بھارت ٹوٹنے کی پیش گوئی!

نازیہ مصطفیٰ
نازیہ مصطفیٰ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

بڑی جمہوریت کہلانے کے باوجود بھارت نے سیاسی جمناسٹ (قلا بازیاں کھانے والے سیاستدان) بھی ایسے پیدا کیے ، جنہوں نے زیادہ تر علاقے میں سیاسی کھیل کو اُلٹ پلٹ کرنے کی ہی کوشش کی، بڑا ملک ہونے کے باوجود بھارت سپورٹس مین سپرٹ رکھنے والا کوئی بڑا (قد کاٹھ رکھنے والا) سیاسی کھلاڑی پیدا نہ کرسکا۔ وجہ اسکی یہ ہے کہ بھارتی سیاست اور سیاستدان تنگ نظری کا شکار رہے ہیں، اس تنگ نظری کی وجہ سے بھارتی سیاسی قیادت نہ خود ابھرسکی اور نہ ہی اُنہوں نے علاقے میں کسی دوسرے کو ابھرنے کیلئے سازگار ماحول پیدا ہونے دیا۔اسکے برعکس بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے جنگی جنون میں مبتلا رہا ہے، اس جنگی جنون میں بھارت کبھی پڑوسیوں کے خلاف کھلی جارحیت کا ارتکاب کرتا رہا اور کبھی اس نے خفیہ جنگوں میںاپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کیا۔
بھارت نے سماجی اور معاشی قوت بننے کی بجائے فوجی قوت بننے کو ترجیح دی اوریوں اپنے سارے وسائل عسکری طاقت بننے میں جھونک دیے، عسکری قوت بننے کے پاگل پن میںبھارت نے 1974ء میں اپنے پہلے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ کیا اور پھر 1998ء میں دوبارہ زیر زمین تجربات کیے،جس کے بعد سے بھارت انواع و اقسام کے لاتعداد جوہری ہتھیاروں کا مالک بن چکا ہے۔

بھارت روس کے ساتھ مل کر جدید لڑاکا طیارے بنانے پر بھی اربوں روپے اُڑارہا ہے، جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارت کا امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ دفاعی تعاون پہلے سے کئی گناہ بڑھ چکا ہے۔ 2008ء میں بھارت اور امریکہ کے درمیان غیر فوجی جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے، حالانکہ اس وقت بھارت کے پاس ایٹمی ہتھیار پہلے سے ہی موجود تھے اور وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے حق میں بھی نہیں تھا۔ اسی معاہدے کے تحت بھارت کی غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری تجارتی مقاصد پر پہلے ہی پابندی ختم کر دی گئی تھی۔ نیوکلیئر سپلائر گروپ کی جانب سے دی گئی چھوٹ کے بعد بھارت روس، فرانس، برطانیہ، اور کینیڈا سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ غیر فوجی جوہری توانائی کے معاہدے پر دستخط کرنے کے قابل ہوگیا۔اِسکے علاوہ تیرہ لاکھ فوجیوں پر مشتمل سرگرم افواج کے ساتھ بھارت دنیا میں تیسری بڑی فوجی طاقت بن چکا ہے جبکہ بھارتی کا دفاعی بجٹ چالیس ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق خریداری کی قوت کے معاملے میں بھارتی فوج کے فوجی اخراجات 72.7 ارب امریکی ڈالر سے بھی زیادہ ہیں اور اس لحاظ سے بھارت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کنندہ ملک بن چکا ہے۔

علاقے میں عسکری قوت بننا ہی خواہش ہوتی تو بھی شاید کوئی بڑی بات نہ ہوتی، لیکن بھارت نے علاقے میں کروڑوں لوگوں کی امن کی خواہش پوری نہیں ہونے دی۔بھارت دنیا کا غالباً واحد ملک ہے جس کے اپنے کسی بھی ہمسایہ ملک سے تعلقات اچھے نہیں ہیں، بھارتی عسکری جنون کے سبب اسکی کروڑوں کی آبادی غربت، افلاس اور لا قانونیت کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔ بھارتی سیاستدان ملک کو ذات پات کی بندشوں سے تو کیا نجات دلاتے، اس کی بجائے ملک کو ہندو ریاست بنانے کے چکر میں بھارت کا غیر مذہبی (سیکولر) ریاست کا تشخص بھی بری طرح مجروح کردیا۔ بھارت اپنے آپ کو دنیا کے سامنے ایک خالصتاً سیکولر سٹیٹ بنا کر پیش کر نے کی کوشش کر تا رہا ہے لیکن بابری مسجد کے انہدام ،گولڈن ٹمپل اور سب سے بڑھ کرمسئلہ کشمیر جیسے مسائل نے اسکے چہرے سے سیکولر پن کا نقاب اتار پھینکا ہے۔ بھارت میں ماؤ نواز تنظیموں کے کارکنوں پر جو ظلم وستم کیا جارہا ہے اس کی مثال ہندوستان کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ برہمن سامراج کے خونیں پنجوں میں جکڑے بھارتی حکمران طبقے نے نہ صرف بھارت میں بسنے والے مسلمان ،سکھ اور عیسائیوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے بلکہ نچلی ذات کے ہندو بھی اُنکی انسانیت سوز حرکتوں سے محفوظ نہیں ہیں۔

یہ بھارت ہی ہے،جسکے ’’نیتاؤں‘‘ نے ’’مہان بھارت‘‘ کا خوشنما نعرہ دے کر اپنی ’’جنتا‘‘ کو ایک عرصہ سے بیوقوف بنا رکھا ہے،جس کا مطلب اور مقصد اسکے علاوہ اور کچھ نہیں کہ اختیار اور اقتدار کے مزے اور اللے تللے ایک مخصوص ’’سیاسی برہمن‘‘ طبقے تک ہی محدود رہیں، باقی جنتا جائے بھاڑ میں! اس سے کسی کو کچھ غرض نہیں کہ ایک ارب سے زیادہ بھارتی اب بھی خطِ غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھارت کو مہان بھارت بنانے کیلئے کبھی مریخ پر (ناکام) مشن بھیجنے جیسے شوشے چھوڑے جاتے ہیں تو کبھی سلامتی کونسل میں ویٹو کے ’’عہدہ جلیلہ‘‘ پر اپنا حق جتایا جاتا ہے، کبھی سول جوہری توانائی کے حصول کے نام پر علاقے میں چودھری بننے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی بہانے بہانے سے علاقے میں امن کیلئے کی جانیوالی کوششوں کو ناکام بنانے کی سعی لاحاصل کی جاتی ہے۔

بھرپور جنگی اور عسکری جنون کے باوجود بھارت کے زیادہ تر سیاسی کھلاڑیوں نے عالمی سیاست میں نہ صرف مات کھائی بلکہ مقامی سیاست میں بھی کئی جگہوں پر اُنہیں شہ مات ہوئی۔چین کے سامنے تو بھارت نے بہت پہلے ہی گھٹنے ٹیک دیے تھے، لیکن سری لنکا سے لیکر نیپال تک اور مالدیپ سے لیکر بھوٹان تک بھی بہت سے معاملات میں بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔بھارتی شہ پر سری لنکا میں شروع کی جانیوالی دہشتگردی کے خاتمے میں مدد پر سری لنکن قوم اگر آج پاکستان کی شکر گزار اور احسان مند دکھائی دیتی ہے تو یقینا بھارت کو یہ بھی پسند نہیں، بلکہ بھارت اسے اپنی خفت سمجھتا ہے، غالبا اسی خفت کو مٹانے اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو ناکام بنانے کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ میں تیس کروڑ ڈالر سے خصوصی ڈیسک قائم کردیا گیا ہے۔ یہ ڈیسک اپنی مذموم کارروائیوں سے علاقے میں کیا اودھم مچائے گا، اس کا پہلا ٹریلر تو نلتر واقعہ کے بعد منفی پراپیگنڈا کی صورت میں دیکھنے کو ملا، لیکن دوسرا اور خوفناک ٹریلر کراچی میں بس پر فائرنگ کی صورت میں پچاس کے قریب معصوم افراد کے جانوں کے ضیاع کی صورت میں پیش کیا جاچکا ہے۔ خدشہ ہے کہ اس ڈیسک کے مکمل فعال ہونے کے بعد پاکستان کیخلاف مذموم اور منفی پراپیگنڈا مہم ہی تیز نہیں ہوگی بلکہ آنیوالے دنوں میں پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں میں بھی مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

قارئین کرام!! عالمی سیاست کے پٹے ہوئے کھلاڑیوں کو شاید یہ علم نہیں کہ بڑے ملک میں ٹیلنٹ ہی زیادہ نہیں ہوتا،بلکہ اسکے مسائل کا بوجھ بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے اور بھاری کشتی ڈوبنے میں بھی جلد کرتی ہے، بھاری مسائل کے بھنور میں گھری بھارتی کشتی بھی ڈوبنے کو ہے، جس کاخوف اور خدشہ اب بھارت میں بھی محسوس کیا جانے لگا ہے۔ مثال کے طور پر بھارتی انتخابات سے پہلے اُس وقت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی سے جب بی جے پی کی ممکنہ جیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انتھونی نے کہا تھا کہ اگر عام چناؤ میں بھارتی جنتا پارٹی جیت گئی تو بھارت بہت جلد ٹوٹ جائیگا۔ بی جے پی کے جیت کے بعد بھارتی سرکارنے اپنے حالیہ اقدامات سے جس طرح اندرونی مسائل سے توجہ ہٹاکر علاقے میں منافرت، مخاصمت اور تعصب کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی ہے، اس سے تو لگتا ہے کہ اراکاپرامبل کورین(اے کے) انتھونی کی نریندرا مودی کے بارے میں کی جانے والی پیش گوئی درست ثابت ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں