.

کراچی کا نائن الیون اور گورنر شپ کا مسئلہ

عالیہ شبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالم کراچی اور سندھ کی سیاست پر ہی لکھ رہی تھی، لیکن اسی دوران ایک ایسی خبر آگئی جس نے روح کو گھائل کرکے رکھ دیا۔ اسے کراچی کے نائن الیون کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ پشاور سانحے سے ابھی ہم نکلے نہیں تھے کہ یہ ایک اور سانحہ ہوگیا۔ کراچی میں اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر فائرنگ کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 44 افراد جاںبحق ہوگئے ہیں۔کراچی کی تعمیر وترقی میں اسماعیلی کمیونٹی کا اہم رول کون نظرانداز کرسکتا ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد اسماعیلی کمیونٹی کے سربراہ کا قائداعظم کے ساتھ مالی تعاون بھی سب کو یاد ہوگا۔ کراچی میں اتنے بڑے پیمانے پر ان کا قتل عام کوئی ملکی گروہ نہیں کرسکتا، یقیناً ان کی پشت پر کوئی غیرملکی طاقت ہی ہوسکتی ہے۔

اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کو تلاش کیا جائے اور انہیں کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے۔ ایک طرف سندھ کے سب سے اہم شہر کراچی میں یہ صورتِ حال ہے اور دوسری طرف گورنر شپ کا مسئلہ درپیش ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ اس مسئلے کو بھی مناسب انداز میں حل کرلیا جائے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان سندھ کے 30ویں گورنر ہیں جو سب سے زیادہ مدت تک گورنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ عشرت العباد پاکستان میں پیدا ہوئے اور اب وہ بر طانیہ کی دوہر ی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ عشرت العباد نے 27 دسمبر 2002 ء میں گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھا یا اور پھر مشرف دور سے پیپلز پار ٹی کے دور سے اب مسلم لیگ کے دور حکومت میں بھی اس عہدے پر فائز ہیں۔ 27 جون 2011ء کو انہوں نے استعفیٰ دیا، مگر اس وقت کے صدر پاکستان نے ان کا استعفی قبول نہیں کیا اور پھر دوبارہ 19 جولائی 2011 ء کو دوبارہ گورنر شپ سنبھال لی۔ یہ گورنر شپ ایم کیو ایم کو آفر کی گئی اور ایم کیو ایم نے خا ص کر الطاف حسین نے اپنے سب سے قابل بھروسہ سپوت عشرت العباد کا نام دے دیا۔

عشرت العباد نے ایم کیو ایم کے اسٹوڈنٹ ونگ سے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ پھر 1990 ء کے آغاز میں سندھ میں منسٹر بھی بنے۔ 1993ء میں انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پنا ہ لے لی۔ جہاں انہوں نے برطانیہ کی شہریت حاصل کی۔ انہوں نے نارتھ ویسٹ لندن میں قیام کیا۔اب اس طویل مدت تک سندھ کا گورنر رہنے والے عشرت العباد کو ان کی اپنی پارٹی نے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔ اس مطالبے میں تو عشرت العباد کو پارٹی ورکر ز کو ریلیف نہ دینے پر کہا گیا۔ جبکہ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ گورنر نیوٹرل ہوگا۔ گورنر کا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رہتا۔ اب ایم کیو ایم کا گورنر سندھ پر عدم اعتماد کے پیچھے ایک اور راز ہے کہ اب گورنر سندھ عشرت العباد صاحب کا ایم کیو ایم سے ناطہ بھی ٹوٹ گیا اور ایم کیو ایم پر گورنر لینے کا طعنہ بھی ختم ہوگیا۔ کہا جارہا ہے کہ یہ ایک چال تھی اور اس کے نتیجے میں عشرت العباد صاحب آرام سے اس عہدے کی ذمہ داری کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

عشرت العباد کو گورنر کے عہدے سے اس وقت ہٹانا کراچی کے حالات اور آپریشن تنازع میں نئے محاذ کھولنے کے مترادف ہے۔ خصوصاً ان حالات میں جبکہ کراچی میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ رونما ہوا ہے۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گورنری اتنی اہم ہے جس کا سوائے آئینی رول کے اور کچھ بھی نہیں ہے یا پھر عشرت العباد اس مدت میں اتنے مضبوط بن چکے ہیں کہ کسی کے لیے بھی انہیں ہٹانا ممکن نہیں ہے یا پھر عشرت العباد اپنی ذمہ داری اتنے اچھے انداز میں نبھارہے ہیں کہ سند ھ کو ان سے بہتر گورنر مل ہی نہیں سکتا۔اگر یہ دیکھیں کہ گورنر بننے کے لیے کیا معیار ہے؟ تو آئین میں واضح ہے کہ گورنر بننے کے لیے قومی اسمبلی کا رکن بننے کی اہلیت ہو نی چاہیے۔ اب قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لیے پہلی شر ط ہے کہ وہ پاکستان کا شہری ہو اور دوہری شہریت والا اگر رکن قومی اسمبلی نہیں بن سکتا تو وہ گورنر کیسے بن سکتا ہے؟ یہاں آئین کا مطلب بھی اپنے مطابق نکل آتے ہیں۔

جب میں نے شاہ محمود قریشی سے انٹرویو کے دوران یہ پو چھا کہ آپ کس آئین اور قانون کے تحت اسمبلیوں میں واپس گئے؟ تو ان کا جواب تھا اور بھی بہت سارے ہیں جو اسمبلیوں سے غیر حاضر رہتے ہیں اور پھر واپس بیٹھ جاتے ہیں، وہ کس آئین کے تحت آتے ہیں؟ یہاں پر تو ہر ایک کے اپنے مفاد ہیں جن کا تحفظ ہورہا ہے۔ خصوصاً کراچی کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے کسی ایسے غیرجانبدار گورنر کی ضرورت ہے جو وہاں کے حالات کے بارے میں اچھا تجزیہ کرنا بھی جانتا ہو اور ان حالات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون بھی کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ پاکستان کی سیاست میں سندھ اور سندھ کی سیاست میں کراچی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے اس مسئلے کو حل کرنا بھی اب بہت ضروری ہوگیا ہے۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.