.

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر

اوریا مقبول جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرم، قتل و غارت، بھتہ خوری، اغوا، جنسی تشدد، مذہبی منافرت، نسلی خونریزی، یہ سب دنیا میں آباد بڑے بڑے شہروں کے المیے ہیں۔ انسانی تاریخ ایسے شہروں کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے جو اپنے علاقوں میں جرائم کا ہیڈکوارٹر تھے۔

1919ء تک نیویارک تمام دنیا میں جرائم کی سب سے بڑی آما جگاہ سمجھا جاتا تھا۔ جس طرح وہ آج دنیا کا معاشی دارالحکومت ہے اسی طرح وہ اس زمانے میں جرائم کا عالمی دارالحکومت تھا۔ جنگِ عظیم اوّل کے بعد لندن اور گلاسگو جیسے شہر بڑے بڑے مافیا کے ہاتھوں میں یرغمال تھے۔ امریکا میں نیویارک اور شکاگو جرم کی کہانیوں کا مرکز تھے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان شہروں میں امن اور قانون کی بالادستی کیسے قائم ہوئی۔

لبوک اوون نے اپنی کتاب (History of Crime in England) ’’برطانیہ میں جرائم کی تاریخ‘‘ میں چار صدیوں پر محیط ایسے ایک معاشرے کی تصویر کشی کی جو مجرموں کے ہاتھ یرغمال ہے۔ یہ تاریخ یورپ میں طاعون کے پھیلنے سے پہلے یعنی 1340ء سے دو دہائیاں قبل سے شروع ہوتی ہے۔ طاعون نے جب یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیا تو پھر 1346ء سے 1354ء تک موت کے سائے منڈلاتے رہے۔

ایک اندازے کے مطابق 20 کروڑ لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ یورپ کی تین چوتھائی آبادی مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ اوون نے اس طاعون کی وبا سے پہلے کے انگلستان کا نقشہ یوں کھینچا ہے ’’گھروں کو روز بروز آگ لگا دی جاتی‘‘ مردوں عورتوں کو یرغمال بنا کر ان سے تاوان کی رقم وصول کی جاتی، تاوان دے کر بھی اگر کوئی فرد کسی خوفناک انجام سے بچ جاتا تو اپنے آپ کو خوش قسمت خیال کرتا۔ جے ایف نکلسن اور جان ٹیلر کے مطابق انگلستان انتہائی خوشحال اور دولت مند تھا، پھر بھی لٹیروں کے گروہ چھوٹی فوجوں کی طرح تھے۔

وہ اکثر شہر کے میلوں ٹھیلوں پر بلائے ناگہانی کی طرح ٹوٹ پڑتے۔ وہ شہر پر قبضہ کر لیتے اور گھروں کو لوٹ کر انھیں آگ لگا دیتے۔ 1347ء میں برسٹل پر ایک لٹیرے نے قبضہ کر لیا جو بندر گاہ پر لنگر انداز جہازوں کو لوٹتا تھا، جن میں بادشاہ کے حکم پر بننے والے جہاز بھی شامل ہوتے تھے۔ وہ ایک فاتح کی طرح اپنے احکام جاری کرتا تھا۔

اس کے ساتھی شہر میں جہاں چاہتے تھے اور جسے چاہتے لوٹتے اور قتل کرتے تھے۔ چنانچہ بادشاہ کو تھا مس اور لارڈ یزبرمکے کو امن قائم کرنے کے لیے بھیجنا پڑا۔ جب ایک تاجر کے متعلق پتہ چلا کہ اس کے پاس ملکہ فلپا کے ہیرے ہیں تو ڈاکوؤں کے ایک گینگ نے اس کا گھیراؤ کر لیا۔ جیسے ہی اس کے گھر کو آگ لگا دی گئی، تو اس نے ہیرے ڈاکوؤں کے حوالے کر دیے۔ عدالتیں بے بس تھیں۔ ایک بدنام لٹیرے کو مانچسٹر کے قریب ایک عدالت میں پیش کیا گیا تو غنڈوں کا ایک گینگ عدالت کے باہر منتظر رہا اور عدالت میں آنے والے ہر شخص پر حملہ کر دیتا۔

جس کے نتیجے میں مقدمہ منسوخ کر دیا گیا‘‘ یہ نقشہ صرف اس تاریخ کی کتاب میں نہیں ملتا بلکہ تقریباً ہر اس مورخ نے جرائم کی دنیا کا تفصیل سے ذکر کیا ہے، جس نے یورپ کے جرائم کی تاریخ مرتب کی۔ ولسن دہلن کی کتاب (Criminal History of Mankind) ’’انسانی جرائم کی تاریخ‘‘ میں تو ایسے تمام شہروں کا تفصیلاً ذکر ہے۔ لیکن تمام مورٔخین اس بات پر متفق ہیں کہ ان شہروں میں جرم کا پھلنا پھولنا دو وجوہات کی وجہ سے ہوتا تھا۔

ایک سرکاری اور سیاسی سرپرستی اور دوسری عوام کی بے رحمانہ اور بزدلانہ خاموشی۔ کسانوں کی فصلیں ان کے کھیتوں سے زبردستی اٹھا لی جاتیں اور یہ لوگ دن دیہاڑے یہ کام کرتے، پھر اناج کو ملوں کے پاس لے جاتے تا کہ ان سے پسوا ئیں۔ ملوں کے مالکوں کو بھی علم ہوتا کہ یہ چوری اور لوٹ کا مال ہے مگر وہ اس لیے انکار نہ کرتے کہ کہیں ان کی ملوں کو آگ نہ لگا دی جائے۔ نسلی تعصب کا یہ عالم تھا کہ کسی بھی غیر ملکی کو انگلینڈ میں دیکھ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا۔ ایک پرتگالی کا کسی انگریز ملاح سے جھگڑا ہو گیا تو اس کے کان کیلوں سے دیوار میں ٹھونک دیے گئے۔ جب اس نے انتہائی اذیت سے کان دیوار سے چھڑا لیے تو ہجوم نے اسے چاقوؤں سے وار کر کے مار ڈالا۔

یہ صرف انگلستان کے شہروں کا نقشہ نہیں، بلکہ پورے یورپ کے بڑے بڑے شہر اس طرح کے جرائم کی دلدل میں دھنسے ہوئے تھے۔ خوفناک بات یہ تھی کہ جرائم کرنے والے یا ان کی سرپرستی کرنے والے غریب اور مفلوک الحال نہیں تھے، بلکہ معاشرے کے امیر ترین طبقات میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ یہ زمانہ پوری انسانی تاریخ پر زوال کا دور تھا۔ منگول اپنے حملوں سے دنیا کو تاراج کر رہے تھے۔

پوری دنیا میں طوائف الملوکی تھی۔ منگولوں نے چین فتح کیا تو پوری چینی قوم نے ان کے خلاف لڑنے کے بجائے سر جھکانے میں عافیت سمجھی۔ چین کی زراعت اور تجارت منگولوں کے ہاتھوں مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور وہ آفتوں اور مصیبتوں کی زد میں آ گیا۔ ایسے میں چنگیز خان اور منگولوں کے دیس کی ایک جھیل ایزک جو ان دنوں کرغستان کے علاقے میں واقع ہے وہاں سے پلیگ یعنی طاعون کے جرثومے نے جنم لیا اور پھر یہ منگول فوج کے ساتھ ساتھ یورپ کی جانب روانہ ہوا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جب منگول فوج نے کریمیا کے ایک شہر کاما کا محاصرہ کیا تو ان کے ذریعے 1347ء میں پلیگ کی وبا یورپ میں پہنچی۔ یہ جرثومہ شاہراہ ریشم کے ذریعے سفر کرتا استنبول پہنچا، موصل کے شہر پر حملہ آور ہوا، حلب، فلسطین، یروشلم، شام اور دیگر علاقوں میں تھوڑی بہت تباہی پھیلائی لیکن یورپ کا تو عالم یہ تھا کہ پیرس کی آدھی آبادی موت کے گھاٹ اتر گئی۔ فلورنس کی آبادی 1338ء میں ایک لاکھ بیس ہزار تھی جو 1351ء میں صرف پچاس ہزار رہ گئی۔ ہمبرگ میں 60 فیصد آبادی لقمۂ اجل بن گئی۔

جرمنی میں لگ بھگ ایک لاکھ ستر ہزار چھوٹے گاؤں اور قصبے تھے جو 1450ء میں صرف 40 ہزار رہ گئے۔ پلیگ اس قدر تیزی سے پھیلا کہ اس سے پہلے کہ کوئی ڈاکٹر یا حکیم اس کی طرف توجہ دیتا ایک تہائی آبادی موت کے منہ میں جا چکی تھی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ طاعون کی اس وبا کو لوگوں نے پھر بھی اسے آسمانی یا خدائی آفت نہ سمجھا اور اپنے رویوں کو درست نہ کیا، جب کہ اکثریت نے اس کا ذمے دار یہودیوں، بھکاریوں اور غیر ملکیوں کو قرار دے کر ان پر حملے شروع کر دیے۔1348میں مینز اور کولون کی یہودی بستیوں کو تباہ برباد کر دیا گیا۔

یہاں تک کہ کوڑھ کے مریضوں کو زندہ جلا دیا گیا، جس شخص کو کسی قسم کی جلدی مرض تھی اسے بھی علاقوں سے باہر لے جا کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد یورپ پر تین صدیاں ایسی گزریں ہیں کہ بار بار ان پر پلیگ کا حملہ ہوتا رہا۔ دنیا پر آخری حملہ ء1855 سے1859ء میں ہوا جب صرف ہندوستان میں ایک کروڑ لوگ مارے گئے۔ آپ اس زمانے کے ہندوستان کے حالات ملاحظہ کر لیں تو آپ کو اس عذاب کی وجوہات کا اندازہ خود بخود ہو جائے گا۔

مجھے معلوم ہے کہ میں اس سب کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے سزا اور عذاب کہوں گا تو میرے دوست بڑی آسانی سے جواب دیں گے کہ اس وقت تک میڈیسن اتنی زیادہ ترقی نہیں کر سکی تھی اس لیے اموات زیادہ ہو گئیں۔ انسان جب بھی کسی آفت کا شکار ہوتا ہے تو اس کی سائنسی تو جہیہ کر لیتا ہے، لیکن اللہ اس کے ایک آفت پر قابو پانے کے بعد دوسری اس سے بڑی آفت نازل کر دیتا ہے۔

انسان آفتوں سے نبرد آزما ہوتا ہے، بیماریوں پر قابو پاتا ہے لیکن ایک دوسری آفت اور دوسری بیماری اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے۔ انسان اپنی تدبیروں پر فخر کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ آفت، بیماری اور مصیبت پر قابو پا سکتا ہے، لیکن اسے اس کا اندازہ تک نہیں ہوتا کہ تقدیر نے اس پر یہ آفت اس کے اعمال کے نتیجے میں نازل کی ہے۔ اللہ اپنے عذابوں میں سے ایک عذاب آپس کی خانہ جنگی اور قتل و غارت کو بھی بتاتا ہے ’’وہ تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے لڑا دے اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے (الانعام65) ہم تدبیر سے عذابوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ کس امید سے ہمارے ایک اور رویے کا انتظار کر رہا ہے۔

وہ فرماتا ہے ’’پھر کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اسے اس کا ایمان نفع دیتا سوائے یونس کی قوم کے، جب وہ ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کر دیا اور ایک مدت تک دنیا کے فوائد سے انھیں بہرہ مند ہونے کا موقع دیا‘‘ (یونس:98) یونس کی قوم اجتماعی استغفار میں چلی گئی تھی اور اللہ نے ان پر اپنا کرم فرما دیا تھا۔ لیکن ہم تدبیر سے تقدیر کو شکست دینا چاہتے ہیں۔ شاید اقبال نے ہماری اسی حالت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات

----------------------
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.