.

کیا پاکستانی گوشت حلال اور طیب ہے؟

محمد احمد سبزواری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی رپورٹر نے ازراہ تفنن ایک نام ور شاعر و ادیب اور کالم نگار کے متعلق لکھا کہ موصوف ناشتے میں سانپ کے قتلے اور سورنی کادودھ استعمال کرتے ہیں۔ کسی نے نوٹس نہیں لیا اور بات ختم ہوگئی۔ جنگ میں اکثر حلال اور غیر حلال خوردنی اور استعمالی اشیا کا ذکر ہوتا ہے۔ اخباری خبروں کے مطابق دنیا میں حلال گوشت کی طلب بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان گوشت خور ملک کہلاتا ہے حالانکہ یہاں جملہ اقسام کے گوشت کے استعمال کا اوسط صرف 22 کلوگرام فی کس سالانہ ہے۔ جبکہ انگلستان، کینیڈا، آسٹریلیا وغیرہ میں یہ اوسط 200 کلوگرام سے اوپر ہے، ہوٹلوں اور دکانوں میں ہانڈی، سیخ کباب، بوٹی کباب، روسٹ کباب اور سجی کی وجہ سے عوامی اوسط اور گھٹ جاتا ہے۔ چند سال سے پاکستان گوشت برآمد بھی کرنے لگا ہے یہاں عام طور پر اونٹ، بھینس، گائے، بیل، بچھڑا، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ، مرغا، مرغی کا گوشت استعمال ہوتا ہے، یہ سب حلال جانور ہیں۔

یہ حلال اور طیب‘‘ کی تعریف میں آتے ہیں۔ لیکن ان حلال جانوروں کا گوشت فوت ہوجانے، جھٹکے کے ذبح ہونے غیر اللہ کے نام پر ذبح ہونے یا کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہونے سے ناجائز ہوجاتا ہے۔ خود مجھے اس کا ایک دلچسپ تجربہ ہوا 1954ء میں راقم شماریات کی ایک سالہ ٹریننگ کےلئے امریکہ گیا، میرا قیام واشنگٹن ڈی سی میں تھا۔ جہاں کرائے کے ایک کمرے میں جس میں ہاٹ پلیٹ کی اجازت تھی اور ریفریجریٹر تھا میں اسٹور سے چکن، انڈے دو منٹ کے رائس اور مٹر لاکر پکا لیتا تھا، دوستوں نے مجھے ’’چکن ایکسپرٹ مشہور کردیا۔ وزارت خزانہ کے جوائنٹ سیکرٹری دورے پر آئے، میری ملاقات ہوئی، چکن کا تذکرہ ہوا تو کہنے لگے ہمیں بھی کھلایئے مگر میں ذبح شدہ مرغی کھاتا ہوں، میں نے حامی بھرلی اور زندہ مرغی خریدنے گیا، ایک مرغی پسند کی، دکان دار نے اس کو تولا اور قیمت بتائی ساتھ ہی پوچھا تم اسے کلین کرانا چاہتے ہو، میرے اقرار پر اس نے مرغی اپنے سیاہ فام ملازم کو دی جس نے اسے ایک ڈرم میں ڈال دیا۔ مرغی پھڑپھڑائی، ملازم نے اس کو نکالا تو اس کی گردن ڈھل چکی تھی۔ وہ اس کی گردن اڑانا چاہتا تھا کہ میں نے کہا اسٹاپ اب یہ مرغی میرے لئے بیکار ہو گئی، بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی اس نے مالک کو آواز دی، اور کہا اس کو میں خود ’’سلاٹر‘‘ کرنا چاہتا تھا۔ یا کل kill کرنا چاہتا تھا۔

اس نے کہا یہ تو Killed ہو چکی ہے۔ رفع شر کے لئے اس نے کہا دوسری مرغی پسند کرو، چنانچہ دوسری مرغی تول کر اور قیمت بتا کر میرے ہاتھ میں دے دی میں نے ملازم سے چھری لی اور اس کی ٹانگیں پکڑوائیں اور اللہ اکبر کہہ کر اس کو ذبح کیا۔ دکان دار تماشہ دیکھ رہا تھا کہنے لگا ’’تم کوشر‘‘ کرنا چاہتے تھے کیا تم ’’ یہودی‘‘ ہو، میں نے کہا ’’الحمدللہ، میں مسلمان ہوں، اب مرغی بنادی گئی اور دکان دار نے پہلی مرغی کی قیمت نہیں لی۔

آسٹریلیا کے قریب ایک کام کرنے والے نے پوچھا ’’میری کمپنی میں کھانا پکانے والے باورچی غیر مسلم ہیں جو مکمل صفائی کا اہتمام کرتے ہیں، کمپنی میں لبنان، بھارت، پاکستان اور انڈونیشیا سے گوشت آتا ہے۔ پیکٹ پر حلال گوشت لکھا ہوتا ہے۔ تاہم ہمیں یقین نہیں کہ کمپنی نے واقعی حلال گوشت استعمال کیا ہے۔ کیا ہم یہ مشکوک کھانا کھاسکتے ہیں۔‘‘ جو اب ’’پاکستان اور انڈونیشیا سے گوشت آتا ہے اس کا استعمال آپ کرسکتے ہیں مگر بھارت اور لبنان کے گوشت کا جب تک یقین نہ ہو اس وقت تک اس کا استعمال حلال نہیں۔ (17اپریل جنگ کراچی) لبنان میں تو خنزیر بھی کھایا جاتا ہے، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے پہلے وہاں صرف پانی سے پریشر شدہ گوشت ہی فروخت ہوتا تھا مگر اب تو کہتے ہیں، گدھے اور مردہ جانوروں کا گوشت بھی علی الا علان فروخت ہورہا ہے، چند ہفتے ہوئے اخبار جنگ کے ہفتہ وار میگزین میں دو صفحوں پر مشتمل مضمون شائع ہوا تھا جس میں متعدد شہروں میں گدھے کا گوشت، گائے کے گوشت کے ساتھ ہوٹلوں میں سپلائی ہوتا تھا، گزشتہ ہفتے لاہور میں پولیس نے چھاپہ مارا 250 کلو گدھے کا گوشت پکڑا جو ہوٹلوں کو سپلائی کیا جانے والا تھا۔ اس کو ضبط کر کے راوی میں بہایا۔ مگر یہ پتہ نہیں چلا کہ ملزمان کو کیا سزا دی گئی۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں اشیائے خوردونوش ٹھیکہ دار فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا ہوٹلوں میں کھانے والے شوقین کیا کیا کھاتے ہیں ان کو پتہ ہی نہیں۔

بعض اشیا مخصوص فقہ میں ممنوع ہیں جیسے کپورے جو دل گردوں اور کلیجی کے ساتھ کٹاکٹ میں ملادیئے جاتے ہیں کیکڑے، جھینگے، لاسٹر مکروہ ہیں مگر وہ کچے اور پکے ہر جگہ فروخت ہورہے ہیں۔ اگر گدھا اور کتا ناپاک نہیں تو نجس ضرور ہیں۔ ملک میں مرغی کے گوشت کا استعمال بڑی تیزی سے بڑھ گیا ہے اور اس کی طرح طرح کی ڈشیں تیار ہونے لگی ہیں۔ اندازہ ہے کہ ملک میں روزانہ ایک لاکھ کے لگ بھگ مرغیاں ذبح ہوتی ہیں کیا ان میں سے ایک دو فی صد کی گردن الگ نہیں ہوجاتی کیا ان کو علیحدہ کردیا جاتا ہے، ایک بڑے ریسٹورنٹ میں 500 کے قریب روزانہ بٹیر روسٹ کئے جاتے ہیں کیا ذبیحہ میں کسی کی گردن الگ نہیں ہوتی۔ ان صورتوں میں پاکستانی گوشت پر آنکھ بند کرکے بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ انڈیا، آسٹریلیا، کینیڈا وغیرہ کا گوشت محض حلال کا لیبل لگانے سے حلال نہیں ہوجاتا۔

مختصر یہ کہ پاکستان میں شریعت کے مطابق ذبیحہ بھی سو فی صد درست نہیں۔ رہی طیب یا پاکیزگی اور صفائی کی بات تو وہ تو عنقا ہے اور اسی وجہ سے ہماری سمندری مصنوعات کی برآمد یورپ میں رکی رہی

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.