئی عام شخص نہیں ایک ایسا خاص شخص تھا جو مسلسل کئی دن اور رات اپنے مقدمے سے متعلق ان کی جواب طلبی کرنے کی پوزیشن میں تھا۔کہاں چند گھنٹے کے قانونی مشوروں پر لاکھوں روپے فیس لینے والا ایک معروف قانو ن دان اور کہاں ایک شوہر جو اپنے اس مخصوص موکل سے صبح تک ہدایات لینے کا پابند ۔ مگر پھر شوہر اور وکیل بھی تو آخر انسان ہوتے ہیں اگر وہ اپنی زندگی کے ساتھی اور زندگی کی کامیابیوں کی بڑی وجہ کے لئے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نہیں آزمائیں گے تو پھر محبت کا ثبوت کیسے ملے گا۔پھر خیال آتا ہے کہ ان انتخابات میں منظم دھاندلی ثابت ہو نہ ہو چند وکیلوں کی اپنے مئوکلان سے وفاداری اور محبت ضرور ثابت ہو جائے گی۔

ایک سینئر وکیل اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لئے آخرکا روکالت اور دلائل کا ہی تو سہارا لیتا ہے۔بیرسٹر اعتزاز احسن کے دلائل کے دوران ہم صحافی دوستوں نے کاغذ کی پرچیوں پر پیغام رسانی شروع کر دی ۔ ایک پرچی پر لکھا "اعتزاز احسن تاریخ کے چلتے ٹرالر پر اپنی بائسیکل کا کنڈا ڈال رہے ہیں"۔ دوسری پرچی پر لکھا تھا"بیرسٹر اعتزاز احسن کی آپ بیتی:افتخار محمد چوہدری سے بشرٰی اعتزاز تک" عدالتی کمیشن کی سماعت کے دوران وکیلوں، ججوں اور صحافیوں کے چہروں پر ناراضگی یا احتجاج کے بجائے دھیمی دھیمی مسکراہٹیں اس بات کا واضح ثبوت تھیں کہ ہم سب کو ایک شوہر کی مجبوریوں کا بخوبی اندازہ تھا بہت سوں کو بیرسٹر اعتزاز احسن پر پیار آرہا تھا۔ پھر خیال آیا کہ ہر پیشہ ور ڈاکٹر ، وکیل اور سرکاری افسر کی طرح آخرکچھ صحافیوں کی ایڈیٹوریل پالیسی بھی تو کسی حد تک صبح تک جاری رہنے والی "ایڈیٹوریل میٹنگز" کی مرہون منت ہوسکتی ہے۔ صحافی اور کالم نویس کی تحریروں میں جھاڑے گئے فلسفوں اور فارمولوں کے پیچھے ازدواجی زندگی کی صورتحال اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ بیویاں لا شعوری طور پانی کے قطروں کی طرح تجزیہ کاروں کے پتھر دل اور پتھر دماغ پر ایسا نشان چھوڑتی ہیں کہ کوئی ماہر نفسیات بھی ایسا نہ کر سکے۔

واشنگ مشینوں کی ماہر برین واش کی مہارت بھی رکھتی ہیں۔ ایک مخصوص کوڈ ورڈ جو سب شوہروں پر استعمال ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ـ"آپ بڑے وکیل ہیں ۔۔ ڈاکٹر ہیں۔۔صحافی ہیں ، ملک کے نامور سیاست دان ۔۔ وزیر ہیں۔۔ وزیراعظم ہیں،ریاست کے سربراہ ہیں۔۔سپہ سالار ہیں۔۔ اور آپ اتنا سا کام نہیں کر سکتے"۔ایک دن ،دو دن،ہفتے، مہینوں اور کئی سال ایک ہی بات سُن سُن کر ایک دن لاشعوری طور پر بھی آپ وہ کام اور بات کر دیتے ہیں جو آپ کی پیشہ ورانہ سوچ کے منافی ہوتا ہے۔اب خود ہی سوچیں جب آپ گھر لوٹیں اور توجہ ٹی وی اسکرین کی خبروں پر ہو اور آپ کے کان میں احتجاج بھری آواز آئے کہـ ـ"اسلام آباد ایک دارالحکومت ہے اور اس کے ایک سرکاری اسکول میں کئی ہفتوں سے تمام ٹوائلٹس بند پڑے ہیں اور گندگی کا ڈھیر بن چکے ہیں اس کا کچھ حل کر دیں پلیز"بطور کالم نویس آپ کو غصہ تو آئے گا ناں۔ بھئی میں اس کام کے لئے رہ گیا ہوں ۔ مگر پھر دوسری دلیل سنیں۔ کئی دنوں سے بند ان ٹوائلٹس اورگندگی کے باعث چھ سو بچوں کی صحت اور زندگی خطرے میں ہے۔ لو اب اس کا کیا جواب دیا جائے۔اس کا کیا یہی جواب ہو سکتا ہے کہ چلو کوئی طریقہ یا دلیل ڈھونڈتے ہیں جس کو کالم کا حصہ بنایا جائے ۔

بہر حال یہ تو ایک 'مثال'تھی یہ بتانے کے لئے کہ کبھی کبھی ایک سیاست دان ڈاکٹر ، وکیل، صحافی اور ایک انسان کتنا مجبور بھی ہو جاتاہے۔ اس کے علاوہ اگر بڑے سے بڑے جرائم پیشہ افراد کے مکروہ چہروں کو غور سے دیکھیں تو کبھی کبھی ان میں بھی کسی بیوی کی"معصوم خواہش"کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان سب کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ یہ بیویاں بطور ایک ماں، بہن اور بیٹی اس معاشرے کا ضمیر بن کر پیشہ ورانہ انسانوں کو راہ راست پر بھی رکھتی ہیں۔ دنیا کی کوئی ماں اپنے بچوں کو ناانصافی، ظلم اور جبر کی طرف راغب نہیں کرتی۔ جو لوگ ایسے کام کرتے ہیں انہیں یقینا اپنی مائوں سے محبت نہیں ہوتی مگر شاید مائیں بچوں کی ناانصافیوں اور غلطیوں کو درگزر کر کے دوسری مائوں کے دل ضرور جلاتی ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ ہماری زندگی اور قومی سیاست میں جتنا اثر بیویوں کا ہے اگر یہ بیوی کے علاوہ ماں ، بہن اور بیٹی بن کر بھی ہماری قیادت پر اثر انداز ہوں تو شاید یہ دنیا جنت بن جائے ۔ بطور صحافی مجھے اعتزاز احسن سے گلہ ہو سکتا ہے مگر بطور ایک شوہر مجھے ان سے مکمل ہمدردی ہے اور ان کو مجھ سے بھی ہونی چاہئیے۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں