.

شمعون پیریز کے سامنے میرا مؤقف

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

1998ء میں اقوامِ متحدہ کے لیڈر شپ پروگرام میں شرکت کے لئے دنیا بھر سے ڈیڑھ سو کے قریب لوگوں کو چھے ہفتوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں اکٹھا کیا گیا۔ شرکت کرنے والوں کی عمر پینتالیس سال سے کم طے کی گئی تھی۔ لیڈر شپ پروگرام میں نامزد کیے گئے لوگ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ چار ہفتے اُردن، ایک ہفتہ مصر اور ایک ہفتہ اسرائیل میں مختلف مذاکرے اور پروگرامز ترتیب دئیے گئے۔ ان چھے ہفتوں میں دنیا بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدیداروں نے خطاب کیا، اردن کے شاہ حسین اور پرنس حسن بن طلال سے لے کر اُردن کے سیاسی، صحافتی، ادبی، علمی، فکری، تعلیمی اور لاتعداد سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیدار بھی ان پروگرامز میں اپنے تجربات شیئر کرنے آئے۔ اس لیڈر شپ پروگرام کی میزبان ملکہ نور تھیں۔ میرے لیے یہ تجربہ ایک انوکھا تجربہ تھا کہ جس میں دنیا بھر سے اکٹھے کیے گئے لوگوں نے چھے ہفتے ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کیے اور لیڈر شپ صلاحیتوں کے مختلف پہلوؤں پر کھلے بحث و مباحثے ہوئے۔

ان پروگرامز میں سب سے اہم دن وہ تھا جب اسرائیل کا سابق وزیراعظم شمعون پیریز شرکت کے لیے آیا۔ اس روز سارے علاقے کو اردنی فوج اور پولیس نے حفاظتی گھیرے میں لے رکھا تھا اور ہال میں کسی غیر متعلقہ شخص کو آنے کی اجازت نہ تھی، حتیٰ کہ پریس کے لوگوں کو بھی۔ شمعون پیریز کی آمد سے کچھ دیر پہلے درجنوں نوجوانوں کا ایک دستہ پورے ہال میں پھیل گیا اور وہ مختلف مندوبین کی قطاروں میں کھڑے ہوگئے۔ یہ چاق چوبند نوجوان خوبصورت سوٹوں میں ملبوس تھے، کانوں میں ایئرفون اور جدید اسرائیلی گن اوزی ان کے کندھوں پر لٹکی ہوئی تھیں، کوئی بھی شخص بیس پچیس سال سے زائد عمر کا نہیں دِکھ رہا تھا۔ سکیورٹی کے یہ نوجوان اسرائیل سے خصوصی طور پر اپنے رہنما کی حفاظت کے لیے آئے تھے۔ میرا فلپائنی دوست مندوب Jed جو فلپائن کی ایک سوشلسٹ جماعت سے تعلق رکھتا تھا اور میں نے طے کیا تھا کہ ہم اپنے حصے کے سوال ایک دوسرے کے بعد کریں گے۔

پروگرام کے مندوبین کو ایک سوال اور ایک کمنٹ کرنے کی اجازت تھی۔ پچھلے دو ہفتوں سے میرا یہ کامریڈ دوست اور ہم اس لیڈر شپ پروگرام میں فلسطینی کاز کے بڑے حمایتی کے طور پر مقبول اور بدنام ہو چکے تھے۔ عرب اور لاطینی امریکہ کے لوگوں میں مقبول اور مغرب کے زیادہ تر لوگوں میں بدنام، ہاں مغرب کے کچھ ترقی پسند مندوبین میں مقبول، اس لیے کہ ہم دونوں نے اسرائیل کو ایک مذہبی اور جارح ریاست اور فلسطینیوں کو اسرائیل کی تمام سرزمین کا حقیقی مالک قرار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔
جب شمعون پیریز ہال میں داخل ہوا تو اسرائیل سے خصوصی طور پر آئے اسرائیلی فوج کے کمانڈوز جو خوبصورت سوٹ ٹائی پہنے ہوئے تھے، انہوں نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔

میں نے فلپائنی دوست کو پہلے یہ بتا دیا تھا کہ ہماری خصوصی نگرانی ہو گی۔ شمعون پیریز ہال میں داخل ہوا، اس کے ساتھ مزید سکیورٹیز کے جوان تھے۔ ہال تالیوں سے گونجا اور یکایک چار چار اسرائیلی کمانڈوز میرے اور فلپائنی کامریڈ کے گرد ’’بے نیاز‘‘ کھڑے ہو گئے۔ شمعون پیریز کا بھرپور تعارف کروایا گیا جس میں خطے میں اس کی ’’امن کی کوششوں‘‘ پر روشنی ڈالی گئی، خصوصاً اوسلو اکارڈ کروانے میں اس کا کردار اور اس کے صلے میں نوبل پیس ایوارڈ کا ذکر ہوا۔ تمام تعارف کے بعد شمعون پیریز نے بڑے خوبصورت انداز میں اپنی تقریر کا آغاز کیا جس میں زیادہ فوکس مشرقِ وسطیٰ، اسرائیل فلسطین تنازع اور سوویت یونین کا تحلیل ہو جانا اور اس کے نتیجے میں ’’جمہوریت کے سنہری دَور کا آغاز ہونا‘‘ سرفہرست تھا۔

شمعون پیریز نے اپنی تقریر میں فلسطین اسرائیل تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل ایک جمہوری ملک ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل ایک ماڈل ملک ہے، ہماری قوم خطے میں امن کے ساتھ رہنے کی خواہاں ہے، اسی لیے ہم نے فلسطینی تنازع میں تشدد کا مقابلہ کرنے کے لیے پُرامن کوششیں کیں اور اسی لیے ہم اوسلو اکارڈ کرنے کی طرف مائل ہوئے۔ ہم نے اوسلو اکارڈ کے تحت فلسطینیوں کو ’’اپنی زمین‘‘ سے کافی حصہ عنایت کر دیا۔ ہم نے امن کے قیام کے لیے اپنے آئین کوتبدیل کرکے پی ایل او کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالا اور فلسطینیوں کو ایک ریاست بنانے کا موقع دیا۔ ہم اسرائیلیوں نے یہ سب کچھ قربان کرکے عملی اور مستقل طور پر امن کے راستے طے کر دیئے ہیں‘‘۔ ان نکات کے ساتھ اس نے ’’اسرائیل کی اُن قربانیوں‘‘ کا ذکر بھی کیا جو انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دی ہیں۔ شمعون پیریز نے اپنی اسرائیلی تہذیب و ثقافت پر بھی بھرپور روشنی ڈالی۔ جب شمعون پیریز نے اپنی طویل تقریر ختم کی تو بھرپور تالیوں کی گونج میں پروگرام کے کوآرڈینیٹر نے سوالات اور کمنٹس کے لیے سیشن کو اجازت دی۔ میں نے سوال کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ میرے اردگرد اسرائیلی کمانڈوز مزید چاق چوبند ہوئے اور ہال میں موجود تمام مندوبین جو پچھلے دو ہفتوں سے ایک پاکستانی کو فلسطینی کاز کے حمایتی اور اسرائیل کے نقاد کے طور پر مکمل جان چکے تھے،ان سب کی نگاہیں میری جانب مبذول ہو گئیں۔ مائیک پکڑتے ہی میں نے شمعون پیریز کو مخاطب کرتے ہوئے اپنا نام اور ملک کا نام بتایا تو میرے ملک کا نام سن کراسرائیلی لیڈر کاموڈ آناً فاناً بدلا ہوا نظر آیا۔ میں نے سوال اور کمنٹ کیا تو اسرائیل کے اس لیڈر کے چہرے پر جو تاثرات ابھرے، وہ مجھے کبھی نہیں بھولیں گے۔

میں نے کہا کہ شمعون پیریز، آپ نے یہ کیسے فرمایا کہ آپ نے فلسطینیوں کو اپنی دھرتی کا ایک ٹکڑا عنایت کر دیا آپ جو کہ پولینڈمیں پیدا ہوئے اور آپ ہی کی طرح 99 فیصد اسرائیلی جو اس دھرتی پر آکر آباد ہوئے دنیا کی مختلف ثقافتوں کے نمائندے ہیں۔ روسی، پولش، یوکرائن، لاطینی اور نہ جانے کہاں کہاں سے آکر آپ نے ہزاروں سال سے یہاں پر بسنے والے فلسطینیوں کی سرزمین پربندوق، دہشت اور طاقت کی بنیاد پر ایک مذہبی ریاست قائم کرکے اس خطے کے امن کو جنگِ مسلسل میں بدل دیا۔ آپ کیسے کہتے ہیں آپ نے امن قائم کیا اور آپ کسی ایک ثقافت کے نمائندے بھی نہیں۔ آپ نے نہتے فلسطینیوں پر مسلسل جنگ مسلط کر رکھی ہے، آپ کیسے امن کے علمبردار کہلوا سکتے ہیں، آپ نے اسرائیل کو ایٹمی اسلحے کا ڈپوبنا دیا ہے، آپ کیسے مشرقِ وسطیٰ کو امن دے سکتے ہیں۔ آپ نے لوگوں سے چھینی ہوئی سرزمین پر ریاست قائم کی ہے، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے ایک قوم (فلسطینیوں) کو ریاست عطا کر دی اور اس ریاست (فلسطینی اتھارٹی) کی حقیقت ایک بلدیہ سے زیادہ نہیں جو اپنی مرضی سے پانی کا کنواں تک نہیں کھود سکتے۔ آپ کس ایک ثقافت کے نمائندے ہیں۔

آپ دنیا بھر سے اکٹھے کیے گئے جارح کس طرح امن پسند قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ مسٹر شمعون پیریز، ایک بات مگر یاد رکھیں کہ تمام تر طاقت اور جدید اسلحے کے ڈھیروں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کی یہ مصنوعی ریاست سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے اور آپ ان لوگوں کے بیچوں بیچ آباد ہوئے ہیں جو ہزاروں سال سے یہاں بستے آئے ہیں۔ تمام تر ہتھیاروں اور ایٹمی اسلحے کے باوجود اسرائیل خطے کی سب سے غیر محفوظ ریاست ہے اور آپ کا ملک جمہوری قوتوں کے بل پر نہیں بلکہ صہیونی بنیاد پرستوں کے کنٹرول میں ہے۔ معروف یہودی سکالر اسرائیل شحاک جونازیوں کی نسل کشی میں بچ نکلا اور جس نے یہودی تاریخ لکھی اور یقیناًآپ نے اس مؤرخ کی مستند کتاب “Jewish Fundamentalism in Israel” ضرور پڑھی ہوگی، جس کا یہ کہنا ہے کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی یہودی بنیاد پرستوں کے زیراثر چلتی ہے۔ میں ان تمام موضوعات کے بعد یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے اور اب آپ کے سامنے سارے ہال میں ایک بار پھر اعلان کرتا ہوں کہ اپنے اس لیڈر شپ پروگرام کے تحت اگلے ہفتے اسرائیل کے طے شدہ دورے پرمیں احتجاجاً اسرائیل نہیں جاؤں گا مگر مجھے خوشی ہے کہ میرے اس احتجاج میں میرے دیگر چار دوست بھی شامل ہو چکے ہیں۔

(حقیقت میں مَیں نے پہلے ہی طے کررکھا تھا کہ میں اسرائیل نہیں جاؤں گا)۔ میرا کمنٹ کیا دینا تھا، ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور مندوبین میں شامل دیگر چند امریکی نوجوانوں نے بھی کھڑے ہو کر کہا کہ ہم بھی مسٹر فرخ سہیل گوئندی کے ساتھ فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں اسرائیل نہیں جائیں گے۔ جب سیشن ختم ہوا تو مندوبین میرے گرد تھے اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پروگرام میں شامل بیس کے قریب فلسطینی یہ کہہ رہے تھے کہ تم تو فلسطینیوں سے بھی زیادہ فلسطینی ہو۔ میں نے کہا کہ ہم پاکستانی کسی بھی نقطۂ نظر سے تعلق رکھتے ہوں، ہم ہر صورت فلسطین کے ساتھ ہیں اور اسرائیل کے وجود کوتسلیم کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں

----------------------
بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.