.

باقی آپ کی مرضی بھائی صاحب !…

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ روز ایک دوست غریب خانے پر تشریف لائے اور آتے ہی ہاتھ فاتحہ خوانی کیلئے فضاء میں بلند کردیئے۔ میں نے بھی ان کی پیروی کی اور ایک دفعہ الحمدشریف اور تین دفعہ قل شریف پڑھ کر اس مرحوم کی مغفرت کی دعا کی جس کے بارے میں، میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ دعا سے فارغ ہوئے تو اس نے کہا ’’بہت دکھ ہوا، ہوا کیا تھا انہیں ؟‘‘ تب مجھ سے نہ رہا گیا ، سو میں نے پوچھا ’’آپ کس کی بات کر رہے ہیں !‘‘بولے ’’آپ کی سب سے بڑی ہمشیرہ کی وفات ِ حسرت آیات کا پتہ چلا تھا، کیا وہ بیمار تھیں !’’میں نے اپنے دلی جذبات کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’برادر، ان کی وفات کو آٹھ برس گزر چکے ہیں !’’بولے ‘‘ میں مصروف رہا آج وقت ملا سوچا آپ سے تعزیت اور مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت کر آئوں، دعا تو کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے !‘‘ اس کے بعد وہ اٹھے اور ہاتھ ملا کر رخصت ہو گئے ۔معلوم ہوا کہ وہ میرے ایک ہمسائے سے ملنے آئے تھے، سو انہوں نے سوچا کیوں نہ میری ہمشیرہ کے لئے دعائے مغفرت بھی کرتے جائیں کہ دعا تو کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے !

اور ایسا صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہوا ایسا سب کے ساتھ ہوا ہے، کوئی صاحب اپنے بیٹے کی شادی اور ولیمے وغیرہ سے فارغ ہو کر دوسرے شہروں سے آئے ہوئے عزیزواقارب کے ساتھ خوشگوار ماحول میں گپ شپ کر رہے ہوتے ہیں کہ اس دوران اچانک ایک تعزیت کنندہ نمودار ہوتا ہے اور ان کے کسی ایسے عزیز کے لئے فاتحہ خوانی شروع کرتا ہے جس کی وفات کو اتنا عرصہ گزر چکا ہوتا ہے کہ اگر وہ نیک تھا تو قبر میں ٹھنڈی ہوائوں کا لطف اٹھا رہا ہو گا اور یوں اسے اس دعا کی کچھ زیادہ حاجت نہیں رہی ہو گی اور اگر گنہگار تھا تو اس کی ’’چھترول‘‘ ہو چکی ہو گی اور یوں یہ فاتحہ خوانی زیادہ سے زیادہ اس کے اتنے کام آئے گی کہ چھتر مارنے والے فرشتے ذرا ہاتھ ہولا رکھیں گے! اول تو مروت کی وجہ سے ان سے پوچھا نہیں جا سکتا کہ بھائی صاحب آپ اتنے عرصے بعد رنگ میں بھنگ ڈالنے کیوں تشریف لائے ہیں اور اگر کوئی بدلحاظ میزبان پوچھ ہی بیٹھے تو ’’فاتحہ خوان‘‘ کہے گا دراصل عمرے کے لئے گیا تھا اور وہاں کچھ ایسا سرور محسوس ہوا کہ واپس آنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا، چنانچہ جان پہچان کام آئی اور ویزے میں توسیع کراتا رہا ۔یہ تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ موصوف کسی فراڈ کیس میں ایک سال جیل میں گزار کر آئے ہیں۔

فاتحہ خوانی کرنے والوں کے میں نے اور بھی کئی ’’کرتب‘‘ دیکھے ہیں۔ ایک دفعہ بازار سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ پندرہ بیس لوگ ایک جگہ کھڑے فاتحہ پڑھ رہے ہیں میں بھی ان میں شامل ہو گیا، فراغت پر میں نے ایک صاحب سے پوچھا کیا مسئلہ ہے ؟ اس نے کہا اللہ بہتر جانتا ہے ،میں ادھر سے گزر رہا تھا ، لوگ دعا مانگ رہے تھے میں بھی ان میں شامل ہوگیا، دوسرے سے اور پھر تیسرے سے، چوتھے سے پوچھا تو سب نے یہی جواب دیا، بالآخر میں ’’کھڑا‘‘ ماپتے ماپتے اصل شخص تک پہنچ گیا،میں نے اس سے پوچھا کیا ماجرا ہے! اس نے کھنچے ہوئے چہرے سے جواب دیا میں اس دکان پر اپنے لئے بنیانیں اور انڈرویئر خریدنے آیا تھا اتنے میں ایک صاحب میرے پاس آئے اور بولے ’’مجھے پتہ چلا کہ آپ کی پھوپھی صاحبہ کی ایک کزن کی بیٹی چند برس پیشتر ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئی تھی، فاتحہ کے لئے ہاتھ اٹھائیں‘‘ میں نے اٹھا دیئے، سڑک پر سے گزرتے ہوئے لوگوں نے میری پیروی کی جن میں شاید آپ بھی شامل ہیں! میں نے پوچھا ’’یہ صاحب ہیں کون ؟’’بولے ‘‘ پہلے تو میں انہیں پہچان ہی نہیں سکا تھا اب یاد آیا ہے کہ کسی زمانے میں یہ ہمارے محلے میں رہا کرتے تھے ۔

اور اب آخر میں میری بھی سن لیجئے، مجھے جب کسی دوست کے حوالے سے بری خبر ملتی ہے تو اگر وہ بہت قریبی دوست ہے تو میں پہلے اس کے گھر جاتا ہوں اور سوگوار اہلخانہ کے غم میں خاموشی سے شریک ہو جاتا ہوں، نماز جنازہ میں شامل ہوتا ہوں، اور اس کے قلوں میں بھی شرکت کرتا ہوں لیکن اگر معاملہ مرحوم سے علیک سلیک اور کبھی کبھار ملاقات کا تھا تو اس کے قلوں میں شرکت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہوں، اگر کسی بڑی مجبوری کی وجہ سے شرکت سے محروم ہو جائوں اور اس کے بعد دس بارہ دن تک بھی اس کے اہلخانہ سے تعزیت کا موقع نہ ملے تو شدید احساس جرم کا شکار ہوتا ہوں مگر زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد ہنستے ہنستے گھر کو دوبارہ ماتم کدہ بنانے کی کوشش نہیں کرتا، بس گھر بیٹھے جب بھی موقع ملتا ہے اس کے لئے دعا کرتا رہتا ہوں ۔

ہمیں معلوم ہونا چاہئے نماز جنازہ ، قل اورچہلم وغیرہ کے پیچھے ایک بہت بڑی لوک دانائی بھی ہے اور وہ یہ کہ آپ کو مرحوم کے لئے دعا اور اس کے اہلخانہ سے تعزیت کے لئے تین مواقع فراہم کئے جاتے ہیں اگر آپ نماز جنازہ میں شرکت کر سکتے ہیں تو یہ سب سے افضل فعل ہے اگر مصروفیت کی وجہ سے محروم رہے تو قلوں میں شریک ہو جائیں اور اگر بوجوہ یہ ممکن نہ ہو سکے تو چہلم میں شریک ہو جائیں ۔سوگ چالیس دن کا ہوتا ہے، ہندوئوں کے ہاں تو چالیس دن بعد بڑے بیٹے کی دستار بندی کرکے اسے دکان پر جاکر بیٹھا دیتے ہیں کہ اب دوبارہ کاروبار زندگی شروع کر دو ! مگر ہم لوگ جہاں بہت سے معاملات میں دوسروں کی سہولت کا خیال نہیں رکھتے مثلاً فون ملا دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ممکن ہے جسے آپ فون کر رہے ہیں وہ اس وقت باتھ روم میں کسی ’’مشکل‘‘ میں گرفتار ہو اسی طرح ہم تعزیتی آداب سے بھی ناواقف ہیں !

یارو!کسی کو فون کرنے سے پہلے اسے میسج کے ذریعے پوچھ لو یا فون ہی پر پوچھ لو کہ کیا اس وقت آپ سے بات ہو سکتی ہے ؟اسی طرح اگر کسی سے تعزیت کرنا ہے تو بھی پہلے پتہ کر لو تاکہ ایسا نہ ہو کہ جب آپ کا تعزیتی فون اسے ملے وہ اپنے کسی عزیز کی شادی کی تقریب میں بھنگڑا نہ ڈال رہا ہو ….باقی آپ کی مرضی
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.